کچھ ایسا کرب ڈھلے پہر کی اذان میں تھا
07 اپریل 2020 2020-04-07

ایک مراثی بادشاہ کا عزیز ترین حجام تھا۔ یہ روزانہ بادشاہ کے پاس حاضر ہوتا تھا۔ اور دو تین گھنٹے اس کے ساتھ رہتا۔ اس دوران بادشاہ سلطنت کے امور بھی سرانجام دیتا رہتا، اور حجامت اور شیو بھی کرواتا رہتا تھا۔ ایک دن نائی نے بادشاہ سے عرض کیا، حضور میں وزیر کے مقابلے میں آپ سے زیادہ قریب ہوں۔ میں آپ کا وفادار بھی ہوں۔ آپ اس کی جگہ مجھے وزیر کیوں نہیں بنا دیتے۔بادشاہ نے مسکرا کر حجام کی طرف دیکھا اور اس سے کہا: ’’میں تمہیں وزیر بنانے کیلئے تیار ہوں لیکن تمہیں اس سے پہلے ٹیسٹ دینا ہوگا‘‘۔نائی نے سینے پر ہاتھ باندھ کر کہا: ’’'آپ حکم کیجئے‘‘بادشاہ بولا: بندرگاہ پر ایک بحری جہاز آیا ہے۔ مجھے اس کے بارے میں معلومات لا کر دو۔نائی بھاگ کر بندرگاہ پر گیا۔ اور واپس آ کر بولا۔ جی جہاز وہاں کھڑا ہے۔ بادشاہ نے پوچھا۔ یہ جہاز کب آیا؟ نائی دوبارہ سمندر کی طرف بھاگا، واپس آیا، اور بتایا، ’دو دن پہلے آیا‘ بادشاہ نے کہا: یہ بتاؤ یہ جہاز کہاں سے آیا؟ نائی تیسری بار سمندر کی طرف بھاگا، واپس آیا، تو بادشاہ نے پوچھا جہاز پر کیا لدا ہے؟نائی چوتھی بار سمندر کی طرف بھاگ کھڑا ہوا۔ قصہ مختصر… نائی شام تک سمندر اور محل کے چکر لگا لگا کر تھک گیا۔اس کے بعد بادشاہ نے وزیر کو بلوایا اور اس سے پوچھا۔ کیا سمندر پر کوئی جہاز کھڑا ہے؟وزیر نے ہاتھ باندھ کر عرض کیا: جناب دو دن پہلے ایک تجارتی جہاز اٹلی سے ہماری بندرگارہ پر آیا تھا۔ اس میں جانور، خوراک اور کپڑا لدا ہے۔ اس کے کپتان کا نام یہ ہے۔ یہ چھ ماہ میں یہاں پہنچا۔ یہ چار دن مزید یہاں ٹھہرے گا۔ یہاں سے ایران جائے گا۔ اور وہاں ایک ماہ رکے گا۔ اور اس میں دو سو نو لوگ سوار ہیں۔ اور میرا مشورہ ہے ہمیں بحری جہازوں پر ٹیکس بڑھا دینا چاہیے۔بادشاہ نے یہ سن کر حجام کی طرف دیکھا۔حجام نے چپ چاپ استرا اٹھایا اور عرض کیا:’’کلماں چھوٹیاں رکھاں کہ وڈیاں‘‘

