لہو لہان کشمیر و فلسطین اور افغانستان!
07 اپریل 2018


یوں تو پورا عالمِ اسلام ظلم کی چکی میں پس رہا ہے اور ہمارا جسدِ ملّی بری طرح لہولہان ہے تاہم چند دنوں سے فلسطین ، کشمیر اور افغانستان میں ظلم و بربریت کا عفریت ننگا ناچ ناچ رہا ہے۔ فلسطین کرہ ارضی پر وہ مقدس جگہ ہے جسے سرزمین انبیاء کہاجاتاہے۔ دنیا کے اسی خطے میں قبلہ اول بیت المقدس واقع ہے ۔ یہی آنحضور ﷺ کے سفر معراج میں پہلی منزل قرار پایا۔ اس سرزمین پر ہمارے محبوب انبیاء ؑ کے علاوہ ہمیں دل و جان سے عزیز صحابہ کرامؓ کی قبریں اور یادگاریں موجود ہیں۔ فلسطین ہر اصول اور ضابطے کے تحت فلسطینیوں کا ہے ۔ ظلم کی انتہا ہے کہ اس مظلوم خطے پر قابض خبیث صہیونی قوتیں دنیا کے شیطان اکبر امریکہ کی مکمل سرپرستی اور آشیر باد سے نہ صرف قابض ہیں بلکہ ابنائے وطن سے زندگی کا حق بھی انہوں نے چھین لیا ہے۔ عالم اسلام سے مقتدر شخصیات یہ اعلان تو کرتی ہیں کہ فلسطین پر اسرائیلیوں کا حق ہے، مگر وہ یہ منطق ثابت نہیں کرتیں کہ یہ حق کس بنیاد پر ہے۔ قبضہ کرلینا اور مادی قوت کے بل بوتے پر حق داروں کو ان کے حق سے محروم کردینا کہاں کی انسانیت ہے اور انصاف کے کس پیمانے سے اس کا جواز تلاش کیا جاسکتا ہے؟
فلسطینیوں اور کشمیریوں کا خون پانی سے بھی ارزاں ہوگیاہے۔ انسانی حقوق کی بے شمار تنظیمیں جھک مارتی پھرتی ہیں مگر کیا فلسطین و کشمیر اور قندوز میں ڈھائے جانے والے قیامت خیزمظالم ان کو نظر نہیں آتے ؟ہر روز معصوم بچوں سے لے کر بے گناہ نوجوانوں اور سفید ریش بزرگوں تک بلکہ حوا کی عفت مآب نوخیز بیٹیوں سے لے کر بزرگ خواتین تک دونوں خطوں میں انسانوں کے لاشے گرائے جاتے ہیں۔ شہدا کی تدفین پر بھی گولیاں چلائی جاتی ہیں۔ قندوز میں حفظ قرآن کی تکمیل پر منعقدہ تقریب پر بمباری کرکے بے گناہ حفاظ و علما کی لاشوں سے مقتل بھر دیا گیا۔ ان درندوں سے کوئی پوچھنے والا نہیں کہ انہیں قتل عام کا لائسنس کس نے اور کیوں دیا ہے ؟اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ جب کسی قوم و ملک کے ارباب حل و عقد بزدلی کا شکار ہوجاتے ہیں تو دنیا میں ان کی حیثیت پرِ کاہ کے برابر بھی نہیں رہتی ۔ اُمت مسلمہ کے حکمرانوں میں دشمن کے ایجنٹ تو کھلے عام نظر آتے ہیں مگر کوئی ایک بھی صلاح الدین ایوبیؒ ،محمدبن قاسم ؒ ،سلطان محمود غزنوی ؒ اور طارق بن زیادؒ اُمت کے دامن میں موجود نہیں ۔
تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات!
