خان صاحب ناراض تھے ۔۔
07 اپریل 2019 2019-04-07

دو عشروں کی پولیٹیکل ڈیزائننگ میں سب سے اہم کردارادا کرنے والا قومی احتساب بیورو پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کو گرفتار کر نے کے لئے اتنا تاولا کیوں ہو رہا تھا کہ اس نے پنجاب پولیس کے علاوہ رینجرز کو بھی طلب کر لیا، گھر ہی نہیں اخلاقیات کی دیوار پھلانگنے کے لئے سیڑھی بھی منگوا لی،اس کے عہدیدار نے شہباز گل کی زبان بولنے سے بھی گریز نہ کیاکہ حمزہ شہباز تہہ خانے میں چھپا بیٹھا ہے۔وہاں ہنگاموں سے نمٹنے کیلئے بنائی گئی فورس سیاسی کارکنوں کی تصویریں بنانے کے لئے اپنے سینوں پر لگائے کیمروں کے ساتھ عجیب منظر پیش کر رہی تھی جیسے کسی ٬مزاحیہ فلم کی شوٹنگ ہو رہی ہو۔ اس سے ایک روز پہلے یہ منظر تھا کہ نیب کی ٹیم کے پاس اپنے ہی ادارے کے جاری کردہ اریسٹ وارنٹ تو موجود تھے مگرسرچ وارنٹ نہیں تھے ، نیب کے اہلکار بہرصورت گھر میں داخل ہونا چاہتے تھے ۔

آئیے دیکھتے ہیں کہ حمزہ شہباز شریف کو کس طرح گرفتار کیا جا سکتا ہے۔اس کا ایک سادہ چکر دینے والا طریقہ تو یہی ہے کہ تفتیش کے نام پر بلایا جائے اور جب کوئی شخص چاہے وہ کسی پارٹی کا کسی صوبے کا عبدالعلیم خان جیسا اہم رہنما ہی کیوں نہ ہو اسے گرفتار کر لیا جائے۔ اس کے لئے آپ کے پاس جو ثبوت ہونے چاہئیں وہ ایسے ہونے چاہئیں جو آپ کوخود ہی مطمئن کرسکیں کہ یہ گرفتاری کے لئے کافی ہیں اوراس کے بعد ایک لمبی جیل ہے کہ نیب کے قانون میں ضمانت کا کوئی خانہ ہی نہیں ہے۔ نیب کے گرفتار شدگان کو کم و بیش تین ماہ کے جسمانی ریمانڈ کے بعد ملکی آئین میں درج بنیادی انسانی حقوق کے تحت ہائی کورٹ میں ضمانت کی درخواست دائر کرنا پڑتی ہے۔ یہ گرفتاری اس کے باوجود ہو سکتی ہے کہ آپ نیب کے تفتیشی افسران کے حضور باقاعدگی سے حاضر ہو رہے ہوں ، بے سروپاسوالناموں کے جواب دے رہے اور تمام متعلقہ ریکارڈ فراہم کر رہے ہوں مگر حمزہ شہباز شریف کامعاملہ تھوڑا سا مختلف ہے کہ ان کے حوالے سے ہائی کورٹ دس دن کا نوٹس دئیے بغیر گرفتار نہ کرنے کا فیصلہ دے چکی ہے مگر نیب یہاں سپریم کورٹ کے ایک عمومی فیصلے کو بنیاد بنا رہا تھا جس میں نیب کوکسی بھی ملزم کے خلاف ثبوت ملنے پر گرفتاری کا اختیار دیا گیا ہے۔

