عمران سرکار ، ایک سال ۔۔۔ ناکامی ، ناامیدی ؟
06 ستمبر 2019 2019-09-06

5 2جولائی 2018 ء عام انتخابات کے بعد تحریک انصاف نے دیگر جماعتوں ، آزاد ارکان کو ملا کر وفاق ، پنجاب ، بلوچستان میں حکومت بنالی ۔ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف نے واحد اکثریتی جماعت کی حیثیت سے حکومت سازی کرلی ۔ عملاً وفاق اور تینوں صوبوں میں حکومتیں قائم ہوئے ایک سال مکمل ہورہاہے ۔ عمران خان نے سیاسی میدان میں محنت کی اور خوب ہلچل مچائے رکھی ۔ نوجوانوں اور میڈیا نے بھر پور ساتھ دیا ۔ قومی سیاست میں یہ امر پوری گہرائی سے موجود تھاکہ مسلم لیگ ، پی پی بار ی باری اقتدار میں آتی ہیں ، درمیانی مدت میں مارشل لاء فوجی آمریت بھی آ جائے تو کسی نہ کسی اندرونی ، بیرونی ساز باز سے دونوں جماعتیں از سر نو اقتدار میں آنے کی راہ ہموار کر لیتی ہیں اس لیے عمومی رجحان پیدا ہوا کہ باری کے بخار ، دھڑوں سے نجات ملے اسی لیے انتخابات 2018 ء میں مثبت نتائج کے حصول کے لیے ہر جائز ناجائز حربہ استعمال ہوا ۔ انتخابات سے پہلے ہنگامی سیاست ، دھرنوں ، میڈیا مہم اور سوشل میڈیا کے طاقتور استعمال نے ماحول بھی بنایا ۔ انتخابات دھاندلی ، مینجمنٹ سے آلودہ تو تھے ہی لیکن چار و ناچار سب نے خاموشی اختیار کر لی ، انتخابات میں سب کچھ عمران خان کے حق میں ہونے کے باوجود انہیں وفاق اور پنجاب میں واحد اکثریتی جماعت کی حیثیت نہ مل سکی اس لیے جاری سرپرستی میں یہ مشکل بھی آسان ہوگئی ۔ یوں یہ منظر ابھرا کہ حکومت اور ریاست ایک پیج پر ہیں اس لیے اب سب خیر اور سب اچھا ہوگا ۔

عمران خان صاحب نے مسلسل احتجاجی سیاست ، روزانہ کی بنیاد پر کئی کئی گھنٹوں کی کوریج اور بھر پور دعوئوں ، اعلانات کرنے اور یہ تاثر قائم کرنے میں کامیابی حاصل کر لی کہ تحریک انصاف کی زبردست تیاری ہے ، بڑی قابل ٹیم اور ماہرین موجود ہیں ، عمران خان کی شخصیت اور گلیمر پوری دنیا کو مسخر کردے گا ۔ اسی لیے عوام کو بھی بڑی امیدیں لگ گئیں۔ 100 دن ، چھ ماہ ، ایک سال کے دعوے ، مشکلات کا تکرار جاری رہا۔ یقینی طور پر کسی بھی حکومت کو کام کرنے کے لیے وقت چاہیے لیکن یہ ماجرا اور حقیقت بالکل عیاں ہے کہ اول دن سے عوام ، اشرافیہ اور دانا و بینا لوگو ں میں شک پیدا ہوگیا کہ تحریک انصاف حکومت چلانے کی صلاحیت سے عاری ہے ۔ کنٹینرسیاست سے باہر نہیں آرہی ، صرف قائدین ہی نہیں پوری ٹیم فخر اور تکبر و غرو ر کی دلد ل میں گھر گئی ہے اسی لیے عوام میں مایوسی و ناامیدی تیزی سے بڑھتی گئی ہے نیز حکومت اپنی نااہلی اور ناکامی پر خود اپنے اعمال سے ناکامی کا ٹھپہ لگارہی ہے ۔عوام کے لیے یہ امر حیران کن اور باعث تشویش ہے کہ حکومت ، سیاست اور ریاست کے طاقتور ایوان ایک پیج ، ایک لہر میں ہیں پھر بھی خوفناک اقدام ، مشکلات کیوں بڑھتی جارہی ہیں ۔ پارٹیاں جب حکومت میں ہوتی ہیں حالات کا سبزہ بھی حکومت کو ہی نظر آتاہے اور عوامی سروے بھی اس لیے ٹھیک ہی رہتے ہیں کہ عوامی مزاج ہمیشہ ہی ایسا ہوتاہے کہ عوام خود تذبذب میں ہوتے ہیں ۔