آج اُمت مسلمہ میں حدیث پاک کے مطابق وہن کی بیماری پیداہوچکی ہے۔ حدیث میں فرمایا گیاہے کہ :’’تم پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ تمھارے دشمن تمہارے اوپر یوں جھپٹیں گے جس طرح بھوکے دسترخوان پر جھپٹتے ہیں ۔‘‘ عرض کیا گیا یارسول اللہ ؐ کیا ہماری تعداد کم ہوجائے گی ؟ فرمایا ’’نہیں تمہاری تعداد بہت زیادہ ہوگی مگر تم سیلابی پانی کے جھاگ کی طرح بے وزن ہوجاؤ گے اور تمہارے اندر وہن پیداہوجائے گا۔‘‘ پوچھا گیا یارسول اللہ ؐ ! وہن کیاہے ؟ آپ ؐ نے فرمایا ’’فانی زندگی کی محبت اور موت کاخوف ۔ ‘‘آج اسی وہن نے سارے وسائل ہونے کے باوجود اُمت مسلمہ کو بے وزن اور بے وقار کردیاہے۔ کبھی ایک بہن کی پکار پر محمدبن قاسمؒ سرزمین عرب سے طویل سفر کرکے سندھ کے ساحلوں پر مدد کے لیے آپہنچاتھا۔ ایک بیٹی کی پکار پر معتصم باللہ بغداد سے روم پہنچ گیاتھا۔ مسلمان تو مسلمان، ہم نے تو غیر مسلم ہسپانوی مظلومین کی پکار بھی لبیک کہا تھا اور طارق بن زیاد نے اندلس کے ساحل پرکشتیاں جلا دیں اور مظلومین کی مدد کا حق ادا کیا تھا۔ آج کس کو آواز دیں اور کس سے فریاد کریں ۔اے اللہ ! تو ہی قادر مطلق ہے ،اپنے مظلوم بندوں کی تو ہی مدد فرما۔
اس اندھیر نگری میں ترکی کے حکمران طیب رجب اردوگان بہرحال غنیمت ہیں کہ جو کم ازکم ان مظالم پر جرأت مندانہ آواز تو اٹھاتے ہیں۔ باقی تو سب کچرے کاڈھیر ہیں۔ فلسطینی اور کشمیری حریت پسند بہت قربانیاں دے چکے ہیں ۔ ان کے حوصلے پست نہیں ہوئے ۔ دنیا کے شیطانِ اکبر امریکہ نے صہیونی سانپ اور بنیے بچھو پال رکھے ہیں ۔ ان کاعلاج ضرب حیدری میں ہے ۔ ضرب حیدری ریاستی ذمہ داری ہے۔ اے کاش ! مظلوم فلسطینیوں کے چاروں طرف پھیلے ہوئے عرب مسلمان عوام اور حکمران بیدار ہوجائیں۔ اپنے باہمی جھگڑے اور جنگ و جدل بند کرکے ظلم کے خاتمے کا فرض ادا کریں ۔ حیف صد حیف کہ جدید دنیا کی پہلی ریاست جواسلام کے نام پر وجود میں آئی اور جسے عالم اسلام میں واحد ایٹمی قوت ہونے کا شرف حاصل ہے، وہ کشمیریوں کی داد رسی کا فرض ادا نہ کرسکی ۔ کشمیر علاقہ غیر نہیں پاکستان کی شہ رگ ہے۔ کشمیری مظلومین گزشتہ پوری صدی سے ڈوگرا راج سے لے کر بھارتی تسلط تک ظلم پہ ظلم سہتے چلے آرہے ہیں۔ مگر ان کے دلوں سے پاکستان کی محبت نہیں نکالی جاسکی۔ کشمیری پاکستان کے ہیں اور کشمیر جنت نظیر کسی صورت بنیے کی جاگیر نہیں ہوسکتی ۔ کشمیریو ! ہمت نہ ہارنا کیا معلوم کب نیلی چھت والا اپنا فیصلہ صادر کردے۔ اس کی حکمتیں وہی جانتاہے ۔ البتہ اُمت مسلمہ کے نام یہ پیغام ہے کہ اپنے حصے کا کام ہمیں خود کرناہے ۔ فلسطین اور کشمیر کا قرض ہر مسلمان کو ادا کرنا ہے۔
