بدقسمت عوام کے غریب حکمران
07 اپریل 2020 2020-04-07

سخت سردی میں جنگل کے بادشاہ نے بھیڑوں کو اکٹھا کر کے ایک تاریخی خطاب فرمایا۔ میرے عزیز ہم وطنو۔ یخ بستہ ہواؤں نے آپ کے ملک میں ڈیرے ڈال لئے ہیں۔ میری خواہش ہے کہ میں تمہارے لئے اون کی شالیں بناؤں تاکہ تم انہیں اوڑھ کر اس سخت سردی سے محفوظ رہو۔ بادشاہ کا یہ اعلان سن کر مجمعے میں موجود ایک بزرگ بھیڑنے سر مشکل سے اوپر کی طرف اٹھاتے ہوئے کہا۔ بادشاہ سلامت اس تاریخی اعلان پر آپ کا شکریہ۔ لیکن یہ بتائیں شال بنانے کے لئے آپ اون کہاں سے لائیں گے۔۔؟ بادشاہ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔ آپ کو تھوڑی سی قربانی دینی ہو گی۔ اس کے ساتھ ہی بادشاہ سلامت نے بھیڑوں سے اون لینے کے لئے اپنی چادر بچھا لی۔ بھیڑوں کا سچ میں جنگل کے کسی ایسے بادشاہ سے واسطہ پڑا یا نہ۔۔؟ لیکن اس ملک اور قوم کا پچھلے ستر سالوں سے ایسے رحمدل اور عوام کا درد دل رکھنے والے بادشاہوں سے واسطوں پر واسطے ضرور پڑ رہے ہیں جو اس قوم کو شالیں بنانے کے لئے وقتاً فوقتاً اپنی چادریں بچھاتے رہتے ہیں۔ ہمیں اچھی طرح یاد ہے جنگل کے اس بادشاہ کی طرح اس ملک میںبھی ہمارے ایک بادشاہ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد عوام سے اسی طرح کا ایک تاریخی خطاب فرماتے ہوئے کہا تھا کہ ۔عزیز ہم وطنو۔ آپ کے حالات ٹھیک نہیں، آپ ترقی سے روز بروز دور ہوتے جا رہے ہیں۔ میری خواہش ہے کہ میں آپ اوراس ملک کوایشین ٹائیگربنائوں۔پھرملک کوایشین ٹائیگربنانے کے لئے اس زمینی بادشاہ نے قرض اتاروملک سنوارومہم شروع کرکے اپنی چادرعوام کے سامنے بچھالی تھی کہ ملک کوایشین ٹائیگربنانے کے لئے اب آپ ہی تھوڑاتھوڑاتعاون کردیں۔اس کے بعدتوملک میں چادربچھانے کانہ ختم ہونے والاایک سلسلہ شروع ہوا۔جنگل کے بادشاہ نے توکہیں ایک بارہی چادربچھائی ہوگی لیکن یہاں کے بادشاہوں نے تونہ صرف گرم شالیں بنانے کیلئے بلکہ ہسپتال،سکول،سیلاب،زلزلہ اورڈیم تک ہرشئے کے لئے چادروں پرچادریں بچھائیں ۔کچھ عرصہ پہلے بھی ایک بادشاہ نے عوام کواکٹھاکرکے کہاکہ دنیامیں پانی کابڑابحران ہے۔آئندہ نہ صرف جنگیں پانی کے لئے لڑی جائیں گی بلکہ لوگ پھرایک ایک بوندکوبھی ترسیں گے۔اس لئے میں آپ کے لئے ایک ڈیم بناناچاہتاہوں ۔اس کے لئے آپ کوتھوڑی سی قربانی دینی ہوگی۔پھردنیانے دیکھاکہ ڈیم بنانے کے لئے بھی اس ملک میں چادربچھی وہ الگ بات کہ اس ڈیم کاآج تک پھر کوئی اتہ پتہ نہیں چلا۔ہمارے اس موجودہ بادشاہ نے توحدکرکے جنگل کے اس بادشاہ کی بھی حقیقت میں یادتازہ کردی ہے۔ اس وقت کروناوائرس نے پاکستان سمیت

