تفرقہ بازی گناہ اور غیر اخلاقی جرم ہے
07 اپریل 2020 2020-04-07

آج کل میڈیا پر کوئی بھی خبر یا کالم پڑھنے، دیکھنے یا سننے کے لئے کوئی بھی شخص تیار نہیں ۔دنیا کی سب سے بڑی خبر کورونا وائرس ہی ہے۔ہر ملک اور ہر خطہ اس وباء سے بچاؤ کے طریقے سوچ رہا ہے۔لیکن اللہ جانے کہ مخلوقِ خدا پر70ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والا خالقِ کائنات کیوں اتنا ناراض ہے کہ مرض رکنے کی بجائے بڑھتا ہی جا رہا ہے۔مریضوں اور مرنے والوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔سائنسدانوں اور ڈاکٹروں کے مطابق اس مرض کا علاج صرف پرہیز ہے ۔ میں صدقے اور قربان جاؤں افواجِ پاکستان کے ایک ایک سپاہی ، اس مرض کے دوران مریضوں کی خدمت کرنے والے ڈاکٹرز اور نرسز پر جنہوں نے اتنے سخت اور خطرناک حالات میں بھی اپنا فرض نبھایا اور انتہائی محدود حالات میں بھی حالات کو سنبھالنے اور اس مرض میں اضافے کو روکنے کے لئے شبانہ ٔ روز محنت کی۔حکومتِ وقت نے بھی پوری محنت، لگن اور خلوصِ نیت سے بچاؤ کے سارے طریقے استعمال کیے انہوں نے بہت حد تک حالات کو قابو میں رکھا۔لیکن پھر اچانک ایران کی طرف سے براستہ تفتان زائرین کا ریلا آیا جس کو روکنے یا چیک کرنے کے لئے پوری توجہ نہ دی گئی اور وہ پاکستان کے ہر شہر میں گھس گئے اور اچانک ملک کے کونے کونے سے وبائی مرض کے مریضوں کی صدائیں آنے لگیں ۔زائرین کو روکنا یا ان کے انتظامات کرنا سول حکومت کا کام ہوتا ہے۔ بلوچستان حکومت خوابِ خرگوش کی نیند سوئی ہوئی تھی۔لیکن جوں ہی یہ خبر میڈیا پر چلی تو یہاں میں ایک دفعہ پھر پاک فوج کو سلام پیش کرتا ہوں کہ خبر چلنے کے ساتھ ہی جنرل محمد وسیم اشرف کمانڈر سدرن کمانڈ نے صرف چند منٹ میں فوراً ایکشن لیا۔ ہر طرف اور ہر میدان میں گھوڑے دوڑا دئیے۔ ایف سی کے اعلیٰ افسران کو سخت قسم کے احکامات جاری کئے۔ سول حکومت کو بھی احساس دلایا کہ آپ کی بھی کچھ ذمہ داری ہے۔پھر چند گھنٹوں میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر جام کمال میڈیا پر آئے ا ور زائرین کو قرنطینہ پر رکنے کے پیغامات جاری کئے۔اگر جنرل کمانڈر سدرن کمانڈ جنرل محمد وسیم اشرف اتنا جلد اور سخت ایکشن نہ لیتے تو شاید پھر بہت دیر ہو چکی ہوتی۔بلوچستان میں تو کنٹرول ہو گیا لیکن وہ کسر پنجاب نے نکال دی۔ یہاں تبلیغی جماعت کی نالائقی کی وجہ سے کورونا بہت جلد پھیلا۔تبلیغی جماعت کے لوگ ہٹ دھرم بھی کیوں نہ ہوں جب ان کی پیٹھ پر ہاتھ رکھے (ہتھ رکھے) گجرات کے چوہدری کھڑے ہوں جو حکومت کے صفِ اول کے حصہ داربھی ہوں ۔مجھے اس وقت چوہدری پرویز الٰہی کے یہ الفاظ سن کر انتہائی دکھ ہوا جب وہ ٹیلیویژن پر آ کر کہہ رہے تھے کہ تبلیغی جماعت لا وارث نہیں ہیں ۔کس نے کہا ہے کہ وہ لاوارث ہیں لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا اس فرقے کے لوگ لاوارث تھے جب کوئٹہ میں دو دفعہ 100 سے زیادہ لوگ مرتے رہے۔ پھر اسی فرقے کے لوگوں کے بسوں کے اندر شناختی کارڈ چیک کر کے بھون دیا جاتا تھا۔ مزارات پر بم برسائے گئے۔ مسجدوں ، گرجا گھروں اور مندروں پر خود کش حملے ہوئے۔ لیکن کسی نے کہا کہ ان کو کیوں مار رہے ہو۔ کیا سب فرقوں یا مذاہب کے لوگ لاوارث ہیں۔ اب افسوس فسوس اس وقت ہوا جب قوم مجرموں کی ترجمانی سابق وزیراعظم اورسابق وزیر داخلہ چوہدری شجاعت حسین اور ان کے ساتھ ان کے چھوٹے بھائی سابق نائب وزیراعظم ، آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے کے سابق وزیراعلیٰ اور اسی صوبے کے موجودہ سپیکرچوہدری پرویز الٰہی ترجمانی کر رہے ہوں اور ببانگ دہل میڈیا پر کہہ رہے ہوں کہ ان لوگوں کو لاوارث نہ سمجھا جائے۔ سب سے زیادہ افسوس کی بات اس لئے ہے کہ پاکستان کے انتہائی معتبر ، دوراندیش ، ذہین اور معاملہ فہم سیاسی رہنما چوہدری ظہور الٰہی کی اولاد اس قسم کے غیر ذمہ دارانہ اور مذہب میں تفرقہ بازی کے بیانات دے رہے ہیں۔ اگر اتنے بڑے عہدوں پر براجمان لوگ اس قسم کے غیر ذمہ دارانہ بیان دیں گے تو پھر ان سے اگلا سوال یہ ہے کہ اگر تبلیغی جماعت کے لوگ لاوارث نہیں ہیں توکیا ہم باقی فرقوں ، مذہبی جماعتوں کے کارکنوں اور پاکستان کے عام شہریوں کو لاوارث سمجھیں جن کو اس موذی اور جان لیوا مرض سے بچنے کے لئے گزشتہ کئی دنوں سے گھروں میں روک رکھا ہے۔ ہر شخص، ہر فرقے اور ہر مذہب کو قانون اور آئین تحفظ دیتا ہے۔جب تبلیغی جماعت کے لوگوں کوقانون کی پابندی کرنے کو کہا گیا اوروہ جب قانون کی بات پر عمل نہیں کریں گے تو پھر قانون تو حرکت میں آئے گا۔ ہمارا دین اور ہمارا آئین کہتا ہے کہ ملک کے عوام کی جان و مال کو بچانااور اس کی حفاظت کرنا حکومتِ وقت کی ذمہ داری ہے۔سپیکر نے تو پورے ہاؤس کو چلانا ہوتا ہے جس میں تمام مسالک اور تمام مذاہب کے لوگ موجود ہوتے ہیں ۔جہاں قانون بنتے ہیں ان کا سربرا ہ ہی اگر ایسا غیر ذمہ دارانہ بیان دے گا تو پھر ہم کیا یہ توقع کر سکتے ہیں کہ دوسرے مسالک کے لوگ اسی طرح ڈنکے کی چوٹ پر بیان بازی نہیں کریں گے۔ایسے بیانات سب سے پہلے تو اسلام کے لئے زہر قاتل ہیں ،اس کے بعد پاکستان کے لئے شدید خطرناک ہیں ۔ پرویز الٰہی نے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک دو تھانے کے تھانیداروں پر تو رعب جمالیا لیکن اب بھی اگر تبلیغی جماعت کے لوگ اسی طرح جتھوں کی صورت میں مسجدوں میں گھسیں گے تو پولیس سے زیادہ وہاں کی مقامی آبادی کے لوگ ان کو ماریں گے۔کیونکہ جان بچانا فرض ہے اور پھر اب تو صرف اپنی جان نہیں بلکہ اپنے خاندان، اپنے رشتہ داروں ، اپنے پڑوسیوں ، اپنے گلی ، محلے، گاؤں کے لوگوں کی جانیں بچانے کے لئے کوششیں کرنی ہیں ۔اس کے ساتھ اپنے ملک اور تمام کائنات کے انسانوں کی جان بچانے کے لئے اقدامات کرنے ہیں ۔یہ کیسے ممکن ہے کہ ہر انسان ان پابندیوں پر عمل کر رہا ہو اور ایک خاص جماعت کے لوگ اس پر عمل نہ کرکے پورے ملک کے لئے وبالِ جان بن جائیں ۔آئین پاکستان ، آئین اسلام اور آئین قرآن میں ہر جگہ لکھا ہوا ہے کہ اپنے قانون کا احترام کرو اور وقتِ حاکم کے احکامات پر عمل کریں ۔حرمین شریفین بند ہیں ۔حج عمرے اور زیارات سب بند ہیں ۔ایک اس جماعت کے ترجمان کیوں اور کیسے ان کا دفاع کرنے نکل آئے ہیں ۔چوہدری برادران کو اپنے اس جذباتی اور جوشیلے بیان پر حکومت اور عوام سے معافی مانگنی چاہیے ۔ وزیراعظم پاکستان ، وزرائے اعلیٰ اور پاکستان آرمی چیف ٹیلی ویژن پر آ کر واضع احکامات جاری کریں کہ کسی کا کسی بھی جماعت سے تعلق ہو اگر وہ قانون پر عمل نہیں کرے گا تو اس سے آہنی ہاتھوں نبٹا جائے گا۔آئندہ کے لئے کوئی بھی سیاسی رہنما خاص طور پر حکومت میں شامل کوئی بھی شخص اس قسم کی بیان بازی نہ کرے۔یقین کریں اگر ایسے ذمہ دار لوگوں کی طرف سے ایسی بیان بازی کی گئی تو نہ صرف پاکستان بلکہ پوری امتِ مسلمہ میں نہ بجھنے والی تفرقہ بازی کی آگ کے شعلے بہت دور سے نظر آئیں گے۔قانون نافذ کرنے والوں کو اپنی ذمہ داری نبھانے کی چھوٹ دی جائے اگر کسی بھی مسئلک یا کسی بھی مذہب کے لوگ حکم عدولی کریں تو ان پر انتہائی سختی کر کے اس پر عمل کرایا جائے۔چوہدری صاحب ہم بھی آپ کے ملک کے رہنے والے لوگوں میں شامل ہیں ۔ ایک جماعت کے ووٹ لینے یا انہیں خوش کرنے کے لئے ہمارے بچوں ، نوجوانوں ، جوانوں ، بوڑھوں اور خواتین پر قاتلانہ حملے نہ کرائیں ۔کورونا جیسی جان لیوا وباء (جس نے پوری دنیا کو بے بس کر دیا)پھیلانے والوں کا بموں سے دہشت گردی پھیلانے والوں سے کم جرم نہیں اور یہ بھی ایک باقاعدہ دہشت گردی ہے۔چوہدری برادران باقاعدہ میڈیا پر آ کر اپنی اس جذباتی اور جوشیلی تقریر پر قوم ، خاص طور پر کورونا وائرس کے مریضوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے معافی مانگیں ۔


ای پیپر