اقوام متحدہ ہو یا دیگر ادارے وہ ظلم اور ظالم کے ساتھی ہیں۔ مظلوم کی داد رسی کسی ادارے نے آج تک نہیں کی ۔ عرب لیگ اور او آئی سی محض کاغذی تنظیمیں بن کر رہ گئی ہیں ۔ کشمیر و فلسطین اور افغانستان میں جاری حریت پسندوں کی جدوجہد ان شاء اللہ کامیابی سے ہمکنار ہوگی ۔ بھارتی صلیبی اور صہیونی درندوں کے حق میں آواز اٹھانے والے ضرور اپنے کیے کی سزا پائیں گے۔آنحضور ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ :’’اللہ تبارک وتعالیٰ مظلوم کی ضرور داد رسی کرتاہے ، اس کے ہاں دیر تو ہے اندھیر نہیں ۔‘‘آپؐ نے یہ بھی فرمایا :’’مظلوم کی آہ و بددعا سے بچو کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہے۔ ‘‘کشمیری اور فلسطینی مظلومو! جس کلمہ گو کے دل میں ایمان کی حقیقی رمق بھی موجود ہے وہ تمہارے دکھ کو اپنا دکھ سمجھتاہے۔ تمہارے شہداء کے اجسادِ اطہر کو دیکھ کر خون کے آنسو روتاہے۔ راتوں کو اٹھ اٹھ کر تمہارے لیے دعائیں کرتاہے اور اللہ سے فریاد کرتاہے کہ رب ذوالجلال کوئی غیرت مند سپوت اُمت کے زخموں پر مرہم رکھنے کے لیے میدان کارزار میں اتار دے ۔
ہم درد دل کے ساتھ عرض گزار ہیں کہ پاکستانی قوم کو سارے اختلافات بھلا کر کشمیر کے تازہ ترین مظالم پر متفقہ اور جرأت مندانہ موقف اختیار کرکے کم ازکم مظلوم کشمیریوں کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار تو کرنا چاہیے۔ خوش آئند ہے کہ پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلانے اور آل پارٹیز کانفرنس منعقد کرنے کی تجاویز اپوزیشن اور حکمران دونوں فریقوں کی طرف سے سننے میں آ رہی ہیں۔ یوم یکجہتی کشمیر بھی خوش آیند ہے مگر سچی بات یہ ہے کہ ایک یوم نہیں ہر دن اور خصوصاً ہر رات ان مظلومین کے دکھوں کو یاد کرنا اور اللہ سے مناجات ہر بندۂ مومن کا فرض ہے۔
اے خاصۂ خاصانِ رسل وقتِ دعا ہے
امت پہ تیری آ کے عجب وقت پڑا ہے
یہ سطور لکھی جارہی تھیں کہ افغانستان سے یہ دلدوز خبر موصول ہوئی ’’تکمیل تحفیظ القرآن کی محفل پر امریکی طیارے نے بم برسائے جس کے نتیجے میں سو سے زاید حفاظ کرام اور دیگر شرکاء شہید ہوگئے ۔‘‘ ان شہداء کی تصاویر میڈیا پر سب لوگوں نے دیکھی ہیں ۔ ان جنتیوں کے مسکراتے چہرے اپنی جگہ مگر ظلم کی اس سیاہ رات کاانجام کیاہوگا؟اُمت مسلمہ کے ہر حکمران سے یہ خون شہیداں سوال کررہاہے ۔اس سوال کا جواب روز قیامت بھی مسلمان اہل اقتدار کو دینا پڑے گا۔ رہے یہ شہدا تو ان کی پر رونق اور ایمان افروز محفل اور تلاوتِ قرآن تو جنت کی وسعتوں میں بھی جاری و ساری ہوگی۔ ہمارے مسلمان بھائی بند موت کی وادی میں اتر کر بھی زندہ ہیں کہ یہ رب کائنات کا محکم فیصلہ ہے اور مردار یہود و ہنود جہنم کا ایندھن ہیں۔ اللہ نے فرمایا :’’اس گروہ کے تعاقب میں کمزوری نہ دکھاؤ۔ اگر تم تکلیف اٹھا رہے ہو تو تمھاری طرح وہ بھی تکلیف اٹھارہے ہیں۔ اور تم اللہ سے اس چیز کے امیدار ہو جس کے وہ امیدوار نہیں۔ اللہ سب کچھ جانتا ہے اور وہ حکیم و دانا ہے۔‘‘(النساء۴:۴۰۱)


ای پیپر