حکومت کی کارکردگی کا ایک سال گزر گیا، عملاً نگران حکومت بھی ان کے ہی حق میں تھی ۔ چلیںایک سال دیکھیں تو عمران سرکار کی بڑی بڑی ناکامیاں ہیں جس سے عوام مایوس اور ناامید ہوئے ہیں ، خصوصاً نوجوان جن کے بڑے ارمان تھے ، انہیں پشیمانی کا سامناہے کہ سوچا کیا تھا نکلا کیاہے ۔

۱۔ریاست مدینہ طرز کا نظام لانے کا بار بار اعلان ہوا ،عملاً اس جانب کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی ۔ آئین کے رہنما اصول ، اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو سرے سے نظر انداز کیا گیا ۔ زبان و کلام ، اعمال و اظہار میں بھی کوئی خوش خلقی ، شائستگی نہیں آئی ۔ اصولاً تو یہ نتیجہ اخذ ہورہاہے کہ عمران خان صاحب کے خاتم النبیین کی حلف میں ادائیگی ، آسیہ ملعونہ کو ملک سے باہر بھجوانا اور قادیانیت و اسرائیلیت کی کھلی حمایت سے ظاہر ہوتاہے کہ ریاست مدینہ نظام کا بس نعرہ ہی لگایا ، اس طرف کسی پیش رفت کے لیے تیار نہیں اس لیے نظریاتی محاذ پر حکومت کی بڑی ناکامی عیاں ہے ۔

۲۔ پاکستان جمہوری ، پارلیمانی اور آئینی حدود کا پابند ہے ۔ ماضی میں ان بنیادوں کو نظر انداز کیا گیا ۔ پارلیمنٹ کوئی صحت مند رجحان نہیں دے سکی ۔ حکومتی بنچ اپوزیشن سے بڑھ کر اپوزیشن کردار ادا کرتے ہیں یہی صورتحال صوبائی اسمبلیوں کی بھی ہے ۔ یہ توقع تھی کہ ماضی کی نسبت قومی عوامی معاملات پارلیمنٹ کی طرف آ جائیں گے ، وزیراعظم عمران خان حسب اعلان قومی اسمبلی ، سینیٹ میں اپنی حاضری اور قومی ، عوامی اہم معاملات پر پارلیمنٹ کا فورم استعمال کریں گے لیکن ایسا نہیں ہوا ۔ اسپیکر ، سینیٹ چیئرمین شاکی اور برہم رہتے ہیں کہ وزراء ایوان میں نہیں آتے اگر آتے ہیں تو تیاری نہیںہوتی ۔ وزراء کی تقاریر دلائل ، حقائق ، تحقیق اور تیاری کی بجائے زور خطابت پر ہی ہوتی ہیں جو جلتی پر تیل کا کام کرتی ہیں ۔ یوں گزرا ایک سال ، عمران سرکار پارلیمانی جمہوری روایات کو مستحکم نہیں کر سکی ۔

۳۔نظام حکومت میں بیوروکریسی ، قانون نافذ کرنے والے ادارے ، انٹیلی جنس اداروں کی ہمیشہ اہمیت ہوتی ہے اس کے بغیر کاروبار حکومت چل نہیں سکتا ۔ ماضی کی حکومت پر یہ الزام رہاکہ انتظامیہ ، پولیس اور ترقی و تقرری میں سیاسی مداخلت ، پسند و ناپسند کا عمل رہاہے یہ توقع تھی کہ عمران خان صاحب اپنے اعلان کے مطابق حکومتی اداروں کو سیاسی عدم مداخلت اور میرٹ پر چلائیں گے لیکن اس میدان میں بھی عمران سرکار منفی تاثر ہی دے رہی ہے ۔ وفاقی سیکرٹریز ، آئی جی پولیس ، صوبائی سیکرٹریز ، حتیٰ کہ ہر سطح پر سرکاری اہلکاروں کی تقرری ، تنزلی ، پرانے پاکستان کی طرح ہی نہیں پہلے سے زیادہ بدتر رویے اپنا لیے گئے ہیں ۔ حکومت تو نوکر شاہی پر اپنے نکمے پن کی وجہ سے دھاک نہیں بٹھا سکی اس لیے افسران کو حکومت سے کوئی ڈر اور خوف نہیں لیکن نیب کے طریقہ کار اور رویوں نے مکمل بریک لگادی ہے اسی لیے بیوروکریسی محاذ جام ہے ، عوام انتہائی پریشان ہیں ۔

