کشمیری بھارت کے غلام نہیں
07 اپریل 2018


مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ کشمیری بھارت کے فوجی قبضے اورظلم وجبر کے آگے کبھی سرینڈر نہیں کریں گے اور اپنی جدوجہد صبح آزادی تک ہر قیمت پر جاری رکھیں گے۔ سید علی گیلانی نے شوپیاں مارچ کو طاقت کے بل پرروکنے اور حریت رہنماؤں کو گھروں ، تھانوں اور جیلوں میں نظر بند رکھنے کے قابض انتظامیہ کے اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے کھلی غنڈہ گردی قرار دیا۔
پولیس نے حریت کانفرنس کے لیے جن لیڈروں اور کارکنوں کو گھروں اور تھانوں میں نظربند کردیا ہے ان میں محمد اشرف صحرائی، حاجی غلام نبی سمجھی، غلام احمد گلزار، عمر عادل ڈار، شامل ہیں۔ بقول سید علی گیلانی بھارتی سینٹرل ریزرو پولیس نے ان کے گھر کے مرکزی دروازے کو باہر سے ہاکر لگا کر بندکر دیا اور انہیں باہر آنے کی اجازت نہیں دی۔ ان کے گھر کی طرف جانے والی سڑک بھی خار دار تار کے ذریعے بند کر دی گئی تھی۔ بھارت برطانوی سامراج سے آزاد ی پا کر طاقت کے نشے میں اس قدرمبتلا ہو گیا کہ اس نے جموں کشمیر کی سرزمین پر فوجی قبضہ جمالیا اور اسکے ساتھ ہی نومبر ، دسمبر1947 کے مہینوں میں جموں میں 5لاکھ مسلمانوں کو قتل کیا گیا اوریہ سلسلہ آج تک برابر جاری ہے۔ گزشتہ 27برس کے دوران ایک لاکھ سے زائد کشمیریوں کو شہید کیا گیا۔
کشمیریوں نے بھارت کے غیر قانونی قبضے کو کبھی تسلیم نہیں کیا اور وہ بھارتی تسلط سے آزادی کیلئے بے مثال قربانیاں دے رہے ہیں۔ ایک طرف بے گناہ کشمیری نوجوانوں کو منصوبہ بند طریقے سے قتل کیا جارہا ہے جبکہ دوسری طرف کشمیریوں کو انکے قتل پر احتجاج کی بھی اجازت نہیں دی جا رہی۔
سید علی گیلانی نے کشمیرکے بارے میں اقوامِ متحدہ کے جنرل سیکریٹری کے حالیہ بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا بیان بازیوں سے آج تک کچھ حاصل نہیں ہوا ہے اور نہ ہی آئندہ کچھ حاصل ہو گاہے لہذا ضروری ہے کہ عالمی ادارہ اپنی پاس کردہ قراردادوں پر عمل درآمد اور کشمیریوں کو حق خو د ارادیت دلانے کیلئے ٹھوس کردار ادا کرے۔ اقوام متحدہ بار بار یہ کہہ رہا ہے کہ پاکستان اور بھارت بات چیت کے ذریعے اس مسئلے کو حل کریں لیکن وہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان اب تک 150سے زائد بار بات چیت ہوئی ، لیکن تنازعہ کشمیر جوں کا توں ہے۔
بھارت نے اٹوٹ انگ کی رٹ لگائی ہوئی ہے جبکہ جموں وکشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ ایک متنازعہ خطہ ہے جسکے سیاسی مستقبل کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔ کشمیریوں کا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کشمیریوں کو بھارت کے چنگل سے ضرور آزاد کرے گا۔
یہ حقیقت ہے کہ جموں کشمیر بھارت کی دائمی غلامی میں نہیں رہ سکتا۔ کشمیری عوام پاکستان اور بین الاقوامی برادری کی حمایت سے آزادی حاصل کر کے رہیں گے۔ کشمیر کے پہاڑوں دریاؤں ندی نالوں وادیوں اور بازاروں میں ایک ہی مقصد ایک ہی آواز اور ایک ہی نعروہ گونجتا ہے۔ آزادی مرد خواتین نوجوانوں اور بچے یک زبان ہو کر کہتے ہیں "گوانڈیا گو بیک " کشمیری قوم کی بھارت سے بیزاری اور نفرت کی کئی وجوہات ہیں۔