کیا حمزہ شہباز شریف ملک سے فرار ہو رہے ہیں کہ نیب ہائیکورٹ کی ڈائریکشن کو نظرانداز کر نا چاہ رہا ہے ۔ یہ وہی حمزہ شہبازہے کہ جب ایک آمر پورے شریف خاندان کو اپنے سیاسی اور حکومتی مفاد کے لئے جلاوطن کرنے پر تیار ہو گیا تھا تو یہ نوجوان اس ہراساں کر دینے والے وقت میںبھی اپنے وطن میں ہی رہا تھا۔ یہ وہی حمزہ شہباز ہے کہ جب اس کے گھر بیرون ملک بیٹی پیدا ہوئی اور اسے دل کا مرض تشخیص کیا گیا تو یہ عدالت کی اجازت سے ملک سے باہر گیا اور پھر وہاں واپس آ گیا جسے بیس میں سے انیس کروڑ زندہ ضمیر شہریوں کی جیل بنا دیا گیا ہے۔حمزہ شہباز، شہباز شریف کے ساتھ رمضان شوگر ملز کے ایک ریفرنس میں بھی شریک ملزم قرار دیا گیا ہے مگر اسی معاملے پر ہائی کورٹ کا ضمانتیں قبول کرنے کا فیصلہ پڑھے جانے کے قابل ہے جو ہمارے احتساب کے عمل کا پول کھول کے رکھ دیتا ہے۔حمزہ شہباز شریف کو گرفتار کرنے کے لئے اب تک دو وجوہات سامنے آ رہی ہیں، پہلی وجہ یہ بیان کی جارہی ہے کہ حکمرانوں کو اس وقت معاشی میدان میں سخت چیلنجز کا سامنا ہے۔ وہ دانشورجو خان کو اقتدار میں لانے کےلئے ’ میرے بچوں کا دودھ بھی نواز شریف پی گیا ہے‘ جیسی بونگیوں کو دلیل کے طور پر پیش کر رہے تھے ان کی بھی آنکھیں کھلنی شروع ہو گئی ہیں اور ان کے بڑوں نے کھلم کھلا قوم سے معافیاں مانگنی شروع کر دی ہیں۔

اس وقت خان کے معاشی ارسطو اسد عمر کی سات، آٹھ ماہ کی کارکردگی کا موازنہ اسحاق ڈار کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ قوم کے سامنے آ رہا ہے کہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک مجموعی طور پر پاکستان کا قرض چھ ہزار ارب روپے تھا مگر پی ٹی آئی نے سات سے آٹھ ماہ کے عرصے میں تئیس سو ارب روپے کا براہ راست قرض لیا اور اگر اس میں روپے کی بے قدری کو شامل کر لیا جائے ( جو ادائیگیوں میں بہر صورت شام ہو گی) تو یہ قرض چھتیس سو ارب روپوں تک پہنچ جاتا ہے۔ اب کوئی ذہنی مریض ہی یہ کہہ سکتا ہے کہ آٹا چاہے دو سو روپے کلو ہوجائے اور پٹرول تین سو روپے لیٹر وہ خان کے ساتھ ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ وہ گروتھ ریٹ جو اسحاق ڈار 5.8پر چھوڑ کر گیا تھا اور اسی دور کے اندازوں کے مطابق اسے اس وقت 6.2 ہونا تھا وہ 3.9 پر آچکا ہے اور ابھی مزید نیچے جائے گا۔ زرمبادلہ کے ذخائر اس وقت 20 ارب ڈالر کو چھو رہے تھے جو ساڑھے 23 ارب ڈالر کی حد سے واپس آئے تھے مگر وہ اس وقت ساڑھے 15 ارب ڈالر کے ارد گرد ہیں جس میں وہ تین ارب ڈالر بھی شامل ہیں جنہیں ہم استعمال نہیں کر سکتے۔ اسحاق ڈار کے زمانے یعنی دو برس پہلے اکتوبر میں اسٹاک ایکسچینج 52ہزارسے 54ہزار پوائنٹس کو چھو رہی تھی اور اسے ایشیاءکی سب سے بڑی ایمرجنگ سٹاک مارکیٹ کہا جا رہا تھا جو اب گر کر 38ہزار سے بھی نیچے ہے۔ اسحاق ڈار کے دور میں کاروبار کرنے کے لئے سٹیٹ بنک نے قرضوں پر شرح سود پونے چھ فیصد پر کر دی تھی جس کے بعد عام کاروباری بینکوں سے قرض آٹھ سے دس فیصد پر مل رہا تھا مگر سٹیٹ بنک نے یہی شرح سود پونے گیارہ فیصد تک بڑھا دی ہے جس کے بعد عام قرض پر سود کی شرح 16فیصد سے بھی آگے جا رہی ہے۔ اسحاق ڈار کے زمانے میں مہنگائی کی شرح چار فیصد سے بھی کم پر آگئی تھی جو اس وقت نو فیصد سے بھی اوپر جا چکی ہے۔