۴۔ احتساب کا قومی مطالبہ ، عمران خان صاحب نے اسی پر ساری جدوجہد کی لیکن اب یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ عوام میں تاثر گہرا ہے کہ سلیکٹڈ حکومت سلیکٹڈ احتساب کر رہی ہے ۔ اپوزیشن یا حکومت میں کوئی بھی بڑے سے بڑا فرد ہو ، احتساب سے بالاتر نہیں ۔ احتساب سب کا ضروری تھا کہ پانامہ پیپرز میں شامل تمام ناموں ، نیب کے پاس 150 میگا سکینڈلز ، قرضے معاف کرانے والوں کی فہرستوں کا بڑا شور ہوا ، منی لانڈرنگ کی تفصیلات اور ہنگامہ کھڑا ہوا لیکن احتساب کے ان تمام دائروں کو فعال نہیں کیا جاسکا اسی وجہ سے نیب ، ایف آئی اے ، ریاستی ادارے منفی پراپیگنڈہ کی زد میں ہیں ۔ کرپٹ مافیا یہ تاثر دے رہاہے کہ انہیں انتقام کا نشانہ بنایا جارہاہے ۔ ایک سال میں نیب کا احتساب کا دائرہ وسیع نہ ہوا اور یہ خیال کہ چند بڑی مچھلیوں ، مگر مچھوں کو پکڑ لیں ، سب ٹھیک ہو جائے گا ، دھند لا رہاہے ۔ عمران سرکار ’’ احتساب سب کا ‘‘ محاذ پر بھی عملاً ناکام ہے ۔

۵۔ ملک اس وقت بدترین اقتصادی بحران سے گزر رہاہے ۔ عوام کو بجا طور پر توقع تھی کہ مہنگائی کنٹرول میں آئے گی ،بے روزگاروں کو روزگار ملے گا ، سرمایہ کاری بڑھے گی ، عوام کا اعتماد بحال ہوگا اور قومی محاصل بڑھ جائیں گے ، صنعت کا پہیہ چلے گا ، کاروبار تجارت دن دگنی رات چگنی ترقی کرے گا اور بے گھر خاندانوں کو گھر مل جائیں گے ۔ سود ، قرضوں اور کرپشن سے نجات ملے گی ، بیرون ملک پاکستانی زر مبادلہ کی بارش کردیں گے ۔ اب ایک سال گزرگیا ان تمام امیدوں پر پانی پھر گیا ، ہوا یہ کہ کشکول بڑا ہوگیا ، قرضوں کا حجم بڑھ گیا ، سود کی لعنت اور گہری اور شرح بڑ ھ گئی جس کا نتیجہ ہے کہ مہنگائی کا جن بے قابو ، بے روزگاروں کے لشکر بڑھتے جارہے ہیں ، افراط زر انتہائی بڑھا کہ عوام کی قوت خرید ختم ہوگئی ، صنعت کا پہیہ جام ، کاروبار ٹھپ ، عدم حکمت کی وجہ سے خوف و ہراس کا الم طاری ہے ۔ فائلرز کی تعداد بڑھائی گئی لیکن محصولات میں خوفناک کمی واقع ہوگئی ۔ سب سے بڑھ کر یہ عجب تماشا ہوا کہ تحریک انصاف کی معاشی ٹیم ، ان کا دماغ فارغ کردیا گیا اور عملاً ہر کو نۂ اقتصادی پر آئی ایم ایف کی ٹیم مسلط ہوگئی ۔ روپے کی قدر کم ، ڈالر کی اونچی اڑان ، سٹاک ایکسچینج میں بے یقینی سے اربوں کھربوں روپے غرق ہو گئے ۔ درآمدات برآمدات میں فرق کی کمی واقع ہوئی لیکن برآمدات میں اضافہ نہ ہونے کی وجہ سے قومی معیشت کو کوئی فائدہ نہ ہوا ۔ تیل ، گیس ، بجلی ، ٹیکسوں کا ٹیرف اس قدر بڑھ گیا کہ کسی کے لیے بھی قابل برداشت نہیں جس سے پیداواری لاگت بڑھ گئی اسی لیے مارکیٹ مقامی اشیاء سے خالی ، غیر ملکی اشیاء سے بھری اور سمگلنگ کا دھندا عروج پر چلا گیا ۔ حقیقت یہ ہے کہ عمران سرکار اقتصادی محاذ پر بھی بری طرح ناکام ہے ۔

