کس کی بادشاہی ہے؟
07 اپریل 2020 2020-04-07

ایک مغرب زدہ ’’نابغۂ روزگار‘‘ نے اپنی ذاتی محافل میں کئی بار کہا کہ گورا موت ختم کرنے کی جہد مسلسل میں ہے۔ آج کل مجھے اس کا یہ فقرہ ’ایک وقت آئے گا کہ موت ختم ہو جائے گی‘ بہت یاد آ رہا ہے جبکہ آج گورے کالے ، حاکم محکوم، قوی اور کمزور سب برابر ہوئے پڑے ہیں۔ گورے سڑکوں پر سجدہ ریز ہو گئے۔ اللہ کو سجدہ تو درخت بھی کرتے ہیں اور کائنات کی ہر مخلوق اللہ کی تسبیح بیان کرتی رہتی ہے۔ فرشتے اور انسان کے علاوہ مخلوقات اس کے گھر کا طواف اور میرے آقاؐ پر درود و سلام بھیجتے رہتے ہیں اور موصوف چلا موت ختم کرانے جبکہ کوئی مائی کا لعل انسان کی ڈھلتی ہوئی جسامت کو نہیں روک پایا۔ مجھے یاد آیا حضرت محمد علیؒ باکسر میرے آئیڈئل تھے پوری دنیا کے مسلمان اور غالباً انسان نہ صرف انہیں جانتے بلکہ ٹوٹ کر محبت بھی کرتے تھے۔ دنیا میں ان کی عزت باکسر کے طور پر تو تھی ہی مگر دینی اور انسانی خدمات اور ان کے اقوال ان کو امر کر گئے۔

ان کی چند منٹ کی تقریر ہے جو تمام ذاکرین ، علماء، پادریوں اور پنڈتوں کے لمبے لمبے خطبوں پر ہاوی ہے۔ دنیا کا سب سے طاقتور اور کلین شیو انسان مگر میرے آقا کریمؓ کا امتی محمد علی ؒ فرماتے ہیں ’’خدا کو ملنے کے لیے تیار ہو جاؤ، زمینیں، جائیدادیں ، کاروبار، باکسنگ سکھانا تمہیں جنت میں نہیں لے جائے گا، خدا مجھے دیکھ رہا ہے، خدا میری اس لیے تعریف نہیں کرے گا کہ میں نے جو فریزئر کو شکست دی تھی، خدا کو برطانیہ اور امریکہ کی کوئی پرواہ نہیں جو ہمارے پاس مال ہے سب اسی کا ہے، وہ یہ جاننا چاہتا ہے کہ ہم دوسروں کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں لہٰذا میں اپنی زندگی، اپنا نام شہرت دولت ضرورت مندوں کی مدد کے لیے وقف کر رہا ہوں۔ لوگوں کی مدد کے لیے ان کو اکٹھاکرنے کے لیے، مذہبوں کے اختلاف کی وجہ سے لوگ ایک دوسرے کو بم مار رہے ہیں۔ ہمیں ایک ایسے شخص کی ضرورت ہے جو دنیا میں امن قائم کر سکے جب میں مر جاؤں گا اگر میرے لیے جنت ہے تو میں اسے دیکھنا چاہوں گا کیونکہ ہم کتنا عرصہ زندہ رہ سکتے ہیں۔ مشکلات ہر گھر میں ہیں تم میں سے کچھ اب سے 20 سال بعد مر جائیں گے۔ کچھ 50 سال بعد اور کچھ 30 سال بعد کچھ 60 اور 70 سال بعد مر جائیں گے۔ ہم سب جلد ہی مر جائیں گے۔ ہم ایک دن چلے جائیں گے یہ زندگی تو ایک متحان ہے کہ ہم اپنی اخروی

زندگی کہاں گزاریں گے جنت میں یا جہنم میں، ہمیں ایک دن چلے جانا ہے۔ یہ زندگی اصل زندگی نہیں ہے۔ تمہاری خودی تمہارے اندر ہے۔ تمہارا جسم بوڑھا ہو جاتا ہے۔ تم میں سے کچھ دیکھیں گے کہ ان کے دانت نہیں ہیں۔ تمہارے بال تمہارا ساتھ نہیں دیتے۔ تمہارا جسم تھک جاتا ہے مگر تمہاری خودی اور تمہاری روح کبھی نہیں مرتی۔ تمہارا جسم تو محض تمہاری روح کا گھر ہے۔ خدا ہمارا امتحان لے رہا ہے یہ دیکھنے کے لیے کہ ہم دوسروں کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں کہ ہمارا اصل گھر جنت میں یا جہنم میں ہے۔ یہ مادی جسم تو زیادہ دیر نہیں چلے گا۔ میری گاڑی میری جائیداد یہیں رہ جانی ہے۔ میری یہ گاڑی جس شخص نے بنائی ہے وہ بھی مر جائے گا، بہت سے بادشاہ آئے ملکہ آئیں ، سب مر گئے جب ایک چلا جاتا ہے تود وسرا آ جاتا ہے۔ ہم بذات خود کسی چیز کے مالک نہیں ہیں۔ یہ گھر ، یہ گاڑی میری نہیں ہم تو محض امین ہیں۔ حتیٰ کہ تمہارے بیوی اور بچے بھی تمہارے نہیں ہیں تو میں یہ کہہ رہا ہوں جو زندگی کے بارے میں سب سے اہم ہے وہ یہ بات ہے کہ کیا ہو گا جب تم مر جاؤ گے؟ تو تمہارا کیا بنے گا، تم جنت میں جاؤ گے یا جہنم میں اور یہی ابدی زندگی ہے۔ دنیاوی زندگی کب تک؟

