نیکی کردریامیں نہ ڈال!
07 اپریل 2020 2020-04-07

ہرتصویر کے دورُخ ہوتے ہیں....ہم نے اپنے بزرگوں سے ہمیشہ یہی سنا ” نیکی کرکے دریا میں ڈال دینی چاہیے“.... جو نیکی کسی کے ساتھ کریں اُس کاپرچاریا مشہوری نہیں کرنی چاہیے، ورنہ نیکی ضائع ہو جاتی ہے، نیکی کا اجر صرف اللہ ہی دے سکتا ہے، اور اللہ کو اپنی نیکی کے بارے میں کسی ٹی وی چینل، اخبار یا کسی تصویر وغیرہ کے ذریعے بتانے کی ضرور ت نہیں ہوتی، وہ سب دیکھتا ہے، سب جانتا ہے، اللہ اتنا عظیم، اتنا رحیم اورکریم ہے وہ نیتوں کا پھل عملوں سے بڑھ کر دیتا ہے کیونکہ نیت میں دکھاوہ نہیں ہوتا، پردہ پوشی اللہ کو بڑی پسند ہے، سو اگر ہم نے اللہ کی پسند کے مطابق نیکی کرنی ہے پھر کسی اور کو بتانے کی ضرورت نہیں، اللہ کے کچھ عظیم لوگ اس حدتک پردہ پوشی کرتے ہیں جس کے ساتھ نیکی کررہے ہوتے ہیں، یا جس کی مدد کررہے ہوتے ہیں اُسے بھی پتہ نہیں چلنے دیتے، اگر ہم نے محض نمائش یا دکھاوے کے لیے کسی کے ساتھ کوئی نیکی یا اچھا سلوک کرنا ہے پھر ہمیں یہ یقین یا اطمینان نہیں ہونا چاہیے اللہ اسے شرف قبولیت بخش دے گا، یہاں تک فرمایا گیا ”ایک ہاتھ سے دو دوسرے ہاتھ کو پتہ نہ چلے“۔ افسوس ہمارے ہاں کلچر یا رویہ اب یہ فروغ پانے لگا ہے ہم ایک ہاتھ سے دیتے ہیں دوسرے ہاتھ سے کسی نہ کسی صورت واپس لے لیتے ہیں، نمائش بھی اسی کی ایک صورت ہے، ....پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر ایک تصویر میں نے دیکھی جس میں دس پندرہ لوگ ایک بزرگ کو آٹے کا ایک چھوٹا سا تھیلہ دیتے ہوئے اس کے ساتھ تصویر بنوارہے ہیں، بزرگ کی نظریں جھکی ہوئی ہیں، صاف ظاہر ہورہا تھا وہ بزرگ اپنا چہرہ تصویر سے بچانے یا چھپانے کی کوشش کررہا ہے، اسی طرح ایک اور تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی سندھ کا کوئی وزیر اپنے حلقے کے ایک شخص کو صابن کی ایک ٹکیا دیتے ہوئے اس کے ساتھ تصویر بنوارہا ہے۔ مجھے یہ تصویریں دیکھ کر بہت غصہ آیا، میں نے ایسی ہی ایک تصویر اپنے فیس بک وال اور ٹویٹرپر شیئر کرکے نمائشی نیکیاں کرنے والوں پر خوب لعنت بھیجی، میری اِس ”پوسٹ“ کو بڑا پسند کیا گیا، ہزاروںلوگوں نے اِسے شیئر کیا اور کمنٹس کیے، .... اِس سے پہلے بے شمار لوگ کسی نہ کسی کی مدد کرتے ہوئے اپنی تصویریں بنواکر اپنی اپنی فیس بک والز پر لگارہے تھے، میں نے محسوس کیا میری اس پوسٹ کے بعد ضرورت مندوں کو مدد کرتے ہوئے تصویریں بنواکر فیس بک پر لگانے کا رجحان اچانک کم ہوگیا ہے، اُس کے بعد کئی کئی چھوٹے چھوٹے ویڈیو کلپس سوشل میڈیا پر وائرل ہونے لگے۔ جس میں ضرورت مندوں کی مدد کرتے ہوئے کوئی ان کے ساتھ تصویریں بنوانے لگتا وہ امداد لینے سے انکار کردیتے، ایک ویڈیو کلپ تو بہت ہی وائرل ہوا، ....ایک گھر کی گھنٹی بجتی ہے، اس گھر میں مقیم شخص باہر جاتا ہے، وہ جب واپس آتا ہے اس کا بچہ اس سے پوچھتا ہے ” ابو کون آیا تھا ؟ وہ اسے بتاتا ہے ”بیٹا راشن دینے والے آئے تھے میں نے راشن نہیں لیا“ ....بچہ حیرانی سے پوچھتا ہے ”ابو ہمیں تو راشن کی بڑی ضرورت تھی، ہم نے تو دودنوں سے کھانا نہیں کھایا آپ نے راشن کیوں نہیں لیا؟“.... باپ کہتا ہے ”بیٹا اصل میں وہ راشن دیتے ہوئے ساتھ تصویر بھی بنانا چاہ رہے تھے“ ....سو میں اپنے طورپر بڑا خوش ہورہا تھا میں نے نیکی کرکے دریا میں ڈالنے کا بھولا ہوا سبق لوگوں کو یاد دلادیا ہے، اور اب اس حوالے سے سوشل میڈیا پر باقاعدہ ایک مہم چل نکلی ہے جو یقیناً ایسے بے شمار لوگوں کو شرم دلائے گی جو کسی کی مدد کرکے اس کی نمائش کے عمل کو باقاعدہ ”کارثواب“ سمجھتے ہیں، .... پرہوا یہ دوتین روز پہلے میں جب اپنے بچوں کے ساتھ اس حوالے سے بات کررہا تھا، بلکہ اِس کا ”کریڈٹ“ لے رہا تھا، میرے اکلوتے بیٹے راحیل بٹ نے تصویر کا دوسرا رُخ میری طرف موڑ دیا، وہ کہنے لگا ”بابا آپ نیکی کرکے دریا میں ڈالنے کی جو مہم چلا رہے ہیں، بہتر ہے یہ سلسلہ اپنے تک محدود رکھیں، کیونکہ ہمارے اکثر لوگوں کی یہ عادت بڑی پختہ ہوچکی ہے وہ کسی کے ساتھ نیکی کرکے، یا کسی کی مدد وغیرہ کرکے جب تک اس کی مشہوری نہ کرلیں اُنہیں سکون نہیں ملتا، وہ زمانے گئے جب سکون نیکی کرنے سے ملتا تھا، اب نیکی کی مشہوری کرنے سے ملتا ہے، کسی کے ساتھ نیکی کرکے اس کی تشہیر نہ کرنے والوں کو یوں محسوس ہوتا ہے ان کی نیکی ضائع ہوگئی ہے، وہ سمجھتے ہیں جب وہ کسی کے ساتھ نیکی کررہے تھے، یا جب وہ کسی کی امداد کررہے تھے تب اللہ کا دھیان کسی اور طرف تھا، اللہ کو اُن کی اس نیکی کا پتہ نہیں چل سکا، لہٰذا اس کی تشہیر کی صورت میں دوچار سو گواہ ضرورپیدا کرلینے چاہئیں جو روز قیامت ہمارے ساتھ کھڑے ہوکر ہماری اس نیکی کی اللہ کو