قیام پاکستان کے بعد سے ہی ملک عزیز شدید مشکلات میں گر گیا تھا… ملک کو جمہوری، آمری اور سیاسی سانپوں نے تو ڈسا ہی تھا مگر آفتوں نے بھی کوئی کسر نہ اٹھا رکھی تھی۔ کبھی قحط اور کبھی سیلاب کی تباہ کاریوں نے زمین زادوں کو اپنے چنگل میں پھنسائے رکھا۔ یہ آفتیں قدرتی نہیں تھیں بلکہ یہ آفتیں ہمارے سیاسی رہنماؤں اور حکمرانوں کی خود ساختہ پیدا کی ہوئی تھیں۔ ان آفتوں کے پیچھے سیاسی رہنماؤں کے اپنے سیاسی، معاشی اور حکومتی مفادات پنہاں تھے۔ سیلاب ہر سال موسم برسات میں اپنے عروج پر ہوتا ہے۔ جتنی جلد یہ پانی کچے کے علاقوں کو تباہ کرتا ہے ، اتنی جلدی تو آنکھوں سے آنسو بھی نہیں ٹپکتے ہیں۔ جب اس بات کا علم ہے کہ ہر سال سیلاب کی آمد ہوتی ہے تو کیوں اس کا سدباب نہیں کیا جاتا؟ جب ہر سال ڈینگی حملہ آور ہوتا ہے تو یہ ادراک ہمارے اذہان و قلوب میں سارا سال موجود رہتا ہے تو اس کے تدارک کے لیے وقت سے پہلے کیوں نہیں تیاری کی جاتی؟ جب اس بات کا سو فیصد یقین ہے کہ 22 کروڑ عوام (ساری کی ساری) کسی نہ کسی بیماری میں مبتلا ہے اور بیمار لوگ اس بیماری کے لیے بھیک تک مانگ کر ادویات خریدتے ہیں تو عوام کے لیے سستی ادویات کیوں نہیں بنائی جاتیں؟ ہسپتال کیوں نہیں تعمیر کیے جاتے؟ بیماریاں پیدا کرنے والی وجوہات کا پتہ کیوں نہیں لگایا جاتا؟ دنیا ’’بیالوجیکل وار‘‘ پیدا کرنے کے لیے جرثومے تک جنریٹ کر چکی ہے اور ہم نے ابھی تک ’’سیاسی جرثومے‘‘ ہی پیدا کیے ہیں جو چینی اور آٹے کی قلت پیدا کرنے میں اپنا ’’جہازی‘‘ اور غیر جہازی کردار ادا کر رہے ہیں۔ ہمارے ڈاکٹر تو اس قدر اپنے ملک کے ساتھ مخلص ہیں کہ گرمیوں میں ہر دوسرے مریض کو گلوکوز کی ڈرپ لگا کر اپنی دیہاڑی ’’کھری‘‘ کرنے کے چکر میں ہوتے ہیں۔ جس ملک کے حکمران ملک کا آدھے سے زیادہ بجٹ اورنج ٹرین اور جنگلہ بس میں لگا کر اور پورے پانچ سال حکومت کرنے کے بعدیہ بیان دیں کہ اگر عمران خان نے ہسپتال بنائے ہوتے تو آج یہ نوبت نہ آتی تو آپ خود اندازہ کریں کہ وہ حکمران حکومت کرنے کے قابل ہیں یا انہیں ملک عزیز کی بھاگ دوڑ کے لیے چنا جا سکتا ہے؟ جو سیاسی رہنما بلیک لسٹ ہو کر پورے ملک میں جہاز اڑا اڑا کر ’’کاغذی لیڈر‘‘ تحریک انصاف کے لیے خریدے اور خود حکومت سے باہر تو کیا وہ شخص ملک و قوم کے ساتھ مخلص ہو سکتا ہے؟ وہ اپنی رہی سہی کسر اور سرمایہ کاری کو پورا کرنے کے لیے چینی کی مصنوعی قلت پیدا نہیں کرے گا تو اور کیا کرے گا؟ وہ بہتی گنگا میں ہاتھ نہیں دھوئے گا تو اور کیا کرے گا؟ اب اس کڑے وقت میں عمران خان کو جھولی پھیلانے کی کیا ضرورت ہے؟ جن لوگوں کو سبسڈی دی ہے، ان سے واپس لی جائے اور بھاری جرمانہ وصول کیا جائے اور ساتھ ساتھ اس قدر کڑی سزا دی جائے کہ آئندہ کسی سرمایہ کار کو جرأت نہ ہو کہ وہ ایسا قدم اٹھائے۔ سبسڈی اور جرمانے کی رقم سے مزدوروں اور غریبوں کو راشن دیا جائے۔ قارئین! کالم کی شروع کہانی کو دہرائیے اور سوچیے !ان میں سے کوئی لیڈر نہیں ہے اور نہ ہی کوئی سیاستدان ہے۔ سب کو حکمرانی اور کرسی کا شوق ہے اور اپنے شوق کو پورا کرنے کی خاطر اپنی عزت نفس کے ساتھ ساتھ عوام کی عزت بھی مجروح کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور وقت کو دھکا لگائے ہوئے ہیں۔ بقول رانا غلام محی الدین ثاقب

وہ ماہِ نو تو کسی اور آسمان میں تھا

اک اجنبی سا دیا ہی مرے مکان میں تھا

سسک اٹھیں کسی مسجد کی سونی محرابیں

کچھ ایسا کرب ، ڈھلے پہر کی اذان میں تھا

میرے حکمرانو! میرے سیاستدانو اگر موجودہ کرب ، مسجدوں کی ویرانیاں، محرابوں کا سونا پن، اذانوں کا کرب ، دعاؤں کی رقت آمیزی غریبوں کی بھوک، مزدوروں کی خودکشیاں ہمیں تبدیل نہ کر سکیں یا ہمیں سبق نہ سیکھا سکیں تو سمجھ لیجیے کہ ہم بہت جلد صفحہ ٔ ہستی سے مٹ جائیں گے اور قوموں میںہمارا نشان تک نہ ملے گا۔


ای پیپر