تو میں کہنا چاہتا ہوں کہ ریٹائرمنٹ کے بعد میں جو کام کرنے جا رہا ہوں۔ میرے پاس اپنی آخرت کے لیے 16 سال ہیں کہ میں اپنے خدا سے ملنے کے لیے تیار ہو جاؤں‘‘۔ مجھے محمد علیؒ باکسر کی وصیت نے بھی بہت متاثر کیا ۔ انہوںنے کہا کہ ’’مرنے کے بعد مجھے میرے آبائی شہر لے جایا جائے اور ان کا جنازہ/ تابوت کی گاڑی کو شہر میں گھمایا جائے‘‘ اور پھر ان کی وصیت کے مطابق ان کی آبائی درسگاہ کے میدان میں نماز جنازہ پڑھائی گئی جہاں انہوں نے پہلا مقابلہ اور ٹائٹل جیتا تھا۔اللہ اللہ! کہ دیکھنے والے دیکھ سکیں کہ دنیا کو زیر کرنے والا یہ ولی اللہ ، یہ مومن ساری دنیا فتح کر کے آج ساکت اسی میدان میں تابوت میں پڑا ہے ۔ گویا ان کی پوری زندگی تبلیغ بن گئی۔ فرماتے ہیں کہ ’’جب کبھی میرا گناہ کرنے کو دل چاہا میں نے ماچس کی تیلی جلا کر انگلی کو لگائی جس کی آگ برداشت نہ کر سکتا تھا تو سوچتا کہ جہنم کی آگ کا میں کیسے متحمل ہو سکوں گا‘‘۔ دراصل ساری بات ایمان اور یقین کی ہے۔ اگر ہمارا آخرت پر ایمان ہے تو پھر اللہ اور اس کے رسولوں پر بھی ایمان ہے اور اگر آخرت پر یقین نہیں تو پھر کچھ بھی نہیں ہے اور اگر آخرت ہے تو پھر دنیا کی حقیقت اللہ کے نائب کے طور پر جدوجہد اعمال صالح اور انسانوں کے ساتھ نیک سلوک کے علاوہ اور کیا ہے؟

حضرت مولانا رومیؒ حضرت علی کرمؓ اللہ وجہہ کے بیان کو نقل کرتے ہیں:

حضرت علی ؓ نے فرمایا ’’میں دن رات اپنے دشمنوں کو دیکھتا ہوں اور مجھے بالکل غصہ نہیں آتا کیونکہ مجھے موت بھی زندگی کی طرح اچھی لگتی ہے۔ میری موت نے میری زندگی کو مضبوطی سے پکڑا ہوا ہے۔ بے نوائی کا سامان ہمارے لیے اللہ کا عطیہ ہے۔ موت کافروں کے لیے باعث خوف اور مومن کے لیے باعث امن ہے۔ جیسے کہ دریا بطخ کے لیے قوت کا سبب اور مرغ کے لیے کمزوری کا سامان ہے۔ اس کا ظاہر موت اور باطن زندگی ہے۔ بچے کا ماں کے پیٹ سے پیدا ہونا اس کا اِس دنیا کی طرف انتقال ہے‘‘۔

گویا! موت اس دنیا سے اخروی زندگی کی طرف مراجعت ہے دنیا میں جو لوگ معاذ اللہ میرے رب العالمین پر ایمان نہیں رکھتے وہ کیسے سوچ سکتے ہیںکہ جس نے کائنات ڈیزائن کی، مخلوقات پیدا کیں۔ اس نے بدلے کا کوئی دن نہیں رکھا ہو گا۔

کیا آج دنیا کی فضاؤں میں سناٹے کے باوجود آواز محسوس نہیں ہوتی کہ ’’اس کی کرسی آسمانوں اور زمینوں کو گھیرے ہوئے ہے ،ان دونوں کی نگہداشت اللہ پر گراں نہیں گزرتی۔ کیا اللہ کی بادشاہی کے علاوہ کسی کی بادشاہی باقی ہے؟ اللہ بہت جلد راضی ہو جاتا ہے ، ندامت کے آنسو اس کے قہر کو ٹھنڈا کر دیتے مگر ہم ہیں کہ باز نہیں آ رہے۔ قیامت ٹوٹ گئی پیاروں کی لاشیں تک نہیں مل رہیں اور حکمران اللہ کی پناہ صرف سیاست سیاست اور سیاست جبکہ چال میں اکڑ ایسی جیسے اگلے ہفتے دنگل ہے اور تقریریں ایسے جیسے کسی سیاسی پارٹی نہیں گفتگو روڈ چیئرمین ہیں۔ کالم کو معروف شاعرہ محترمہ ناز بٹ کے اس شعر سے مکمل کرتا ہوں۔

چلو! گریہ کریں مل کر

خطاؤں پر ، گناہوں پر

در توبہ پہ اذنِ حاضری مانگیں

چلو پھر بارگاہِ ایزدی میں سر جھکالیں

اور منا لیں اپنے خالق کو

جو ستر ماؤں سے بڑھ کر محبت ہم سے کرتا ہے!


ای پیپر