احساس مروت
07 اپریل 2018


جاپان سے آمدہ خبر نے ہماری پشیمانی میں اضافے کا سامان پیدا کردیا ہے۔ دل کی موت کیلئے ایسی مشینوں کی حکومت کا اہتمام کیا ہے کہ آلات سے احساس مروت کو کچلنے کا پورا پورا بندوبست دکھائی دیتا ہے۔ ہر چند کہ جاپانی قوم دنیا بھر میں نر م خوئی ،ادب و احترام میں کوئی ثانی نہیں رکھتی، یہی معاملہ ان کے کردار کا بھی ہے جس کی تصدیق 2004ء کے اس سونامی سے ہوتی ہے کہ جب وہ تھم گیا تو گھر کو لوٹنے والے باشندوں کی گھرسے ایک سوئی بھی غائب نہ ہوئی تھی کسی سرزمین پے اگر اس طرز کا کوئی سانحہ ہوتا تو مفاد پرست گھر کے گھر لوٹ لینے میں ذرا بھر بھی تاخیر نہ کرتے۔
خبر کا تعلق خالصتاً جاپان کی سماجی زندگی سے ہے لیکن ہمارے دل کی دھڑکن تیز ہونے کا سبب اس کے مابعد اثرات ہیں جو بتدریج دیگر معاشروں میں اثر پذیر ہوتے ہیں اور پھر وہاں پورے کلچر ہی کو بدل کے رکھ دیتے ہیں اس کی ایک مثال اولڈ ہومز کی بھی ہے جس کا مشرقی معاشرہ میں تصور بھی عنقا تھا۔ لیکن ارض پاک کی غالب آبادی والے صوبہ پنجاب میں ان کی تعداد پچاس سے زائد ہے ۔مستقبل بعید میں ان کے بڑھنے کے امکانات کا عندیہ دیا جارہا ہے۔ اسلامی اقدار، روایات کی حامل اس سوسائٹی میں یہ خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں جہاں گھر کے بڑوں کو رحمت کی بجائے زحمت تصور کیا جانے لگا ہے۔
جاپان کے بارے میں ہم بخوبی جانتے ہیں کہ وہاں کی آبادی کا قابل ذکر حصہ بزرگوں پر مشتمل ہے جن میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے ایک محتاط اندازے کے مطابق جاپان کی حکومت کو سالانہ کی بنیاد پر سینکڑوں تعلیمی اداروں کو ’’ کیئر ہاؤسز ‘‘ میں تبدیل کرنا پڑرہا ہے جن میں بزرگ شہریوں کو رکھا جاتا ہے جہاں ان کی بنیادی ضروریات پورا کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی صحت اور ورزش کا بھی اہتمام ہوتا ہے۔ تازہ خبر یہ ہے کہ جاپانی حکومت نے بڑی تعداد میں روبوٹ خرید کئے ہیں جو ان بزرگوں کو باقاعدہ ورزش کروایا کریں گے۔ نیز سنسر کے ذریعہ ان کے پیغامات کو ہسپتال یا کیئر ہاؤسز کی انتظامیہ تک پہنچانے میں معاون ثابت ہوں گے ۔وہ بزرگ شہری جو اپنے دل کی بھڑا س نکالنے یا اندر کی بات بتانے کیلئے کسی ڈاکٹر ، نرس یا وارڈ بوائے تک رسائی رکھتے تھے جو ان کی آواز پر لبیک کہتے تھے ان کی دل جوئی کرتے ان کے آنسوپونچھتے اور ان سے اٹکھیلیاں کرتے تھے۔گمان ہے کہ جاپانی بزرگ شہری روبوٹ کی آمد پر اس سہولت سے محروم ہوجائیں گے۔ جاپانی حکومت ان بدقسمت بزرگ شہریوں کے جذبات کو جاننے کا نیا کیا اہتمام کرتی ہے اس بارے میں راوی تاحال خاموش ہے۔
ہمارے سماج میں اب بہت سی تبدیلیاں آتی جارہی ہیں، اولڈ ہومز کا قیام اس کی پہلی علامت ہے ۔نسل نو کے رویوں سے ہماری بزرگ کلاس نالاں بھی ہے، بعض اوقات انجانے میں بچے والدین کے جذبات سے کھیل جاتے ہیں لیکن والدین مروت میں اس پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کرتے۔
راقم اپنے والد محترم ،محمد اصغر کے ساتھ پاک ایئر فورس کی کالونی میں کراچی ایک سال قریباً مقیم رہا ان کے قریبی رفیق عمدہ خاں جنہیں ان کے بچے اورھم انکل کہاں کرتے تھے وہ ماڈل کالونی کراچی رہائش پذیر تھے۔ یہ اسی کی دہائی کا عہد تھا جب کراچی واقعی روشنیوں کا شہر تھا۔ جب ہم ان کے ہاں رات قیام کرتے تو ان کی صبح عموماً تعطیل کے روز 2بجے دوپہر ہوتی۔ یہ شاید پورے کراچی کا ماحول تھا۔ دیہاتی پس منظر رکھنے کے سبب ہمیں یہ عادت بڑی عجیب سی محسوس ہوتی۔ آج یہ کلچر ہمارے دیہاتوں تک پہنچ چکا ہے۔ نسل نو کی صبح سہ پہر کے وقت ہوتی ہے۔ ممکن ہے انہیں اپنی عادت سے کوئی خاص فرق نہ پڑتا ہولیکن اس گھر میں مقیم بزرگ اس رویہ سے بہت نالاں ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ خالصتاً اسلامی روایات اور احکامات کے خلاف ہے، دوسری ماہرین طب کے مطابق اس فعل سے معدہ کی بیماریوں کے ساتھ دیگر بیماریاں بھی جنم لیتی ہیں۔ مزید یہ کہ سماج پر اس رویہ کے سخت منفی اثرات نمایاں ہورہے ہیں۔ بزرگ زیادہ متاثر ہیں۔ علی الصبح ناشتہ کرنے کی ان کی جو عادت ہے دیر تک سونے کا عمل اس ناشتہ اور پھر بروقت کھانے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے بالخصوص ایسے بزرگ جو اپنے بیٹے اور بہو کے ساتھ رہتے ہیں اوران کی سماجی حیثیت رنڈوا یا بیوہ کی سی ہے۔ بیٹیوں کی شادی کے بعد وہ خالصتاً بہو کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔ اور شہری زندگی میں دیر تک سونے کا فعل ان کی زندگی کو اس لئے بھی اجیرن بنارہا ہے کہ انہیں اس پیرانہ سالی میں مرد کو نہ تو کھانے پکانے کا کوئی تجربہ ہوتا ہے نہ ہی باہر سے کھانا کھایا یا ناشتہ کیا جاسکتا ہے۔ وہ عمر کے اس حصہ میں ہوتے ہیں کہ انہیں معروف بیماریاں لاحق ہوجاتی ہیں۔ دوسرا ان کیلئے بڑا سماجی مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ اس وقت اپنا گھر بسانے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہوتے۔ اگر ممکن ہو تو انہیں اس میں قطعی شرم محسوس نہیں کرنی چاہیے نہ ہی اولاد کو اس میں رکاوٹ کھڑی کرنی چاہیے کیونکہ تنہائی بہت سے دیگر مسائل کو جنم دیتی ہے۔ بعض گھروں میں ’’ماسی ‘‘ گھر کا کل پرزہ ہوتی ہے بزرگوں کی نگہداشت کی مکمل ذمہ داری ان پر ڈال دی جاتی ہے۔ یہ کسی طور پر بھی اپنی اولاد یا بیوی ، بہو کا نعم البدل نہیں ہوسکتی۔ ماسی کا کلچر ہمارے سماج میں روز بروز پروان چڑھ رہا ہے ۔
بردار عزیز عامر نوید اصغر، جو مانچسٹر میں مقیم ہیں ان سے برطانوی سماج میں مشرقی اقدار کے حوالے سے گفت و شنید ہوتی رہتی ہے۔ بقول ان کے یہاں بڑے بڑے امیر گھر میں ’’ ماسی ‘‘ کا کوئی تصور نہیں۔ ہر فرد خود اپنا کام کرتا ہے۔ ان کی رائے میں وطن عزیز میں خواتین میں بیماریوں کا ایک سبب کام چوری بھی ہے۔ دوسرا یہ ماسی کا رشتہ خاندانوں میں فاصلے بڑھا رہا ہے۔ ہمارا اس سے کلی اتفاق ہے لڑکیوں کو تعلیم کے زیورسے ضرور آراستہ کیا جائے لیکن تعلیم کے نام پر انہیں گھر داری سے راہ فرار کی تربیت نہ دی جائے۔ اس طرز کی سرپرستی بہت سے سماجی مسائل کو جنم دے رہی ہے ا۔
ولڈ ہومز میں مقیم افراد کی گھر سے رخصتی کا بڑا سبب خانگی معاملات اور رویے ہیں۔نسل نو کو اپنے رویوں پر ضرور نگاہ مرکوز کرکے مفاہمتی پالیسی کو اپنانا چاہیے تا کہ گھر ایک جنت کا نمونہ پیش کرے اور اس میں بزرگوں کو خاص مقام حاصل رہے۔ خواتین کی غالب آبادی کو نہ تو تعلیم سے محروم کیا جاسکتا ہے نہ ہی قومی ترقی ان کے بغیر ممکن ہے۔ لیکن ان کی ترجیحات میں گھر کو اولیت حاصل ہونی چاہیے۔
میڈیا اور چند مغرب زدہ این جی اوز کی پوری کاوش اور خواش ہے کہ کسی طرح مشرقی خاندانی نظا م میں رخنہ ڈال دیا جائے اور نسل نو کو مادر پدر آزادی د ی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ اولڈہومز پروان چڑھ سکیں۔ ہمارے ہاں مارننگ شوز میں سماج کی تربیت کے لیے مغربی انداز فکر پر صلاحیتیں صرف کی جارہی ہیں ۔
خدشہ ہے کہ اس ایجنڈے کی تکمیل اولڈ ہومز میں جاپان کی طرح روبوٹ کی آمد پر منتج ہوگی ۔ راقم کے کالموں پر مشتمل کتاب ’’ نوائے سروش‘‘ میں کلکتہ کے نوجوان کی سبق آموز کہانی ’’ اس نعمت کی قدر کریں ‘‘ کے عنوان سے شامل ہے جو بیت اللہ میں صرف والدین کی اطاعت کے موضوع پر درس دیا کرتا تھا اور زاروقطار روتا تھا۔


ای پیپر