غیر معیاری ویکسین سے بچوں کی اموات
07 اپریل 2019 2019-04-07

صوبہ پنجاب کا 36واں ضلع چنیوٹ ان بدقسمت اضلاع میں شامل ہے جہاں طبی سہولیات کا فقدان سوالیہ نشان بنا ہوا ہے ۔ضلع چنیوٹ میں 2017ء میں اس بات کا خوفناک انکشاف ہوا تھا کہ یہاں کے موضع بھٹی والا گاؤں میں سیکڑوں خاندان جن میں مردو خواتین بچے بوڑھے جوان سب شامل تھے ایڈز جیسی موذی مرض کا شکار ہیں اس وقت کی صوبائی حکومت اس اہم ترین معامہ کو دبانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتی رہی مگر بالآخر چنیوٹ میں بڑھتی ہوئی ایڈز کی مرض اور میڈیا رپورٹس کے باعث اس مسئلہ پر کام تو شروع ہوا جو خانہ پری کے بعد فائلوں میں دفن کر دیا گیا ۔اور اس وقت کی مسلم لیگ ن کی حکومت نے ایڈز جیسی خطرناک مرض کا معاملہ ایک ماہ میں نمٹا کر خود کو اس اچھوت مرض سے علیحدہ کر لیا مگر وہ سلسلہ تاحال جاری ہے جبکہ ڈی ایچ کیو چنیوٹ میں خانہ پوری کیلئے بنایا گیا ایڈز سینٹر افتتاحی تختی کے بعد نہ تو کبھی کھلا اور نہ ہی کسی مریض کو یہاں تک رسائی حاصل ہونے کے بعد زندگی کی روشن امید کیلئے طبی مدد مل سکی اور اس کے بعد نئے پاکستان کا وجود عمل میں آیا جو پاکستان تحریک انصاف کے سیاسی نعرے کی بنیاد ہے۔پاکستان تحریک انصاف نے ملک میں اپنی حکومت قائم کرنے کے بعد اس بات کا دعویٰ کیا تھا کہ اب اس ملک میں غریب عوام کو مفت تعلیم صحت اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنایا جائیگا اور سردار عثمان بزدار کو وزیر اعلیٰ پنجاب اور ڈاکٹر یاسمین راشد کو صوبائی وزیر صحت کا قلمدان سونپ دیا گیا ۔صوبہ پنجاب کی عوام اس بات کی امید لگائے ہوئے تھے کہ سابق حکومتوں کی جانب سے ملنے والی مایوسیوں کا اختتام ہوگیا اور اب پاکستان تحریک انصاف کے بنائے گئے نئے پاکستان میں کئے جانے والے وعدوں اور دعوؤں کی تکمیل ممکن ہوگی مگر صورت حال پہلے سے بھی زیادی ابتر اور افسوسناک ہوتی چلی جا رہی ہے ۔عوام کی توقعات اور امیدیں ہر گزرتے ہوئے لمحہ کے ساتھ دم توڑ رہی ہیں اور نا امیدی اور مایوسی کا سلسلہ بھی طویل تر ہوتا چلا جارہا ہے ۔ضلع چنیوٹ میں مبینہ طور غلط انجکشنوں کے لگنے کے باعث ایک ماہ میں مرنے والے بچوں کی تعداد 3ہو گئی ہے ۔مبینہ طور پر دم توڑ جانے والے ان تین ننھے پھولوں میں چار سالہ فاطمہ دو ماہ کا نعلین اور چھ ماہ کی جنت بی بی شامل ہیں جنہیں زندگی کو محفوظ صحت مند تندرست توانا اور موسمی منفی اثرات سے محفوظ رکھنے کیلئے ان کے والدین نے پنجاب حکومت کے زیر سایہ چلنے والے ادارہ صحت سے رجوع کرکے حفاظتی ٹیکے لگوائے حفاظتی ٹیکے لگنے کے باعث یہ تینوں ننھے معصوم بچے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر دم توڑ گئے تینوں بچوں کی مبینہ ہلاکتوں پر محکمہ صحت چنیوٹ و محکمہ صحت پنجاب کے متعلقہ افسران کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی میڈیا رپورٹس کے مطابق معلوم ہوا ہے کہ چنیوٹ کے علاقہ پورن پلاد کی 4سالہ فاطمہ کو اس کے والدین معمولی مرض کے خاتمہ کیلئے ڈی ایچ کیو لائے جہاں ہسپتال عملہ کی جانب سے لگائے جانے والے انجکشن کے چند گھنٹوں بعد فاطمہ کی حالت غیر ہوگئی اور وہ دم توڑ گئی جبکہ ۔چنیوٹ کے کوٹ محمد یار میں دو ماہ کے نعلین کو سرکاری حفاظتی ٹیکے لگانے والی ٹیم نے جب حفاظتی ٹیکی لگایا تو دو ماہ کا نعلین چند گھنٹوں میں چل بسا جبکہ محلہ معظم شاہ میں بھی حفاظتی انجکشن کے باعث 5 ماہ کی جنت فاطمہ چل بسی،اور گزشتہ ایک ماہ کے دوران ضلع چنیوٹ میں مبینہ سرکاری ویسکین کے غلط انجکشن لگنے سے بچوں کی ہلاکتوں کی تعداد 3 ہوگئی۔ محکمہ ہیلتھ کی جانب سے لگائی جانے والی ویکسین بچوں کو موت کے منہ میں دھکیلنے لگی ہے۔ والدین کی گودیں اجڑنے پر تین گھروں میں صف ماتم ہے۔اور دم توڑنے والے ان تینوں بچوں کے والدین کا کہنا ہے کہ ان کے بچے صحت مند تندرست تھے مگر حفاظتی ٹیکے ان کے بچوں کی موت کا سبب بنے ہیں ۔