۶۔سفارتی محاذ پر عوام کو توقعات تھیں کہ عمران خان عالمی شہرت رکھتے ہیں امریکہ اور یورپ کے لیے پسندیدگی کا مقام رکھتے ہیں ، بیرون ملک پاکستانیوں نے دل کھول کر نوٹ ، سپورٹ اور ووٹ کی مہم چلائی ، اسی لیے توقعات بھی بہت ، حال ہی میں دورہ امریکہ میں بھی پاکستانیوں نے تاریخ رقم کردی لیکن یہ موقع بھی ضائع ہوا۔ پاکستان سفارتی محاذ پر مسلسل گراوٹ کا شکار رہاہے توقع تھی کہ اب بہتری آئے گی لیکن امریکہ ، افغانستان ، ہندوستان ، ایران اور مڈل ایسٹ ممالک کے حوالوں سے سفارت کاری اور سفارتی محاذ ناتجربہ کاری کا شکار ہوا ہے ، عملاً پاکستان تنہائی میں آگیا ، وجہ وہی پرانا مرض خود انحصاری ، اندرونی استحکام کی بجائے کشکول ، بھیک اور سوال بن کر کھڑے ہونے پر مزید رسوائی رہی ہے ،بس یہ بھی عیاں ہوا کہ یہ سفارتی محاذ پر ملک و ملت ناکام اور مشکلات کا شکار ہوئے ہیں ۔

۷۔ عمران سرکار کے اس ایک سال میں سب سے بڑا دھچکا مسئلہ کشمیر پر لگاہے ۔ نریندر مودی سے توقعات باندھیں ، یاری لگانے کا ہر جتن کیا ، سفارتی محاذ پر مسئلہ کشمیر کے لیے دوٹوک قومی پالیسی نہ بنی اور نہ ہی کوئی روڈ میپ بنا ۔ امریکی Managed دورہ کو ورلڈ کپ فتح کے مترادف اور کشمیر پر ثالثی کی پیش کش پر آپے سے باہر ہوگئے اسی ماحول میں نریندر مودی نے کاری وار کردیا ۔ ہماری سفارت کاری و انٹیلی جنس ناکام رہی ، اب پوری قوم مسئلہ کشمیر پر متحد اور یک آواز ہے لیکن حکومت گو مگو اور گونگلوئوں سے مٹی جھاڑنے میں لگی ہے ۔ اندرونی استحکام کے لیے تیار نہیں ، قومی وحدت اور اتفاق رائے کے بغیر مشکل معرکہ سر کرنا ممکن نہیں ۔عملاً دیکھا جائے تو اس ایک سال میں حکومتی بدنامی اور ناکامی کے لیے کشمیر محاذ پر ناکامیوں نے عجیب رنگ پیدا کردیا ہے ۔

یقینا کسی بھی حکومت کے لیے صرف ایک سال کی مدت مکمل جائزہ کی مضبوط بنیاد تو نہیں لیکن یہ پہلی حکومت نہیں ،حکومتوں کے بار بار تجربات سب کر رہے ہیں ، حکومت چلانے کا وژن ، اقدامات ، ٹیم ہی آئندہ کے لیے آثار ظاہر کرتے ہیںلیکن عمران خان سرکار کی ٹیم میں مزید تیل نظر نہیں آرہا ۔ مسائل بڑھ رہے ہیں ، ایف ٹی ایف گھیرا تنگ کر رہاہے اور یہ بھی خدشات پیدا ہورہے ہیں کہ آئی ایم ایف پروگرام بھی تعطل کا شکار نہ ہو جائے ۔ اقتصادی میدان سے ہی عوامی یکسوئی پیدا ہوگی ۔ خوف ، بے عزتی ، ذلت ، رسوائی دینے کی حکمت عملی غرور ، تکبر اور حماقت کی پالیسی ہی بن رہی ہے ۔


ای پیپر