یار کے بغیر فوٹو پھیکی سی لگے گی ۔۔۔ ؟؟
07 اپریل 2019 2019-04-07

’’بہت ادب سے کھڑے ہو جائیں ۔۔۔‘‘

’’اب آپ کا قومی ترانہ بجایا جائے گا اس قومی ترانہ کے احترام میں کھڑے ہونا آپ کی پاکستان سے محبت کی علامت ہے ۔۔۔‘‘

آپ سینما ہال میں جائیں تو یہ فرض بھی محبت سے ادا کرنا ہوتا ہے۔ لیکن ہم تو یہ کام اب دن میں کئی بار کرتے ہیں کیونکہ بھاٹی لوہاری کے ملک عتیق پہلوان سے بات کرنے سے پہلے ہمیں پاکستان کا قومی ترانہ سننا پڑتا ہے۔ موصوف نے بطور ٹون قومی ترانہ لگا رکھا ہے ۔۔۔؟!

’’ابھی نندن‘‘ کو کیا معلوم کہ ہم پاکستانی اپنے وطن سے کس قدر محبت کرتے ہیں ۔۔۔!!‘‘ یہاں میری مراد پاکستان کے اندر رہنے والے مکروہ چہروں والے ’’ابھی نندن‘‘ بھی ہیں۔ آپ سمجھ گئے ہونگے ۔۔۔؟؟

یہ ملک عتیق پہلوان بہت عرصہ لالہ جی عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی کے ساتھ رہے ۔۔۔ 4، اپریل ویسے بھی اداسی والا دن تھا کیونکہ ہمیں شہید بھٹو سے محبت ہو یا نہ ہو ہمیں اُن سے عقیدت تو بہرحال ہے اور ہم اُن کی عوامی قیادت کے معترف ہیں اور اِسی بات پر اداس اور شرمندہ بھی کہ اِس عظیم سچے عوامی رہنماء کو ضائع کر دیا گیا کس کے حکم پر، کس کس نے ظلم ڈھائے اور کس کس انداز میں ظلم ڈھائے۔ یہ ہم تاریخ میں بارہا پڑھ چکے ہیں ۔۔۔!

اُسی اداسی والی شام فیس بُک پر اِک خبر آئی جس نے ہلا کر رکھ دیا اور اِس سے پہلے کہ یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیلتی ۔۔۔ تردید بھی آ گئی ۔۔۔ ہمارے ہاں ادارے اِس فیس بُک اور دوسرے سوشل میڈیا پر ’’اَن پڑھ‘‘ دانشوروں کی کھیپ پر کنٹرول نہیں کر پائے ۔۔۔ اِن ’’ان پڑھ‘‘ دانشوروں کی کمینگی سے ہماری مسلح افواج، ہمارے وہ راہنما جن سے عقیدت و محبت کی جانی ضروری ہے ۔۔۔ بھی محفوظ نہیں؟؟ حالانکہ یہ ’’اَن پڑھ‘‘ دانشور تعداد میں کچھ زیادہ نہیں لیکن وہ منٹوں میں عوامی رائے پر اثر انداز ہونے لگے ہیں ۔۔۔ اِن میں سے اکثر ۔۔۔ بوقت ضرورت میٹرک کی سند بھی پیش نہیں کر سکیں گے ۔۔۔؟؟

لیکن مسنّدِ عشق پر وہ علامہ اقبال کے پہلو میں بیٹھنے کے خواہشمند ہیں بات ملک کی اکانومی کی ہو یا علامہ مشرقی سرتاج عزیز‘ اسحاق ڈار، اسد عمر کو طفل مکتب سمجھتے ہیں (یہ عجب زمانہ بھی ہمیں دیکھنا تھا؟) غصے میں بھول گیا کہ ایک ڈیڑھ گھنٹہ تو فیس بُک پر لالہ جی عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی کی ’’وفات‘‘ کو یقینی بنانے کی کوشش ہوتی رہی حالانکہ وہ اس وقت تقریباََ تندرستی کی حالت میں اپنے گھر میں بیٹھے راگ جے جے ونتی چھیڑ چکے تھے اور اپنے ماضی میں جھانکتے ہوئے ۔۔۔!

’’ قمیض تیری کالی‘‘

’’ کدی پالئی کدی لالئی‘‘

کا تنقیدی جائزہ بھی لے رہے تھے۔ ملک عتیق پہلوان نے بھی فیس بُک پر ۔۔۔ لالہ جی کے ساتھ اپنی ۔۔۔۔۔۔ کے ڈرائنگ روم میں تیری تازہ تصویر والی پوسٹ لگا دی اور یوں لاکھوں لوگوں کی بے چینی ختم ہوئی ۔۔۔ ویسے ہم نے بھی جھٹ محبت میں یہ شعر اُگل دیا ۔۔۔؂

تیرے اشعار تیرے گیت ہوا میں باقی

تو رہے گا میرے فنکار دعا میں باقی

ہمارے پیارے افتخار مجاز آج اللہ کو پیارے ہو گئے ۔۔۔ شہباز انور خان بتا رہے تھے وفات سے کچھ دن پہلے مجاز نے نعتیہ اشعار لکھے اور بہت خوش تھے ۔۔۔ افتخار مجاز، طارق ضیاء، شہباز انور خان اور میں جب بھی ملتے خوب شرارت بازی ہوتی ان کے پاکستان ٹیلی ویژن پر گزرے ماہ و سال بڑے عالیشان تھے اور ان باتوں ان یادوں سے وہ ہمیں ہر دم محفوظ کرتے ۔۔۔ بر وقت شعر کہنا ۔۔۔ یہ ان کا خاص ہنر تھا ۔۔۔ بڑے شعراء کا بہت سا کلام افتخار مجاز کو ازبر تھا ۔۔۔ میں نے کہا آپ کا میں اپنے کالموں میں اکثر ذکر کر دیتا ہوں برا تو نہیں لگتا ۔۔۔ ہنس کے کہتے۔۔۔؟!

’’حافظ مظفر محسن کی مزاحیہ تحریر میں افتخار مجاز حافظ کے قلم کی زد میں آ جائے یہ فخر کی بات ہے ۔۔۔؟‘‘

ہم نے اِک دوست اخبار کے فوٹو گرافر کو افتخار مجاز کے جنازے پر یہ کہہ کر فوٹو اتارنے سے منع کر دیا ۔۔۔ کے بقول شہباز انور خان ۔۔۔ ’’اپنے یار کے بغیر فوٹو ۔۔۔ پھیکی سی لگے گی‘‘ ۔۔۔

یہ شعر مجھے اک صبح بھیجا تو میں نے سرخی جمائی اور کالم لکھ ڈالو ۔۔۔ صبح سویرے فون آ گیا ۔۔۔ میں نے دعا سلام سے پہلے ہی کہہ دیا ۔۔۔؟!

’’حضور لگتا ہے میرا کالم پڑھ لیا ہے؟؟‘‘

پڑھ بھی لیا ۔۔۔ اور مزہ بھی لے لیا ۔۔۔ ہنستے ہوئے بولے ۔۔۔!

وہ شعر ملاحضہ کریں ۔۔۔؂

دوستوں سے بچھڑ کر یہ حقیقت کھلی فراز

گرچہ ڈرامے باز تھے مگر رونق انہی سے تھی

اللہ پاک ان کی مغفرت فرمائے ۔۔۔ آمین


ای پیپر