صرف مذمتیں؟
07 اپریل 2018 2018-04-07

کشمیر بنے گا پاکستان، لے کے رہیں گے آزادی، کشمیر مذمت سے نہیں مرمت سے آزاد ہوگا۔ یہ وہ نعرے ہیں جن کے ساتھ نہ صرف ہم بلکہ ہماری گزشتہ نسلیں اپنے بچپن، جوانی اور بڑھاپے گزار چکی ہیں۔ لیکن کشمیر ہو یا فلسطین ظلم ہے کہ کم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ سب سے سخت مو¿قف رکھنے والا سعودی عرب بھی اسرائیل کو اپنی زمین پر رہنے کے حق پر قائل نظر آرہا ہے۔ اس سے بڑی اسرائیل کی جیت کیا ہوگی؟ کہ عرب کی سب سے بڑی آواز میں وہ گھن گھرج نہیں رہی جس کی بنا پر دنیا کے بیشتر اسلامی ممالک ملکِ اسرائیل کو مانتے ہی نہیں۔ اسرائیل اور سعودی عرب کے مشترکہ دشمن ایران نے بھی اپنے مو¿قف کو مزید سخت کرتے ہوئے دھوکے باز، جھوٹے اور جابر ملک (اسرائیل) سے مذاکرات کی کوشش ناقابلِ معافی غلطی ہوگی قرار دیا ہے اور یہ بھی کہا کہ ایسا کوئی بھی اقدام فلسطینیوں کی فتح کو پیچھے دھکیل دے گا۔ یعنی بحیثیت مسلم ممالک ہماری آواز بھی ایک نہیں رہی۔
لیکن دوسری طرف اسرائیل میں انسانیت کا ہر روز قتل ہورہا ہے تو ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر بھی اقوام عالم کے ضمیر کی مقتل بنا ہوا ہے۔ قابض صہیونی فوج دن دہاڑے معصوم فلسطینیوں کے جسم و جان کو سفاکیت کا نشانہ بناتی ہے تو بزدل قابض بھارتی فوج رات کے اندھیرے میں نہتے کشمیریوں پر وار کرتی ہے۔ مقبوضہ بیت المقدس ہو یا مقبوضہ کشمیر یہاں شہیدوں کے جسدِ خاکی کو انسانوں کا سمندر لحد میں اتارتا ہے۔ ٹی وی سکرین پر سرحد کے پار اور سمندر پار سے یہ مناظر دیکھ کر یہاں بھی ہر آنکھ اشکبار ہوتی ہے، دل کے باغبان ویران ہوتے ہیں لیکن ہمارے سیاسی شہرِ خموشاں میں ہ±و کے طویل عالم کے بعد مذمتی بیان یوں داغے جاتے ہیں جیسے یہود و ہنود کو سیدھی سینے پر گولی دے ماری ہو۔ اگر پوچھ لیا جائے کہ جناب ان مظلوموں کی داد رسی کے لیے مذمتی بیانات کے علاوہ آپ نے کچھ کیا تو کہہ دیتے ہیں آپ بھول گئے ابھی تو اقوام متحدہ کے اجلاس میں وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کشمیری بھائیوں کا ذکر کیا تھا۔ خدا کا خوف کریں جو بھارت اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرنے کو تیار نہیں وہ اقوام متحدہ میں کیے گئے خطاب کی کیا حیثیت سمجھتا ہے۔
مگر معاملہ یہ ہے کہ مشیرانِ خاص اگر غیر نصابی سرگرمیوں سے فرصت پالیں تو مسند نشین کے کان میں جا کر بتاتے ہیں کہ” فلسطین اور کشمیر کا معاملہ میڈیا نے اٹھا رکھا ہے آپ بھی بیان دے دیں“ اگر کہتے ہیں تو آپ کی طرف سے مذمتی سطریں لکھ کر آپ کو دکھا دیتا ہوں ورنہ کہیں پچھلی دفعہ کی طرح اپوزیشن آپ کی خاموشی پر شور نہ مچادے۔