حکومت کو کسی ایسے ڈرامے کی ضرورت ہے جو ان حقائق کو چھپاتے ہوئے اس کے حامیوں کی تسلی کرو اسکے تو اس کا یہی طریقہ ڈھونڈا گیا کہ ایک مرتبہ پھر چور ، چور کا شور مچا تے ہوئے اپوزیشن لیڈر کے گھر چڑھ دوڑو مگر میری نظر میں یہ واحد وجہ نہیں ہے بلکہ یہ دو بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔ اصل وجہ وزیراعظم عمران خان کی وہ برہمی ہے جو انہوں نے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے دوفیصلوں پر دکھائی ہے۔ بتایا جا تا ہے کہ جب ہائی کورٹ کی طرف سے شہباز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالے جانے کا فیصلہ ان تک پہنچا تو وہ ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے جس نے ان کے چہرے کے تاثرات کو واضح طور پر تبدیل کر دیا مگر وہ اس وقت شدید برہمی کے عالم میں میٹنگ سے اٹھ کر چلے گئے جب کچھ ہی دیر بعد ان کو علم ہوا کہ سپریم کورٹ نے طبی بنیادوں پر نواز شریف کو تین ہفتوں کے لئے ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ بات اصولی اور کتابی طور پر کہی جاتی رہے کہ نیب ایک آزاد اور خود مختار ادارہ ہے مگر اس کی آزادی اور خود مختاری مشرف دور سے ہی واضح ہے جب اس نے پولیٹیکل انجینئرنگ میں سپیشلائزیشن کی۔ وزیراعظم کے غصے کو کم کرنے کے لئے اور انہیں رام رکھنے کے لئے ضروری تھا کہ شریف خاندان کے ہی کسی فرد کو قابو کیا جاتا اور اس وقت سب سے آسان شکار حمزہ شہبازشریف ہی تھے ۔ میں اس پر بوجوہ کمنٹ نہیں کرنا چاہتا کہ شہباز شریف کی مفاہمت کی پالیسی کس حد تک کامیاب رہی اور کس حد تک ناکام رہی کہ یہ موضوع ایک الگ کالم کا متقاضی ہے۔

یہ واضح ہو چکا ہے کہ پاکستان کی سیاست، بیوروکریسی اورعوام ٹھہرے ہوئے وقت کے قیدی ہیں۔ یہ وقت پاکستان کے قیا م کے کچھ عرصہ بعد ہی اس وقت ٹھہر گیا تھا جب سیاستدان ایک متفقہ جمہوری آئین تشکیل دینے میں ناکام ہو گئے تھے اوراس کے نتیجے میں غیر جمہوری قوتوں نے اپنا راستہ بنا لیا تھا۔ مادرملت بھی غدار ٹھہری تھیں،ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے آٹھ برس تک ایوب خان کی وزارت کی اور جب عوامی رہنما بنے تو پھانسی پر چڑھا دئیے گئے تھے ، ایسا ہی کچھ معاملہ نواز شریف کے ساتھ ہے کہ وہ ترانوے میں ہی ڈکٹیشن نہیں لوں گا کا نعرہ لگا کر ناقابل قبول ہو گئے تھے ۔ آج اڑسٹھ برس کے عمران خان وہیں کھڑے ہیں جہاں سے ذوالفقار علی بھٹو اورنواز شریف نے اپنی اننگز شروع کی تھی اور انہیں خوش رکھنے کے لئے اپوزیشن لیڈروں کوجوتے وغیرہ مارنے کوئی بڑی بات نہیں، وہ یقینا خوش ہوئے ہوں گے۔


ای پیپر