اس سارے معاملہ پر ڈپٹی کمشنر چنیوٹ،چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ اور دیگر متعلقہ ذمہ داران کی جانب سے نہ ہی تو کوئی نوٹس لیا گیا اور نہ ہی اس بات کی تحقیقی کروائی جا سکی کہ آخر سرکاری انجکشنوں کے لگنے سے بچوں کی اموات کی وجہ کیا ہے۔اور ضلع چنیوٹ میں زندگی بخشنے والے سرکاری انجکشن معصوم بچوں کو موت کی وادی میں دھکیل رہے ہیں ۔حالانکہ یکے بعد دیگرے ہونے والے ان تین افسوسناک اموات کے بعد ضلع چنیوٹ میں والدین میں شدید خوف پایا جانے لگا ہے اور والدین نے اپنے معصوم بچوں کو حفاظتی سرکاری ویکسین لگوانے سے خوف محسوس کرنا شروع کر دیا ہے ۔ایک جانب تو پنجاب حکومت لاکھوں روپے کی ایڈوٹائزمنت کے ذریعے تشیہری مہم چلارہی ہے کہ اپنے بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے حفاظتی ٹیکے لگوائیں تو دوسری جانب حفاظتی ٹیکے بچوں کیلئے موت کا باعث بنتے جارہے ہیں ۔جاں بحق ہونے والے تینوں بچوں کے والدین نے اپنے معصوم بچوں کی ہلاکتوں پر وزیر اعلیٰ پنجاب نوٹس لینے اور سارے معاملے کی مکمل چھان بین کرنے کے ساتھ ساتھ بچوں کو لگائی جانے والی ویکسین جس میں انجکشن سرفہرست ہیں کو فوری طور پر چیک کروانے کا مطالبہ کیا ہے ، سرکاری حفاظتی ٹیکوں سے معصوم بچوں کی مبینہ طور پر ہلاکتیں محکمہ صحت کے لئے سوالیہ نشان ہیں فوری طور پر ادویات کی کوالٹی چیک کرنا چاہئے جبکہ دوسری جانب لیگی ایم پی اے مولانا الیاس چنیوٹی نے ڈسٹرکٹ پریس کلب چنیوٹ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ضلع چنیوٹ میں مبینہ طور پر لگنے والے غلط انجکشنوں سے ہونے والی بچوں کی ہلاکتوں پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب سے اس امر پر فوری نوٹس لینے اور حقائق سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے ۔پنجاب حکومت کیلئے یہ ایک انتہائی اہم اور سنگین مسئلہ ہے جس پر توجہ دی جانی بہت ضروری ہے تاکہ مزید قیمتی انسانی زندگیوں کو محفوظ بنایا جا سکے ۔


ای پیپر