پاکستان پر ایک اور جارحیت کا امکان ہے: شاہ محمود قریشی
07 اپریل 2019 (15:14) 2019-04-07

ملتان : وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت ایک نیا منصوبہ تیار کر رہا ہے، پاکستان پر ایک اور جارحیت کا امکان ہے ، ہماری اطلاع کے مطابق 16سے 20اپریل تک یہ کاروائی کی جاسکتی ہے ، مقوضہ کشمیر میں پلوامہ جیسا ایک نیا واقعہ رونما کیا جا سکتا ہے، پاکستان نے سلامتی کونسل کے پانچوں مستقل ارکان کو تشویش سے آگاہ کردیا ہے،بھارت کا بیانیہ عالمی سطح پر بے نقاب ہوچکا ہیکہ اگر بھارت جارحیت کرتا ہے تو ہم دفاع کا حق محفوظ رکھتے ہیں، پاکستان کل بھی امن کا قائل تھا اور آج بھی ہے، پاکستان اور بھارت کے درمیان حل طلب مسائل کو حل ہونا چاہئے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارتی جنگی جنون کے بادل ابھی پوری طرح چھٹے نہیں‘ بھارت ایک نیا منصوبہ تیار کر رہا ہے اور پاکستان پر ایک اور جارحیت کا امکان ہے ، ہماری اطلاع کے مطابق 16سے 20اپریل تک یہ کاروائی کی جاسکتی ہے ، 16سے 20اپریل کے درمیان یہ ایک نیا ناٹک رچایا جا سکتا ہے ، اور مقوضہ کشمیر میں پلوامہ جیسا ایک نیا واقعہ رونما کیا جا سکتا ہے، اس کا مقصد پاکستان پر سفارتی دباؤ بڑھانا ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مصدقہ اطلاعات کو سامنے رکھتے ہوئے وزارت خارجہ نے پی فائیو کے سفیروں کو دعوت دی اور انہیں بھارتی عزائم سے آگاہ کیا۔ پاکستان نے سلامتی کونسل کے پانچوں مستقل ارکان کو تشویش سے آگاہ کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کشمیریوں کی پرامن جدوجہد کو سراہا ہے۔ پاکستان مقبوضہ کشمیر کے متاثرین کے ساتھ تھا اور ہے۔ بھارت کا بیانیہ عالمی سطح پر بے نقاب ہوچکا ہے۔ پاکستان میں سرجیکل سٹرائیکس کے بھارتی دعوے جھوٹے ثابت ہوئے۔ پاکستان ایئر فورس کا طیارہ مار گرانے کا بھارتی دعویٰ بھی دنیا کے سامنے بے نقاب ہوگیا۔ دنیا نے تسلیم کیا کہ بھارت نے پاکستان کا کوئی طیارہ نہیں گرایا۔ بھارت اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے نئی منصوبہ بندی کررہا ہے۔ پاکستان کے پاس قابل بھروسہ اور مصدقہ اطلاعات ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ بھارت ایل او سی پر نہتے شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے ۔ بھارت کا رویہ جارحانہ اور ہمارا مصالحانہ رہا ہے۔ ہم نے جذبہ خیر سگالی کے تحت از خود فوراً بھارتی پائلٹ کو رہا کیا۔ بھارتی پائلٹ کی رہائی کے پاکستانی فیصلے کو دنیا بھر میں سراہا گیا۔ کرتار پور راہداری کھولنے کے معاملے پر بھی بھارت غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کررہا ہے۔ ہم اسی ماہ بھارت کے تین سو ساٹھ قیدیوں کو رہا کرنے کا فیصلہ کررہے ہیں۔ پاکستان کل بھی امن کا قائل تھا اور آج بھی ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان حل طلب مسائل کو حل ہونا چاہئے۔


ای پیپر