آپ ہمارے ہیرو ہیں
07 اپریل 2019 2019-04-07

امریکی پابندیاں لگ چکی تھیں۔ پاکستان کے پاس امریکی ایف سولہ کے علاوہ کوئی قابل ذکر جنگی جہاز نہیں تھا۔ امریکہ نے جہازوں کے سامان کی فراہمی معطل کر دی۔ جنگ لڑنا تو ایک طرف پاکستان پائلٹس کے فلائنگ آوور بھی پورے نہیں کروا سکتا تھا۔ پاکستان نے جب چین کی طرف دیکھا تو معلوم ہوا کہ چین کا ایک بھی جنگی جہاز بین الاقوامی معیار کے مطابق نہیں ہے۔ پاکستان اس وقت بے یقینی اور یتیمی کی کیفیت سے دو چار ہو رہا تھا اور ہندوستان پاکستان پر فضائی برتری کے خواب کو حقیقت بنتے دیکھ رہا تھا۔جب تمام راستے بند ہو گئے تب پاکستان کی اعلی قیادت نے جنگی جہاز بنانے میں خودمختاری حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔ سالوں تک اس آئیڈیا پر کام ہوتا رہا۔ وقت گزرتا گیا اور ائیر چیف مارشل مصحف علی میر نے اربوں ڈالر کے اس پروجیکٹ کو قابل اعتماد، ذہین اور محب وطن شخص کو سونپنے کا فیصلہ کیا۔ دن رات کی تگ و دو کے بعد انھیں وہ شخص مل گیا جو اس پروجیکٹ کو کامیاب کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ وہ نوجوان کوئی اور نہیں بلکہ ان کا سب سے قابل شاگرد تھا۔ یہ نوجوان ایف سولہ اڑا کر پاکستان لانے والا پہلا پائیلٹ تھا۔ یہ نوجوان ان پائلٹوں میں بھی شامل تھا جس نے ایف سولہ کی ایک سال کی ٹریننگ صرف پانچ ماہ میں مکمل کر لی تھی۔ اور ائیر مارشل مصحف علی میر کے شاگردوں میں سے صرف اس نوجوان کو سورڈ آف آنر ملنے کا اعزاز حاصل تھا۔

نوجوان نے پروجیکٹ کی کمان سنبھالتے ہی اعلیٰ قیادت کی مشاورت سے فیصلہ کیا کہ پاکستان چائنا کے ساتھ مل کر ایف سولہ سے بہتر نیاجنگی طیارہ بنائے گا اور دنیا خصوصاً ہندوستان اس طیارے کی کارکردگی کو دیکھ کر اپنی انگلیاں دانتوں تلے دبا لے گی۔ چائنا کی کمپنی کا انتخاب کیا گیا، انھیں ضروریات بتائی گئیں اور نوجوان نے طیارے کی تیاری کی نگرانی شروع کر دی۔ چائینیز اسے ایک عام آدمی سمجھ کر اپنے مطابق جہاز بنانے لگے۔ اس نے چائنیز کے ڈیزائین کو مسترد کر دیا اور انھیں مجبور کیا کہ چاہے کتنا ہی وقت کیوں نہ لگ جائے جو خصوصیات میں چاہتا ہوں وہ اس جہاز میں شامل ہوں۔ چائنیز کمپنی کے ساتھ شدید اختلاف رائے اور جھگڑوں کے بعد چائنیز کو اندازہ ہو گیا کہ یہ شخص اپنے مطالبات سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔ پراجیکٹ کی نگرانی کرنے کے لیے کئی راتیں اس نے چائنیز کی فیکٹری میں گزاردیں۔ وہیں کھاتا تھا اوروہیں سوتا تھا۔ اس پاگل پن کو دیکھ کر چائنیز بھی اس کے ساتھ شامل ہو گئے اور دن رات ایک کر دیا۔ امریکیوں کو جب بھنک لگی تو انھوں نے نوجوان کو خریدنے اور ڈرانے کا فیصلہ کیا۔ اس کی نگرانی کی جانے لگی۔ عورت، دولت، شہرت، عیاشیاں، جائیدادوں سمیت ہر طرح کا لالچ دیا گیا لیکن نوجوان اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اگر یہ پراجیکٹ مکمل نہ ہوا تو پاکستان کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔ دن رات کی محنت رنگ لائی اور اگست 2003 کو اس شاہکار جنگی جہاز نے اپنی پہلی اڑان بھری۔ برسوں کی محنت اور وطن سے محبت کا عملی ثبوت ہوا میں پرواز کر رہا تھا۔ پائلٹ لگاتار پیغامات بھجوا رہا تھا کہ یہ شاہکار ہر طرح سے مکمل ہے اور دشمن کی آنکھوں میں آنکھوں ڈالنے کو تیار ہے۔ اس نوجوان کی آنکھوں میں کامیابی کے آنسو، پیشانی پرشکرانے کے سجدے، زبان پر شکرانے کے کلمات اور چہرے پر اطمینان کے اثرات واضع تھے۔ اس نوجوان نے طیارے کو اپنا بے بی قرار دیا اور دنیا کو بتایا کہ میں نے اپنے بے بی کو دشمن کا لحاظ کرنا سکھایا ہی نہیں ہے۔وقت گزرتا گیا اور ستائیس فروری 2019 کو اس بے بی نے ہندوستان کے دو طیاروں کو دھول چٹا کر یہ ثابت کر دیا کہ واقعی یہ بے بی دشمن کا لحاظ نہیں کرتا۔ مجھے یقین ہے کہ آپ اب تک اس شخص کا نام جان چکے ہوں گے۔ جی ہاں یہ جے ایف 17 تھنڈر کے بانی ائیر مارشل شاہد لطیف صاحب کی کامیابی اور محب الوطنی کی مختصر سی کہانی ہے۔

