سب کی آنکھیں گروی ہیں اس نگری میں
07 اپریل 2018 2018-04-07


گزشتہ دو تین دنوں میں وطن عزیز میں ایک بار پھر سے کم عمر بچے ، بچیوں کے ساتھ زیادتی و قتل ، غیرت کے نام پر قتل کی وارداتوں اور تیزاب گردی کے واقعات میں شدید اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔جس کے بعد زینب قتل کیس کے فیصلے پر رد عمل بھی سامنے آیا۔سوال یہ ہے کہ آیا زینب قتل کیس میں انصاف کے تمام تقاضے پورے کئے گئے جو عوامی سطح پر اٹھانے کا تقا ضا کیا گیا تھا؟ تواس کا جواب ہے بالکل نہیں۔ سماجی حلقوں کی جانب سے یہ توقع کی جا رہی تھی کہ زینب کے مجرم عمران علی کو جرم ثابت ہو جانے پر سر عام پھانسی دی جائے گی ۔جس کے بعد بچوں کے خلاف زیادتی اور قتل کے واقعات میں کمی ہو سکتی تھی مگر ایسا نہیں ہوا،بلکہ اس سز کا ردعمل کہہ لیں یا قانونی کمزوریاں ،ان واقعات میں پہلے سے زیادہ اضافہ نوٹ کیا جا رہا ہے ؟ اس حوالے سے میری کولیگ ،ملک کی پہلی خواجہ سرا ،نیوز کاسٹر معارویہ ملک کاموقف ہے اگر زینب کے والدین چاہیں تو آج بھی اس فیصلے پر فوری عمل درآمد کرانے کے لیے ایک درخواست دیں ، ان کا یہ فیصلہ کئی معصوم بچے بچیوں کو اس درندگی سے بچا سکتا ہے ۔
اس نے غلط نہیں کہا، زینب کیس ایک ٹرائل تھا، عدالتوں کا انصاف کا، پورا ملک معصوم بچی کے والدین کے ساتھ کھڑا تھا،عمران علی کو جرم ثابت ہونے پر سرعام پھانسی کی سزا دی جانی چاہیے تھی تاکہ ایسی گندی سوچ رکھنے والے افراد کے دلوں میں قانون کا خوف پنپ سکے مگر ایسا نہیں ہو سکا۔ درندے عام گھوم رہے ہیں ، کسی خوف کے بغیر ۔قانون معصوم افراد کا محافظ اور ظالم کے لیے خوف کا استعارہ ہوتا ہے مگر ہمارے ملک میں صورت حال اس کے بر عکس ہے۔ جس کی اہم ترین وجہ مقننہ اور انتظامیہ کا کمزور ہونا ہے ۔ عوامی فلاح و بہبود اورسماجی انصاف کے لیے بنائے گئے قوانین کمزور ہیں خاص طور پر جنسی جرائم میں ملوث افراد کے حوالے سے موثر قانون سازی نہیں ہو پا رہی۔ جو قوانین اس تناظر میں موجود ہیں ان کی غیر فعالیت ہی ان سارے جرائم کا سبب بنی ہوئی ہے۔ جب زیادتی اور قتل کے مجرموں کو سزائے موت دینے سے پہلے عمر قید کی سزا سنائی جائے گی اور یوں انہیں طبعی عمر گزارنے کا بھر پورموقع فراہم کیا جائے گا تب پھر ریاست کے لیے ایسے جرائم کا سد باب مشکل ہوتا جائے گا۔مگر شاید سب نے ظلم کے حق میں ، اپنی آنکھیں گروی رکھ دی ہیں ۔
اسی طرح اگر خواتین کے خلاف جرائم کی بات کی جائے تو ان میں پیدا ہونے والی شدت نہ صرف ریاست بلکہ تمام ریاستی اداروں اور معاشرے کی بقاء پر سوال اٹھا رہی ہے۔معاشرے کو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ ہر انسان کو اپنی مرضی سے زندہ رہنے کا حق حاصل ہے ۔ خاص طور پر اس صورت میں جب اس کے استعمال کردہ اس حق سے دوسرے کی حق تلفی نہ ہو رہی ہو ۔ تاہم عملی طور پر ایسا ہوتا نہیں آ رہا۔ کہیں شادی سے انکار ، کہیں محبت میں ناکامی جیسی باتوں کو بنیاد بنا کر ہمیشہ ظلم عورت پر ہی ڈھایا جاتا ہے ، کہیں جان لی جاتی ہے تو کہیں تیزاب گرا کر زندہ درگور کر دیا جاتا ہے۔عورت ازل سے عورت رہی، اسے کبھی انسان نہیں سمجھا گیا، اس لیے جب چاہا مان دیا اور جب چاہا رسوا کیا۔ معروف شاعرہ آپا حمیدہ شاہین کہتی ہیں ،
کون بدن سے آگے دیکھے عورت کو