ہماری کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمٰن کو ہی لے لیجیے۔ حالیہ واقعے میں 20 لاشیں گرنے کے بعد جمعے کو بھرپور احتجاج کی کال دے رکھی تھی۔ کوئی پوچھے صاحب دشمن کے پنجے سے اپنی شہ رگ کو چھڑانے کے لیے احتجاج تو کوئی چھوٹے سے چھوٹا مولوی بھی کرسکتا ہے۔ آپ بتائیں آپ نے کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے دس سالوں میں کیا کیا؟ کتنے غیر ملکی دورے کیے؟ بین الاقوامی آواز کو کس حد تک ہم آہنگ کیا؟ کچھ نہیں تو مظلوم کشمیریوں کے حق میں کتنے پالیسی بیان دیے؟ دنیا بھر میں کتنے ممالک میں موجود سفارتکاروں کو متحرک کیا؟ اعتبار کی انتہا تو یہ کہ خود حریت قیادت کشمیر کاز پر فضل الرحمٰن کو کشمیر کمیٹی سے دستبردار کرنے کا مطالبہ کرچکی ہے۔
لاکھوں کشمیری و فلسطینی شہدائے تحریک آزادی کے کاروان کا حصہ بن گئے، ہزاروں عورتیں ہوس سے شکستہ و ریزہ ریزہ غاصبینِ نسواں کا شکار ہوئیں، سیکڑوں گھروں کی تلاشی بارودی مواد نے لی، کسی پر پتھر پھینکنے اور کسی پر چاقو رکھنے کا الزام لگا کر وحشت اور سفاکیت سے چیختی چلاتی جیلوں میں ڈال دیا گیا۔ مگر مجال ہے کہ سیاسی بساط پر ٹِکی نظروں سے مفاد کی گَرد اتر جائے اور شہیدوں کے جنازوں پر پڑھا جانے والا کلمہ شہادت ان کے کانوں سے آرپار ہونے کی بجائے دل و دماغ کے انسانیت والے خانے میں پہنچ جائے۔ فلسطین کے لیے نہیں تو کشمیریوں کے حق میں ہی سہی مذمتوں کے علاوہ کیا ہورہا ہے؟
مولانا صاحب ہمیں نہیں تو اپنے ضمیر کی عدالت کو ہی یہ بتادیں کہ کتنی بار مظلوم اور بے توقیر کشمیریوں پر ہونے والے ظلم، کشمیری بھائیوں کے درد، نچتی ہوئی چادروں، خونیں چھروں کے ذریعے بینائی سے محروم آنکھوں کو کتنے موثر انداز میں اقوام عالم کے سامنے بیان کیا۔ کشمیر کمیٹی کے بجٹ پر بات کریں تو بہت دور تک جائے گی۔ مولانا صاحب فرما چکے ہیں کہ ا±ن کے کشمیر کمیٹی کے چیئرمین ہونے کی وجہ سے دنیا میں کشمیر کا مسئلہ اب زیرِ بحث آرہا ہے۔ پاکستان کی قوم معصوم سوال پر حق بجانب ہے کیا کشمیر کمیٹی نے امریکا کو اس بات پر مجبور کردیا کہ اقوام متحدہ کی قرارداد کو کشمیری امنگوں کے عین مطابق حل کروائے یا روس نے بھارت کے ساتھ اپنے سٹریٹیجک تعلقات کو جاری رکھنے کی شرط مسئلہ کشمیر کے حل کے ساتھ نتھی کردی؟ چھوڑیں اسلامی ممالک کو ہی لے لیں ترکی کے علاوہ کون سا ملک ایسا ہے جس نے دردِ کشمیرو فلسطین سمجھا ہے۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پاکستان کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سکیورٹی فورسز کی طرف سے جاری دہشت گردی کی مذمت کی گئی ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیوں کا مقابلہ کرنے پر کشمیری عوام کی غیر معمولی جرا¿ت اور تحمل کو قابل تحسین قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح کے کم و بیش الفاظ عرب لیگ، او آئی سی، فلسطین پر حالیہ روا رکھے گئے ظلم پر ہمیشہ طرح کی مذمتی قراردادیں پیش کررہے ہیں۔ کویت نے تو سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کی ہمت تک کردی مگر امریکا بہادر نے اسے ویٹو کر دیا۔ اور یوں پھر مسلمانوں کا خون، مذمت، اظہارِ یکجہتی، خراجِ تحسین اور قربانیوں کو سلام تک کے لیے محدود ہوگیا۔
نہیں جناب مل بیٹھ کر یک زبان ہونے کا وقت ہے، نہیں تو اگلے 70 سال اور کئی دہائیاں یونہی مذمتوں میں گزر جائیں گے۔


ای پیپر