’’پُت‘‘ بسمہ اللہ۔۔۔
07 اپریل 2018


چند روز قبل لاہور میں بد قسمت مامتا نے اپنے تین بچوں کو موت کی نیند سلا دیا،3 بچوں کے پر اسرار قتل کا کیس منظر عام پر آیاتوہر ذی شعور کانپ اٹھاکہ ایک ماں بھی اپنے بچوں کی جان لے سکتی ہے ۔ سانحہ کے بعد بچوں کے والد نے بچوں کی ماں پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے بچوں کو قتل کیا ہے تاہم خاتون نے اس بات سے انکار کرتے ہوئے سارا ملبہ اپنے دوست پر ڈال دیا، تاہم دوران تفتیش ملزمہ انیقہ نے تینوں بچوں کو قتل کرنے کا اعتراف کر لیا، اس کا کہنا تھا کہ وہ اپنے دوست سے دوسری شادی کرنا چاہتی تھی مگر وہ اس کے بچوں کو قبول نہیں کر رہا تھا، ملزمہ کا مزید کہنا تھا کہ جس وقت اس سے یہ جرم سر زد ہوا وہ شدید نشے کی حالت میں تھی اور اس نے تینوں بچوں کا سانس روک کر انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا، ملزمہ کا کہنا تھا کہ اس کا جرم سنگین ہے اور اسے معافی نہیں ملنی چاہیے،اس کا کہنا تھا کہ اس کی سزا صرف اور صرف موت ہے ۔
قاتل بھی یار تھے مقتول بھی عزیز
واصف میں اپنے آپ میں نادم بڑا ہوں
قارئین ذرا سوچئے کہ کتنے انسانی رشتے ہیں۔ماں، باپ، تایا تائی، ماما مامی، بہن بھائی، بھانجے بھانجیاں، بھتیجے بھتیجیاں، نانا نانی، دادا دادی، خاوند، بیوی کے خوبصورت ناتے سمیت دیگر رشتہ داریاں دنیا میں ہیں مگر میرے اللہ کی مرضی دیکھیں صرف ماں کی قسم کھائی کہ بندے کو ’’ستر ماؤں‘‘ جتنا پیار کرتا ہوں، شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے باپ ذرا سخت دل ہوتا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں ماں بہت نرم دل اور شفیق ہوتی ہے ،ویسے مالک نے جنت ماں کے قدموں تلے رکھ دی ہے اوریہ اتنا بڑا اعزاز ہے کہ دنیا کا بڑے سے بڑا اعزاز بھی اس کے سامنے ہیچ ہے کیونکہ یہ انسان خواہ عام آدمی ہے یا بڑے سے بڑا دانشور، عالم دین، بادشاہ حتیٰ کہ ولی یا پیغمبر اسے ماں ہی نے جنم دیا ہے، ماں کی عظمت اور شان کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قیامت کے دن جب میدان محشر میں یوم حساب کے لیے تمام انسان جمع ہوں گے تو وہاں انہیں ماں کی وساطت سے پکارا جائے گا، آج ہمیں اپنی تمام کامیابیاں اور خوشیاں اس وقت ادھوری محسوس ہوتی ہیں کہ جب ہمارے لیے دعائیں کرنے والی ماں نظر نہیں آتی کہ ہم اپنی کامیابیاں ان کو بتا سکیں، ہر بچہ ہمیشہ اپنی ماں کی شفقت اور محبت سے بھری ٹھنڈی چھاؤں میں ہی اپنے آپ کو دنیا کا سب سے خوش قسمت، محفوظ اور کامیاب انسان سمجھتا ہے، ماں رب کریم کا عظیم تحفہ ہے اور دنیا کے بڑے بڑے دانشوروں اور عظیم لوگوں نے اپنی کامیابی کے پیچھے اگر سب سے زیادہ کسی چیز کی اہمیت کو محسوس کیا تو وہ ماں کی دعا ہے۔
آپ کسی جانور کو دیکھیں کسی بھی آفت کی صورت میں بچوں کی حفاظت کیلئے خود حالات کا مقابلہ کرتے ہیں مجال ہے بچوں پر آنچ آنے دیں لیکن افسوس صد افسوس یہ کیسی ماں ہے جس نے خود ہی اپنے تین پھول مسل ڈالے وہ بھی اپنے آشنا کیلئے ؟ماں تو وہ ہستی ہے کہ جو ہر سانس پہ کہتی ہے ’’ پُت ‘‘ بسمہ اللہ ، بچہ گھر سے جائے یا آئے ماں دعائیں دیتی نہیں تھکتی، ایک واحد ماں دنیا کی عظیم ہستی ہے جو اپنے علاوہ بھی تمام بچوں کی زندگی، صحت کیلئے دعا مانگتی ہے اور اس میں کسی قسم کا کوئی لالچ شامل نہیں ہوتا۔ یقین مانیں وہی ماں ہوتی ہے جو بچے کو سوکھی جگہ کرکے خود گیلی جگہ پہ بیٹھ جاتی ہے، لیٹ جاتی ہے، ایک یہ بھی ماں ہے کہ اپنے ہی جگر گوشوں کو روند ڈالا، مرد ہو یا عورت اس طرح کے سانحہ کے بعد مذکورہ شخص انسان کہلانے کا حق دار ہرگز نہیں؟ حدیث پاک ہے کہ سرکار دو عالمؐ نے فرمایا کہ ’جو غصے کی حالت میں خاموش رہا وہ نجات پا گیا، ملزمہ انیقہ کو ہی دیکھ لیں جس نے آشنا کے شادی سے انکار پر غصے کی حالت میں بچوں کو کھا لیا، اس ’’سپنی ‘‘ کی طرح جو بچے پیدا ہوتے ہی کھانا شروع کر دیتی ہے۔ کئی بچ جاتے ہیں وہ خوش قسمت کہلاتے ہیں۔
پہلے ڈرتی تھی اِک پتنگے سے
ماں ہوں اب سانپ مار سکتی ہوں
لیکن یہ کیسی ماں ہے کہ جس نے اپنا گھروندا خود ہی اجاڑ دیا، انیقہ کے ہاتھوں تینوں بچے موت کی وادی میں اتر گئے، ملزمہ انیقہ بھی سپنی ہے جس نے اپنے ہی بچے کھا لئے، اس دلخراش واقعہ کا ذمہ دار معاشرہ ہے یا ریاست، ریاست سے مراد سوہنی دھرتی نہیں بلکہ حکمران ہیں، حکومت ریاست کی نمائندگی کرتی ہے، مگر وہ اپنے معاملات میں مصروف اور عوام بنیادی سہولتوں سے محروم، مگر ایک ماں کی بے حسی کسی صورت معاف نہیں کی جا سکتی، کیونکہ اسی ماں کی قسمیں اللہ کریم کھا رہا ہے۔
Back to Conversion Tool

Urdu Home


ای پیپر