گزشتہ کئی مہینوں سے کشمیر عوام ایک اور المیے سے گزر رہے ہیں۔ بھارت کی قابض افواج تمام انسانی اقدار کو بالائے طاق رکھتے ہوئے سینکڑوں افراد کو قتل، سینکڑوں کو نابینا بنا چکی ہیں۔ ہزاروں افراد زخمی ہیں۔ خواتین کی بے حرمتی اور عصمت دری کی جاتی ہے۔ مردوں کو گھروں سے اٹھا کر غائب کر دیا جاتا ہے۔ پابند سلاسل نوجوانوں کو کسی الزام اور عدالتی کارروائی کے بغیر بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ماورائے عدالت قتل کیے جاتے ہیں۔
کشمیر اب کوئی تنازعہ یا مسئلہ نہیں رہا بلکہ آزادی کی تحریک بن گئی ہے۔ آزادی کشمیریوں کے ڈی این اے کا جزو ہے۔ یہ تمام جرائم اقوام متحدہ کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں کیونکہ ان کا براہ راست تعلق امن سلامتی ، انسانی حقوق ، عالمی انسانی اور بین الاقوامی قوانین سے ہے۔ مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیاء کے عوام کی پائیدار ترقی خوشحالی اور رابطوں کی عمومی خواہشات کی تکمیل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
بھارت کی کشمیر میں تمام سازشیں ناکام ہوچکی ہیں۔کشمیر ی ہر قیمت پر آزادی چاہتے ہیں۔ تاکہ ہندو بنئے کی غلامی سے نجات حاصل کرسکیں۔ مودی سرکار ابھی تک سازشوں کے جال بن کربھی ناکام ہوچکی ہے۔ اسے پتا ہے کہ کشمیری اور پاکستانی یک جاں و دوقالب ہیں جنہیں علیحدہ نہیں کیا جاسکتا۔ کشمیر میں مظالم پر عالم اسلام میں تشویش پائی جاتی ہے۔ہمارامطالبہ ہے کیا کہ عالمی برادری بے ضمیری چھوڑ کر کشمیریوں کے حال پر رحم کرے۔اقوام متحد ہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا حل تلاش نہ کیا گیا تو خطے میں امن قائم نہیں ہوسکے گا۔کشمیریوں اور پاکستانیوں کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں۔ کشمیری آزادی کی جنگ صدیوں تک لڑیں گے اور بھارت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبو ر کریں گے۔عوام کی کشمیر کے ساتھ وابستگی کلمہ طیبہ کی بنیا د اور تقسیم برصغیر کے نامکمل ایجنڈے کی بنیاد پر ہے۔
گزشتہ ہفتے کشمیری نوجوانوں کی شہادت نے واضح کردیا ہے کہ کشمیری اپنی آزاد ی کی جنگ صدیوں تک لڑسکتے ہیں۔ بھارت80ہزار سے زائد کشمیریوں کو شہید کرچکا۔ مگر استقامت ہے کشمیری ماؤں کی جو اپنے بچوں کی شہادت پر فخر کرتی ہیں۔لیکن عالمی برادری کی بے حسی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ کشمیری بھائیوں سے یوم یکجہتی کلمہ طیبہ کی بنیاد پر عزم کا اظہار ہے۔جس سے پیچھے نہیں ہٹا جاسکتا،کبھی حکمران سستی کا مظاہرہ کربھی لیں توعوام کے دل کشمیریوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔
گذشتہ 5 روز سے بین الاقوامی برادری کو احساس دلوانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں مظالم کو بند کروانے کے لئے کردار ادا کرے۔مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں پر مظالم کے حوالے سے ایران، ترکی، او آئی سی سیکریٹری جنرل کے اظہار یکجہتی کے بیانات آ چکے ہیں۔پاکستان نے اس بربریت کی بھرپور انداز میں مذمت کی ہے۔ یہ بھارتی ریاستی دہشت گردی کا گھناؤ نا چہرہ عیاں کرتا ہے جو بھارت نے کئی دہائیوں سے کشمیریوں کے خلاف شروع کر رکھا ہے۔ وزیراعظم پاکستان نے ہدایت کی ہے کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں زخمی ہونے والے تمام کشمیریوں کے علاج معالجہ کا سارا خرچ پاکستان برداشت کرے گا چاہے وہ دنیا میں کہیں بھی علاج کروانا چاہیں۔


ای پیپر