گواہی دی سکیں“ ....اُس نے مزید کہا ”بابا اگر آپ کی نیکی کرکے دریا میں ڈالنے کی مہم کامیاب ہوگئی، اُس کے نتیجے میں بے شمار لوگوں نے کسی کی مدد کرنا یاکسی کی ساتھ نیکی کرنا صرف اس لیے چھوڑ دینا ہے کہ ان کی نیکی کا کسی کو پتہ ہی نہیں چلنا تونیکی کرنے کا فائدہ ؟؟؟،سو بے شمار لوگ اگر کسی کے ساتھ نیکی کرکے فیس بک وغیرہ پر ڈال دیتے ہیں، اور اس سے اُنہیں کچھ مقبولیت مل جاتی ہے تو اُن کے اِس عمل سے مزید لوگ بھی مقبولیت کی خاطر ہی سہی لوگوں کی تھوڑی بہت مدد تو کرہی دیتے ہیں، جس سے لوگوں کا کچھ نہ کچھ بھلا تو ہوہی جاتا ہے ، اُن بے بس اور مجبور لوگوں کو اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ان کی مدد کرتے ہوئے یا اُنہیں راشن وغیرہ دیتے ہوئے کوئی ان کے ساتھ تصویر بنارہا ہے، ....میں ابھی راحیل بٹ کی ان باتوں پر غورہی کررہا تھا ایک صنعت کار دوست کا فون آگیا، وہ کہنے لگے ”ہم نے کورونا وائرس کے متاثرین کے لیے راشن وغیرہ کے پانچ سو پیکٹ تیارکروائے ہیں، ہم چاہتے ہیں آپ یہ پیکٹ اپنے ”مبارک ہاتھوں“ سے تقسیم کریں “....میں نے عرض کیا ”ایک تو آپ کو یہ غلط فہمی ہے کہ میرے ہاتھ مبارک ہیں، دوسرے اگر آپ نے واقعی یہ کام میرے ” مبارک ہاتھوں“ سے ہی کروانا ہے پھر میری شرط یہ ہے راشن کے یہ پیکٹ مستحق لوگوں میں تقسیم کرتے ہوئے کوئی تصویر وغیرہ نہیں بنے گی، نہ میں آپ کی اس نیکی کا اپنے کالم وغیرہ میں یا اپنی فیس بک وال پر ذکر کرکے آپ کی نیکی ضائع کروں گا“ ....اُنہوں نے میری یہ شرط قبول کرنے کا عندیہ دے کر فون یہ کہہ کر بند کردیا میں رات کو آپ کو دوبارہ فون کروں گا، اور بتادوں گا کل آپ نے کس وقت کہاں آنا ہے؟؟“.... اگلے روز میں نے ٹی وی پر دیکھا اُنہوں نے واقعی میری اس بات پر یقین کرلیا تھا کہ میرے ہاتھ مبارک نہیں ہیں، وہ یہ کام ایک اور سینئر کالم نگار کے ”مبارک ہاتھوں“ سے کروارہے تھے۔ پھر اُنہوں نے رات کو اپنے ٹی وی پروگرام میں ان کی اس نیکی کا خوب پرچار کیا، ....اس واقعے نے مجھے بڑا سبق دیا، میں سوچ رہا ہوں بجائے اس کے نیکی کرکے دریا میں ڈالنے کی مہم چلا کر اپنی سوشل لائف تباہ کروں، دوستوں کو الگ سے ناراض کروں، بہتر ہے یہ محاورہ یا قول اپنے تک محدود رکھوں، البتہ ایک بات میں آپ کو ضرور بتانا چاہتا ہوں، امداد دینے والے نہیں امداد لینے والے بھی بڑے چالاک ہوگئے ہیں، کل ایک این جی اوکے نمائندے نے ایک مستحق کو راشن کا ایک پیکٹ دیتے ہوئے اس کے ساتھ تصویر بنوانا چاہی تو اُس نے کہا ”تصویر بنوانے کا ایک پیکٹ الگ سے لوں گا“ !!


ای پیپر