تقریباً2سوممالک کومتاثرکرکے اکثرممالک میں نظام زندگی بری طرح مفلوج اورپہیہ تک جام کر دیا ہے۔ لاک ڈائون اورکرفیوکے باعث کئی شہروں میں عوام گھروں تک محدودہوکررہ گئے ہیں۔پاکستان میں بھی پچھلے کئی ہفتوں سے گلی ،محلوں،بازاروں اورشاہراہوں پرمکمل طورپرہوکاعالم اورہرطرف ایک انجان ساخوف طاری ہے۔روٹی کی فکرکے ساتھ اب لوگوں کے ماتھوں پرکروناکاخوف دیکھ کربعض نہیں بلکہ اکثراوقات تو سخت سے سخت اور پتھر دل انسان کوبھی ڈرمحسوس ہونے لگتاہے۔باہرکی دنیاکے لئے تولاک ڈائون اورکرفیوکوئی بڑی بات نہیں ہوگی لیکن ایک نوالے کوپوراکرنے کے لئے ہرروزایک ایک دانہ چننے والے غریبوں کے لئے لاک ڈائون اور کرفیو،، کرونا،،سے کوئی کم یاچھوٹا عذاب نہیں۔ایک وقت کی روٹی کے لئے دردرکی خاک چھاننے والوں سے ہی کوئی پوچھے کہ،، کرونا،،زیادہ خطرناک ہے یابھوک وافلاس۔کروناسے کوئی بچے یانا۔۔؟لیکن بھوک وافلاس سے توکوئی زندہ نہیں بچتا۔ یہ بھوک بھی توانسان کوتڑپاتڑپاکے ماردیتی ہے۔ بھوک ہوتوپھرانسانیت بھی یادنہیں رہتی۔بھوک ہوپھرنیندبھی تو قریب نہیں آتی۔بھوک ہوتوپھرماں باپ اوربچے کیاکہ انسان اپنے سائے سے بھی کترانے لگتاہے۔بھوک ہو تو پھر کرونا جیسی وبائوں اورحکمرانوں کی سخت ادائوں سے بھی ڈرنہیں لگتا۔ملک کی اکثریت جوغرباء پرمشتمل اوراکثرسے بھی زیادہ جوخط غربت سے نیچے زندگی گزاررہے ہیں اس وقت کروناوائرس کے ساتھ بھوک وافلاس کے کروناسے بھی دوچارہے۔عوام کی وہ اکثریت جنہیں دووقت کاکھانابھی بڑی تگ ودد،محنت ،جدوجہد اور قربانیوں کے بعد ملتا ہے۔ لاک ڈائون کے باعث اس وقت گھروں میں قید اور چار دیواریوں تک محدود ہے۔ محنت، مزدوری اورکام کاج نہ ہونے کی وجہ سے ان کے لئے دوکیا۔۔؟ اب ایک وقت کی روٹی یا ایک نوالے کاحصول بھی مشکل اور ناممکن ہو گیا ہے۔ عوام کے اس حال کی وجہ سے ہی توہمارے بادشاہ یعنی وزیراعظم صاحب کوجنگل کے بادشاہ کی طرح عوام سے یہ دھواں دار اور ایک تاریخی خطاب کرناپڑا کہ۔ میرے ہم وطنو۔ کرونا وائرس کی وجہ سے کام کاج بنداورآپ گھروں تک محدود ہوکررہ گئے ہیں۔مجھے اندازہ ہے کہ آپ کے پاس کھانے پینے کے لئے کچھ نہیں اورآپ مشکل سے شب وروزگزاررہے ہیں ۔اس لئے میں چاہتاہوں کہ آپ کے گھروں تک راشن پہنچایاجاسکے۔اس بوڑھے بھیڑکی طرح توکسی نے بادشاہ سلامت سے یہ نہیں پوچھاکہ بادشاہ سلامت یہ راشن ہمارے گھروں تک کس طرح پہنچے گا۔۔؟لیکن اللہ بھلاکرے وزیراعظم صاحب کاانہوں نے تاریخی خطاب کے آخرمیں اکائونٹ نمبردے کرطریقہ خودبتادیاکہ اس کے لئے آپ ہی تھوڑاتھوڑاتعاون کریں گے۔