بھارتی ظلم و بربریت کا شکار حریت قیادت
07 اپریل 2019 2019-04-07

بھارت میں جوں جوں لوک سبھا الیکشن قریب آرہے ہیں مقبوضہ کشمیر اور ہندوستانی ریاستوں میں کشمیریوں پر مظالم بڑھتے جارہے ہیں۔ پورا کشمیر اس وقت جل رہا ہے۔ بھارتی فوج ظلم ودہشت گردی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے رہی۔روزانہ کشمیریوں کا خون بہا یا جارہا ہے۔ مظلوم کشمیری اپنی عزتوں و حقوق کے تحفظ کیلئے احتجاج کرتے ہیں تو ان پر ممنوعہ ہتھیار پیلٹ گن کے چھرے برسائے اور اندھا دھند گولیوں کی بوچھاڑ کی جاتی ہے۔قابض حکومت ہندوستانی تحقیقاتی ادارے این آئی اے کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ بزرگ کشمیری قائد سید علی گیلانی کا نئی دہلی میں فلیٹ قبضہ میں لے لیا گیا ہے اور ان کے اہل خانہ کو ہراساں کیا جارہا ہے۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے سری نگر کے آفندی باغ علاقہ میں جموں کشمیر فریڈم پارٹی کے سربراہ شبیر احمد شاہ کی رہائش گاہ بھی قبضہ میں لے لی گئی ہے۔ یہ زمین ان کے سسر نے اپنی بیٹی کو تحفہ میں دی تھی لیکن بھارتی قابض انتظامیہ نے اس مکان کو شبیر احمد شاہ کی جائیداد قرار دے کر قبضہ میں لے لیا اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ سب کچھ ان کی تحریک آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یٰسین ملک پر این آئی اے نے ایسے مضحکہ خیز الزامات لگائے ہیں کہ جن سے متعلق پہلے کبھی کسی نے سنا بھی نہیں ۔ ہندوستانی ایجنسیوں کے تیار کردہ ڈوزیئر میں وہ بے بنیاد الزامات بھی دہرائے ہیں جو نوے کی دہائی کے ہیں اور عدالتیں پہلے ہی ان الزامات کو جھوٹ پر مبنی قرار دے چکی ہیں۔ بھارتی فورسز کی درندگی کا عالم یہ ہے کہ کالے قانون پی ایس اے کے تحت کئی لیڈروں کو ہندوستانی جیلوں میں ڈال دیا گیا ہے۔ حریت کانفرنس (ع) کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق کو تیسرا نوٹس جاری کیا گیا ہے کہ وہ نئی دہلی میں این آئی اے کی عدالت میں پیش ہوں۔ انہیں بار بار گھر میں نظربند کر دیا جاتا اور جامع مسجد سری نگر سیل کر دی گئی ہے۔ بھارتی فورسز نے ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مار کر جامع مسجد کی اہم فائلیں اور میر واعظ عمر فاروق کا لیپ ٹاپ وغیرہ قبضہ میں لے لیا ہے۔ بھارت میں مودی حکومت نے پچھلے تقریباً ڈیڑھ سال سے حریت کانفرنس میں شامل تنظیموں اور قائدین کے گھیراؤ کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے ۔سب سے پہلے نعیم احمد خاں نامی کشمیری رہنما کو حراست میں لے کر نئی دہلی کی جیل میں بھیجا گیا اور پھر مختلف کشمیری جماعتوں کے دیگر لیڈروں، تاجر رہنماؤں، طلباء اور وکلاء رہنماؤں کو ہراساں کرنے اور ان پر جھوٹے مقدمات بنانے کا آغاز کر دیا گیا۔ ہندوستانی اعلیٰ عدلیہ کے واضح فیصلے ہیں کہ کشمیری قیدیوں کو ان کی رہائش گاہوں کے قریب ترین جیلوں میں رکھا جائے مگر بھارتی حکومت اپنی ہی عدالتوں کے فیصلوں کو جوتے کی نوک پر رکھتی ہے اور ان پر کسی طور عمل نہیں کیا جارہا ۔بھارت میں جوں جوں انتخابات قریب آرہے ہیں بھارتی قابض انتظامیہ نے حریت رہنماؤں کے خلاف انتقامی کاروائیوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ بھارت سرکار کی کوشش ہے کہ نام نہاد الیکشن سے قبل مقبوضہ کشمیر میں ایسا ماحول بنا دیا جائے کہ کشمیری عوام کی قیادت اور رہنمائی کرنے والا کوئی نہ ہو تاکہ انہیں ڈھونگ انتخابات کے دوران زبردست عوامی احتجاج کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر کے بعد جموں کشمیر لبریشن فرنٹ اور دیگر تنظیموں پر پابندیاں ، ان کے دفاتر بند کرنے اور سرگرم رہنماؤں و کارکنان کی پکڑ دھکڑ اسی مذموم مقصد کیلئے ہے۔