آپ ائیر مارشل شاہد لطیف صاحب کی کامیابی کی کوششوں اور نیک نیتی کو ذہن نشین کریں اور جے ایف 17 تھنڈر کی تاریخ اور خصوصیات پر ایک نظر ڈالیں تو ہم اس محب وطن سپوت کو خراج تحسین پیش کیے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔

جے ایف 17 تھنڈر طیارے پاکستان ایئروناٹیکل کمپلیکس کامرہ اور چنگڈو ائیر کرافٹ انڈسٹری کارپوریشن چائناکے تعاون سے کامرہ میں تیار کیے جاتے ہیں ۔ شاہد لطیف صاحب جانتے تھے کہ روس جنگی طیارے کے انجن بنانے کی ٹیکنالوجی میں دنیا میں سب سے آگے ہے جبکہ چائنا جنگی جہاز کا انجن تیار نہیں کرتا بلکہ روسی طیاروں کی کاپی بنانے کا ماہر ہے۔ انھوں نے چائنیز کو قائل کیا کہ روس سے انجن اس شرط پر لیے جائیں کہ وہ انجن بنانے کی ٹیکنالوجی چائنا کو دینے کا پابند ہو گا۔ روس اور چین کے درمیان معاہدہ طے پا گیا جس کی بدولت چائنا جنگی جہازوں کے انجن بنانے میں خود مختار ہو گیا ہے۔ چین کو یہ صلاحیت بھی پاکستان کے اس ذہین ائیر فورس کمانڈر کی بدولت ملی ہے۔

جے ایف 17 تھنڈر نے پہلی اڑان 25 اگست 2003 کو چائنا میں کی، 12 مارچ 2007 کو اسے پاکستان ائیر فورس میں شامل کیاگیا اور 23 مارچ 2007 کو اسے پاکستانی عوام کے سامنے پیش کیا گیا۔ جے ایف 17 تھنڈر نے آتے ہی دنیا بھر کی توجہ حاصل کی۔ اسے 2010 میں برطانیہ کے فارنبورو ائیر شو میں بھی شامل کیا گیا۔پوری دنیا میں جتنے بھی ائیر شو منعقد کیے جاتے ہیں ان میں چائنا کے کسی جنگی طیارے کو پرفارم کرنے کے لیے نہیں بلایا جاتا تھا۔ جبکہ جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کوپوری دنیا کے تمام قابل ذکر ائیر شوز میں بلایا جاتا ہے۔ اس طیارے نے 2018 میں پولینڈ میں منعقد ہونے والے ائیر شو میں جیت کے جھنڈے گاڑے ہیں اور پوری دنیا کو ایک مرتبہ پھر اپنا گرویدہ کر لیا ہے۔ یہ کامیابی پاکستان اور چائنا کے لیے ایک اعزاز ہے۔ابتدا میں طیارے کی مکمل تیاری چائنا کے ذمہ تھی۔ لیکن ائیر مارشل شاہد لطیف کی ذاتی دلچسپی کی بدولت بہت کم عرصہ میں پاکستانی انجینئرز نے اس ٹیکنالوجی پر دسترس حاصل کر لی۔ اس وقت جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کی تیاری کا 58فیصد شیئر پاکستان ایئروناٹیکل کمپلیکس کامرہ کے پاس ہے اور 42 فیصد شیئر چنگڈو ائیر کرافٹ انڈسٹری کارپوریشن چائنا کے پاس ہے۔ پاکستان ائیر وناٹیکل کمپلیکس نے مکمل طور پر خود تیار کیا گیا جے ایف 17 تھنڈر نومبر 2009 میں پاکستان ائیر فورس کی حوالے کیا۔

(جاری ہے)


ای پیپر