اس ملک میں کرپٹ اورچورحکمرانوں وسیاستدانوں کے لئے تو وسائل کاکبھی کوئی مسئلہ نہیں رہا۔حکمرانوں وسیاستدانوں کی عیش وعشرت ہو۔بیرون ممالک علاج ہو۔تفریحی دورے ہوں۔تنخواہوں اورمراعات میں اضافہ ہو۔ان کی شوگروفلورملزکے لئے سبسڈی ہو۔تاج محلوں میں طوطوں کے لئے پنجرے بنانے ہوںیاپھران کے گھوڑوں اورگدھوں کومربے کھلانے ہوں ۔اس کے لئے توانہوں نے نہ کبھی کوئی چادربچھائی اورنہ ہی کسی اکائونٹ کاکبھی کوئی ذکرکیالیکن بات جب بھی غریبوں کی آتی ہے تو یہ جنگل کے بادشاہ کی طرح عوام کے ہی اون سے ان کے لئے شالیں بنانے کے لئے،،اللہ کے نام پردوبابا،،کی صدائیں بلندکرکے چادربچھاناشروع کردیتے ہیں۔حقیقت میں تویہ کروناسے بھی زیادہ خطرناک ہیں۔آج ان حالات میں عوام سے چندہ مانگنے کی بجائے چاہئیے تویہ تھاکہ حکمران اورسیاستدان جو71سالوں سے اس ملک اورقوم کولوٹتے آئے ہیں وہ آج ان مجبوراورغریب عوام کواپنے اکائونٹ نمبردیتے کہ مشکل کی اس گھڑی میں ہمارے اکائونٹ اورخزانوں سے جتنافائدہ اٹھاسکتے ہواٹھالولیکن افسوس یہ ظالم آج بھی عوام کے پیسوں سے ہی عوام کے لئے شالیں بنانے کے چکرمیں پڑے ہوئے ہیں ۔بھیڑکے اون سے بھیڑکے لئے شال بناناکوئی بڑی بات نہیں۔کمال یہ ہے کہ اپنی چادربھیڑپرڈال دی جائے۔ہمارے حکمرانوں نے اس ملک اورقوم کے ساتھ مذاق بہت کیا۔آج مذاق کاوقت نہیں ۔قوم اس وقت مشکل دورسے گزررہی ہے۔کروناوائرس بھلے حکمرانوں کے لئے مانگنے کاایک ذریعہ اوروسیلہ ہولیکن یہ اس غریب قوم کے لئے کسی بڑے عذاب اورامتحان سے ہرگزکم نہیں ۔کروناکی وجہ سے پوراملک بنداورکاروبارتباہ ہوچکے۔لوگوں کے پاس کھانے کے لئے بھی کچھ نہیں ۔باہراگرکروناکی صورت میں موت تاک لگائے بیٹھی ہے توغریب کی جھونپڑیوں کے اندربھی موت بھوک وافلاس کی شکل میں غریبوں کے سروں پرہروقت تلوارکی طرح لٹک رہی ہے۔اللہ کسی دشمن پربھی ایساوقت کبھی نہ لائے۔ حکمران سترسال سے اس ملک میں چادروں پرچادریں بچھارہے ہیں ۔یہ چندے وندے بعدمیں بھی جمع ہوجائیں گے۔اس مشکل صورت حال میں حکمرانوں کواپنے گھراورخزانوں کے منہ کھول کرآگے بڑھناچاہیئے۔سترسال سے ملک کودیمک کی طرح کاٹنے اورچاٹنے والوں نے قیامت کی اس گھڑی میں اگرقوم کی مددنہیں کی تویہ پھرکب غریبوں کے کام آئیں گے۔اس لئے کسی امداداورفنڈکے لئے غریبوں کی خالی جیبوں کی طرف دیکھنے کی بجائے ہمارے حکمرانوں اورسیاستدانوں کو اپنی طرف سے کچھ کرناچاہیئے۔سترسال سے انہوں نے غریبوں کولوٹا۔اب اگرایک باریہ اسی لوٹ مارمیں سے غریبوں پرکچھ خرچ کردیں تواس سے کونسی قیامت آجائے گی۔۔؟


ای پیپر