گواہی پر گواہی
07 اپریل 2019 2019-04-07

گھوم پھر کے بات وہیں آجاتی ہے کہ اصل مسئلہ کیا ہے۔ لیکن جو اصل مسئلہ ہے اس کی طرف توجہ ہے نہ اس کو حل کرنے کی استطاعت۔ حکمران مطمئن ہیں کہ وہ ناگزیر ہیں۔ کیوں ؟ اس کا جواب حاکم وقت نے دیدیا ہے۔ حالانکہ اس سوال کا جواب تو سب کو معلوم تھا۔ حکمران کسی کو جواب نہیں دیتے۔ ووٹر کو بھی نہیں۔ لیکن بہر حال جمرود کے جلسے میں دل کی بات زبان پر آگئی ۔ انقلابی کپتان کہتا ہے کہ حکومت کو کوئی خطرہ نہیں۔ کیونکہ ہمارے اداروں کی گارنٹی ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب تک پیا من کو بھاتی ہے سہاگن کو کوئی خطرہ نہیں۔ اور سہاگن کسی کو جوابدہ نہ ہو تو وہ پرفارم کیوں اور کیسے کرے گی۔ لہٰذا عوام کی کسے پرواہ ہوگی۔ اور وہ ہوتے کون ہیں۔جس کا جب دل چاہے ان کو کھیل تماشے پر لگا دے۔ عوام بھی بھولے بادشاہ ہیں۔ پی ایس ایل ختم ہو تو ان کو تفریح چاہیئے۔ پیسے تو روٹی کھانے کیلئے بھی موجود نہیں۔ لہٰذا کھیل تماشے فری مل جائیں تو اور کیا چاہئیے۔ جس دن پٹرول کی قیمت میں اضافہ ہو اس روز شاہ محمود قریشی اور ترین کی لڑائی کی سوپ سیریل اچانک شروع ہوجائے۔ جس روز گیس کی قیمت میں اضافہ کا تازیانہ عوام کے پیٹھ پر برسنا ہو تو اس روز بلاول کی عدالت میں پیشی پولیس کو مولا جٹ بنا دیا جائے۔ ایل پی جی اور ایل این جی کے نام پر عوام سے جگا ٹیکس وصول کرنا ہو تو اپوزیشن لیڈروں کو نوٹس بھیج کر عوام کو بیوقوف بنا لیا جائے۔ جیسا دن ویسی پالیسی۔ ویسا ہی ڈرامہ۔ کبھی کراچی سے کٹ کرو۔ کبھی لاہور کبھی وفاقی دارلحکومت میں لائیو شو۔ دھما دھم مست قلندر۔ جمعتہ اور ہفتہ کے روز لاہور کی سکرین گرم تھی۔ لالی ووڈ میں اب فلمیں بہت کم بنتی ہیں۔ لیکن نیب کے ہدایت کاروں نے کامیاب فلم بنائی۔ اگرچہ اس کے مقاصد بہت گہرے ہیں۔ فی الحال اتنا اشارہ کافی ہے کہ نئے نظام کی نقشہ گری کی جارہی ہے۔ تفصیلات ابھی منظر عام پر نہیں آئیں۔ لیکن عوام کو یہ باور کرانا ضروری ہے کہ قصور مسیحا کا نہیں بلکہ نظام کا ہے۔ مسیحا کو فری ہینڈ ملنا ضروری ہے۔ جو موجودہ سسٹم میں ممکن نہیں۔ بس کوئی ایسا نظام ہوجس میں دیانت کے دیوتا کو کن ، فیکون کی طاقت حاصل ہو ، اس کیلئے ضروری ہے کہ عوام میں پارلیمانی نظام سے نفرت پیدا کی جائے۔ لاہور میں نیب اچانک ماڈل ٹاون میں چڑھ دوڑی۔ ایسے شخص حمزہ شہباز کو گرفتار کرنے جو کم از کم چھ دفعہ نیب میں پیش ہو چکا۔ جو عدالت کی اجازت سے بیرون ملک گیا اور وقت سے پہلے واپس آ گیا۔ قانون کی نظر میں اس ملز م کی گرفتاری ضروری ہو جاتی ہے جس کے یا تو فرار ہونے کا خدشہ ہو یا وہ اس پوزیشن میں ہو کہ شہادتیں ضائع کرسکے۔ اگر کوئی ایسی اطلاع تھی پھر تو نیب نے ٹھیک کیا۔ ورنہ اس کا سیاسی فائدہ تو حمزہ شہباز کو ہوا۔بہر حال ہفتہ کی شام تک ایک اور ڈرامے اختتام پذیر ہوا۔ ہفتہ رواں کے آغاز پر نئے ڈرامہ نئی کاسٹ کے ساتھ شروع ہونگے۔ خواجہ آصف ، شاہد خاقان عباسی ، آصف زرداری ، بلاول کی پیشیاں ہیں خوب رونق رہے گی۔ اس دوران خاموشی سے دو چار اشیائے ضرور یہ کی قیمتیں بڑھ جائیں گی۔ ادویات کی قیمتیں تین سو فیصد بڑھ چکی ہیں اور پنجاب کے ہسپتالوں میں مفت ادویات کی فراہمی بند۔ میڈیکل لیبارٹری ٹیسٹوں پر فیس عائد، پہلے تو کبھی کبھار جناب وزیر خزانہ جھوٹی موٹھی تسلی کی بات کر دیا کرتے تھے۔ریلیف ملنے والا ہے۔ حالات بدلنے والے ہیں۔ اب تو انہوں نے صاف کہ دیا ہے کہ آپشن دو ہیں دیوالیہ پن یا آئی ایم ایف سے قرض۔ نہ جانے وزیر بے تدبیر کس کو بیوقوف بناتے ہیں۔ آئی ایم ایف کی شرطیں تو پہلے ہی مان لی گئیں۔ اب تو معاہدے پر دستخط ہونے ہیں۔ایشیائی ترقیاتی بنک کی تازہ ترین رپورٹ کہتی ہے کہ رواں سال ترقی کی شرح کم اور اگلے سال مزید کم ہوگی۔ یعنی خطے میں کم ترین۔ جبکہ بھارت اور چین کی ترقی کی شرح سات فیصد کے اشاریے کو چھو لے گی۔ اے ڈی بی کی ڈیویلپمنٹ آوٹ لک رپورٹ کادعوی ہے کہ میکرو اکنامک گروتھ کا توازن برقرار نہیں رہے گا۔ معاشی شرح نمو میں کمی ، مہنگائی میں اضافہ ، روپے کی قدر پر دباو برقرار رہے گا۔ ابھی ایک ہفتہ پہلے سٹیٹ بنک کی مالیاتی رپورٹ میں جن خدشات کا اظہار کیا گیا تھا اس کی تصدیق اے ڈی بی نے بھی کر دی ہے۔ اسی ملک کے متعلق تین سال پہلے کہا گیا تھا کہ یہ بیس بڑی معیشتوں میں شمار ہوگا۔ سٹاک ایکسچینج عالمی رینکنگ میں پانچویں نمبر پر آرہا تھا۔اقوام متحدہ کیا اقتصادی و سماجی کمیشن کی پیش گوئی ہے کہ پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح نیپال اور مالدیپ سے بھی کم رہے گئی۔

عالمی ادارے ہوں یا مقامی ، اقتصادی زبوں حالی کے شعبے میں گواہی پر گواہی آرہی ہے۔ لیکن حکمران خوش ہیں کہ ان کے پا س گارنٹی ہے۔ لہٰذا اللہ اللہ خیرصلا۔ کامیابی سے عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا رکھا ہے۔ کمال کے صابر عوام ہیں۔ کھیل تماشوں اور ڈراموں میں خوش ہیں۔


ای پیپر