طالبان اور حقانی نیٹ ورک کو افغان سیاسی عمل کا حصہ ہونا چاہیے : اعزاز چوہدری
07 اپریل 2018 (14:43) 2018-04-07

واشنگٹن: امریکا میں پاکستان کے سفیر اعزاز چوہدری نے کہا ہے کہ طالبان اور حقانی نیٹ ورک کو افغانستان کے سیاسی عمل کا حصہ ہونا چاہیے ، افغان تنازع کا فوجی حل ممکن نہیں،بھارتی قابض فورسزنے ظلم و بربریت اورماروائے عدالت قتل کا نیا دور شروع کررکھا ہے، امریکا سمیت عالمی برادری بھارتی مظالم کیخلاف آواز اٹھائے،پاک امریکا تعلقات میں عدم اعتماد سے انسداد دہشت گردی آپریشن کوبھی نقصان پہنچے گا، اپنی سرزمین کسی کیخلاف استعمال نہ ہونے دینے کے عزم پر قائم ہیں ۔


واشنگٹن میں عالمی میڈیا سے گفتگو کے دوران امریکا میں پاکستانی سفیر اعزاز چوہدری نے صحافیوں کو مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا۔ اعزاز چوہدری نے کہا کہ بھارتی قابض فورسزنے ظلم و بربریت اورماروائے عدالت قتل کا نیا دور شروع کررکھا ہے، پاکستان اس ظالمانہ اقدامات کی سختی سے مذمت کرتاہے جب کہ امریکا سمیت عالمی برادری بھارتی مظالم کیخلاف آواز اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ پاک امریکا تعلقات مشترکہ احترام پر مبنی ہونے چاہئیں، تشویش اورخدشات دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے نقصان دہ ہیں، تعلقات میں عدم اعتماد سے انسداد دہشت گردی آپریشن کوبھی نقصان پہنچے گا جب کہ تعلقات میں عدم اعتماد سے افغان امن عمل کو دھچکا لگے گا۔

اعزاز چوہدری نے کہا کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے، افغانستان میں قیام امن کے لیے افغان قیادت کی شمولیت ضروری ہے جب کہ طالبان اور حقانی نیٹ ورک کو افغانستان کے سیاسی عمل کا حصہ ہونا چاہیے ۔ اعزاز چوہدری نے مزید کہا کہ اپنی سرزمین کسی کیخلاف استعمال نہ ہونے دینے کے عزم پر قائم ہیں۔


ای پیپر