سب کی آنکھیں گروی ہیں اس نگری میں
عورت وہ مبارک ہستی ہے جس کی گود میں قومیں پلتی بڑھتی اور ارتقاء کی منازل طے کرتی ہیں ۔ دنیا کی رونق عورت کے دم سے ہے۔ زندگی کی ساری خوشیاں عورت کی ذات سے وابستہ ہیں ۔ عورت کے ہزار روپ ہیں جن کی مثال ماں، بہن، بیٹی اور بیوی ہے۔ عورت قدرت کا تخلیقی شاہکار ہے۔ شبنم کی ٹھنڈک، پنکھڑیوں کی نزاکت، گہری جھیل کے پانی کاصبر و سکون، موم کاپگھلنا، سیماب کی سبک لطافت،شہد کی مٹھاس، ممتا کی گرمی اور نامعلوم کتنے رنگین تصورات، نازک احساسات اور اوصاف جمال کا مجموعہ یہ عورت ہے۔ سکندر ،پورس اور نیپولین جن کا لوہا دنیا نے مانا ان کو عورت کی کوکھ نے جنم دیا۔ سقراط، افلاطون اور ارسطوجن کی دانشمندی کے آج تک چرچے ہیں عورت کے بطن سے پیدا ہوئے تھے لیکن اس کے باوجود عورت سدا مظلوم رہی اور اسے ہر دور میں ذلیل سمجھا اور منحوس گردانا گیا۔انہیں بطور انسان کبھی تسلیم ہی نہیں کیا گیا۔ سستی تفریخ کا ذریعہ بنا لیا گیا ،مان گئی تو ٹھیک ورنہ مار دو یا زندہ درگور کر دو۔ جس کی قبیح ترین صورت اس پر تیزاب گرانا ہے۔جو اسے نہ صرف بد نما بنادیتا ہے بلکہ تنہائی کا عذاب بھی اس کے ہی حصے میں آتا ہے۔
اکثر و بیشتر شادی کو ہی تمام مسائل کا حل سمجھ لیا جاتا ہے ۔ بعض اوقات ورکنگ وومن کے لیے شادی کسی امتحان سے کم نہیں ہوتی، دفتر اور گھر ،گھر میں سسرال، شوہر اور بچوں، سب کو راضی رکھنا پڑتا ہے ۔ کسی کی خدمت میں کمی آئی نہیں تو بیچاری کا جینا دوبھر ہوا نہیں۔ ملازمت کا بہانہ بنا کر خود ساری ساری رات باہر گزارنے والے شکی مرد، اپنی بیویوں کی ذرا سی دیر برداشت نہیں کر پاتے اور وہ سسک سسک کر مر جاتی ہیں یا مار دی جاتی ہے۔ علیحدگی اختیار کرتی ہے تو بھی طعنہ اور اگر ساتھ نبھاتی ہے تو بھی مشکل۔
اتنا غصہ کیوں ہو؟
چلو
آج شام کا کھانا
باہر سے منگوا لیتے ہیں
بے حد تھکاوٹ ہے
ابھی ابھی گھر پہنچی ہوں
جوڑ جوڑ دکھ رہا ہے
سکول میں ایک ایمرجنسی میٹنگ رکھ لی تھی
پرنسل نے
کل ہونے والی سالانہ نمائش کے سلسلے میں
یہ اس کے آخری الفاظ تھے
شوہر کے غصے کی آگ میں
جلنے سے پہلے
پھر وہ مر گئی
اپنا آخری کھانا کھانے سے پہلے
انسان اللہ کی بہت ہی خوب صورت مخلوق ہے مگر انسانوں کے بدصورت رویوں نے نہ صرف انسان بلکہ اس دنیا کو معصوم لوگوں کے لیے زندہ جہنم بنا دیا ہے ۔پاکستانی معاشرے جہاں تعلیم کی کمی اور شعور کا فقدان ہے وہاں ایسے انسانیت سوز واقعات کا ہونا بظاہر تو کوئی بڑی بات نہیں تاہم ہم جس مذہب کے پیروکار ہیں اس کے نکتہ ہائے نظر سے یہ انتہائی افسوس کا مقام ہے ۔ حکومت اور تمام مذہبی اداروں اور علماء کرام ، تعلیمی اداروں اور ہر شعبہ زندگی میں آگاہی دینے کی ضرورت ہے تا کہ ان انسانیت سوز واقعات کو ختم کیا جا سکے اور سب سے پہلے تو کھلے بندوں تیزاب کی فروخت کو نا قابل ضمانت جرم قرار دیا جائے تاکہ یہ جنونی افراد کی پہنچ سے دور ہو سکے۔بچوں کے خلاف جرائم میں ملوث افراد کو عبرت کا نمونہ بنایا جائے ، انہیں سر عام پھانسی دی جائے۔ بد قسمتی کہہ لیں کہ مجرم کے لیے تو انصاف کے تقاضے نبھانے کی بات کی جاتی ہے جبکہ مظلوم اس اپروچ سے کوسوں دور ہو جاتا ہے۔ ہماری عدالتوں کا ایک جرأت مندانہ قدم اس قوم کے بچوں کو محفوظ کر سکتا ہے۔صرف ایک قدم


ای پیپر