بھارتی حکومت کی جانب سے کشمیری تنظیموں اورلیڈروں پر پابندیاں لگانے، انہیں جیلوں میں ڈالنے اور کشمیری تاجروں کو نشانہ بنانے کا ایک بڑا مقصد یہ ہے کہ کسی طرح انہیں معاشی طور پر کمزور کر دیا جائے تاکہ وہ جدوجہد آزادی کشمیر میں صحیح معنوں میں حصہ نہ لے سکیں۔ بی جے پی نے واضح طور پر کہا ہے کہ حالیہ مہینوں میں کشمیری تنظیموں اور شخصیات پر پابندیاں لگانے کا جو سلسلہ شروع کیا گیا ہے یہ آئندہ بھی جاری رہے گا اور مزید تنظیموں اور حریت لیڈروں کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔ بی جے پی لیڈر رام مادھو کے اس بیان سے مودی سرکار کے سبھی مذموم عزائم کھل کر واضح ہو جاتے ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ آنے والے دنوں میں حریت قائدین اور سرگرم کشمیریوں کے گرد مزید گھیرا تنگ کیا جائے گا۔ بھارتی حکومت کشمیر میں اساتذہ کے خلاف بھی بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کر رہی ہے اور ان کی لسٹیں مرتب کی جارہی ہیں۔ بھارتی حکومت نے کشمیر میں انکم ٹیکس افسران کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ بینکوں کے کھاتوں کا بھی تفصیل سے جائزہ لیں۔مقبوضہ کشمیر میں قابض انتظامیہ کے دباؤ پر انکم ٹیکس محکمہ کی جانب سے تحریک آزادی کی حمایت کرنے والے سرکردہ کشمیری تاجروں اور صنعتکاروں کے خلاف کاروائی کی منصوبہ بندیاں کی جارہی ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں سوشل میڈیا کے استعمال پر بار بار پابندیاں لگائی جاتی ہیں اور پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی جاتی ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے ذریعہ کشمیر میں عسکریت پسندی کو فروغ دے رہا ہے۔ پورے کشمیر کو ہندوستانی فورسز نے فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر رکھا ہے۔ کشمیر میں احتجاج کی ایک نئی لہر ہے جو اس وقت دکھائی دے رہی ہے۔ بھارتی ایجنسیاں صورت حال پر قابو پانا چاہتی ہیں، تاہم انہیں کچھ سجھائی نہیں دے رہا کہ انہیں کرنا کیا ہے۔پچھلے کچھ عرصے سے بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں کشمیری تنظیموں کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کی کوششیں کر رہی ہے ،لیکن تمام تر وسائل استعمال کرنے کے باوجود مودی سرکار اس میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ ہندوستانی فوجی حکام اور عسکری ماہرین نے موجودہ صورت حال پر نئی دہلی میں سر جوڑرکھے ہیں اور اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں اس امر پر غوروفکر کیا جارہا ہے کہ وادی کشمیر سے جموں تک پھیلتی ہوئی تحریک آزادی پر کس طرح قابو پایا جائے؟ اب تو مختلف بھارتی جرنیل اور دانشور اعلانیہ طور پر یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ کشمیر بھارت کے ہاتھ سے نکل رہا ہے۔ بی جے پی سرکار نے کچھ عرصہ قبل بعض معتدل قسم کے لیڈروں کو کشمیری قیادت سے ملاقات اور ان کا موقف جاننے کے لئے سری نگر بھی بھیجا جس نے مختلف حریت قائدین سے ملاقاتیں بھی کیں، تاہم حریت قیادت کے مضبوط موقف اور غاصب بھارتی حکومت کے سامنے کسی صورت میں جھکاؤ اختیار نہ کرنے والی پالیسی سے وہ بھی مایوس واپس لوٹے ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں قابض انتظامیہ حریت رہنماؤں کے خلاف کاروائیوں کو اپنی عوام کے سامنے بہت بڑی کامیابی کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ بھارتی ایجنسیاں ان دنوں گڑے مردے اکھاڑ رہی ہیں اور بے سروپا الزاما ت لگا کر حریت رہنماؤں پر دباؤ بڑھانے کی سازشیں کی جارہی ہیں۔ جماعت اسلامی کے ترجمان نے پابندیاں لگائے جانے کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جموں کشمیر فریڈم پارٹی نے بھی ایسے ہی عزم کا اظہار کیا ہے۔ اگرچہ مودی حکومت ہندوستانی عدالتوں کو بھی اپنے حق میں استعمال کر رہی ہے اور جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت والی دفعات ختم کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ ایسے حالات میں کشمیری تنظیموں کے حق میں کسی فیصلہ کی توقع نہیں رکھی جاسکتی لیکن مودی حکومت کے دوہرے رویہ اور کردار کو دنیا کے سامنے لانے کیلئے ہر فورم پر آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت پاکستان کو بھی چاہیے کہ وہ کشمیری قوم کی توقعات پر پورا اترے، دنیا بھر میں اپنے سفارت خانوں کو متحرک کیا جائے اور کسی قسم کی مصلحت پسندی سے کام لئے بغیر مظلوم کشمیریوں کی دل کھول کر مدد کی جائے۔ کشمیریوں کی تحریک آزادی اس وقت جس مقام پر ہے اس سے پہلے کبھی نہیں پہنچی۔ مظلوم کشمیریوں کی جدوجہد آزادی جلد ان شاء اللہ کامیابی سے دوچار ہو گی اور غاصب بھارت کو جنت ارضی کشمیر سے نکلنا پڑے گا۔


ای پیپر