سرکاری ہسپتال بند ہونے والے ہیں؟
06 ستمبر 2019 2019-09-06

مجھے ایک ’ اچھے اورکامیاب صحافی‘ کے طور پر چاہیے کہ وزیر صحت محترمہ یاسمین راشد سے اچھے تعلقات کی خاطرمیڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز ریفارمز آرڈیننس کے جاری ہونے پر خاموش رہوں مگر کیا ایک اچھے اور کامیاب انسان کے لئے ضروری نہیں کہ وہ عام انسانوں کو پہنچنے والی تکلیف پر آواز بلند کرے۔ محترمہ یاسمین راشد کہتی ہیں اور جناب عمران خان ٹوئٹ کرتے ہیں کہ بڑے سرکاری ہسپتالوں کی نجکاری نہیں کی جا رہی بلکہ انہیں بہتر اور جدید مینجمنٹ دی جا رہی ہے۔ یہ الفاظ اتنے ہی اچھے ہیں جتنے تبدیلی اور نئے پاکستان کے ہو سکتے تھے مگر ہم سب ایک برس میں ان کی عملی شکل دیکھ چکے ہیں۔ چند ماہ پہلے جب نام نہاد اصلاحات کا یہ قانون لایا جا رہا تھا تو اس وقت بھی ہمارا صحت کا پورا شعبہ سراپا احتجاج بن گیا تھا اور پنجاب سرکار نے کچھ بابوں کی ڈیوٹی لگائی تھی کہ وہ مذاکرات کریں۔ ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرامیڈکس کی تمام تنظیموں نے اپنا اتحاد قائم کر لیا تھا اور اس مسودہ قانون پر سولہ کے قریب تجاویز دی گئی تھیں، پھر یوں ہوا کہ وہ مسودہ قانون کہیں غائب ہو گیا اور اب اچانک کے پی کے صحت کے نظام کو کاپی پیسٹ کرتے ہوئے گورنر پنجاب کے ذریعے ایک آرڈیننس جاری کروا دیا گیا۔

کیا کے پی کے میں صحت کا نظام واقعی ایسا ہے کہ جسے پنجاب میں کاپی کرنے کی ضرورت ہے تو اس کے لئے آپ لاہور میں دل اور بچوں کے سپیشلائزڈ ہسپتالوں کے علاوہ دیگر بڑے ہسپتال بھی وزٹ کر سکتے ہیں جہاں آپ کو افغانستان اور پرانے قبائلی علاقوں سمیت پورے خیبرپختونخوا سے امراض قلب اور کینسر کے ایسے مریض ملیں گے جنہیں پشاور اور ایبٹ آباد کے ’ سٹیٹ آف دی آرٹ سرکاری ہسپتالوں‘ میں کہا گیا کہا کہ اگر وہ اپنا یا اپنے بچوں کا علاج کروانا چاہتے ہیں تو پانچ سے پچیس لاکھ روپے تک جمع کروائیں کہ یہ اس قانون کا تقاضا ہے جس کے تحت ہسپتال چل رہے ہیں۔ انہیں وہاں سے ہی مشورہ دیا گیا کہ اگر وہ مفت علاج کروانا چاہتے ہیں تولاہور چلے جائیں۔ میں نے چلڈرن ہسپتال کی سرائے میں ان پختونوں کو دیکھا ہے جو مفت علاج بھی کروا رہے ہیں اور مفت کھانا بھی کھا رہے ہیں لیکن اگر کے پی کے والا نظام لاہور اور پنجاب میں بھی نقل کر دیا گیا تو پھر یہ سوال ضمنی ہے کہ پختون علاج کروانے کے لئے کہاں جائیں گے، اصل سوال یہ ہے کہ غریب پنجابی کہاں جائیں گے جن کو نئے پاکستان میں دو وقت کی روٹی پوری کرنی مشکل ہو رہی ہے، مجھے کہنے میں عار نہیں کہ غریب تو ایک طرف رہے، وہ مڈل کلاس جوستر،اسی ہزار مہینہ کماتی ہے اس کے لئے نئے نظام میں موت کے سوا کوئی دوسرا آپشن نہیں رہے گا۔

عمران خان کہتے ہیں کہ ہسپتالوں کی نجکاری نہیں ہو رہی تو یہ بات اس حد تک درست ہے کہ ہمارے جناح، میو اور سروسز جیسے ہسپتالوں کی بڑی بڑی عمارتیں واقعی پٹوار خانوں کے کھاتوں میں سرکاری ہی رہیں گی مگر وہاں انتظامات سنبھالنے کے لئے پرنسپل اور ایم ایس نہیں ہوں گے بلکہ ایک بورڈ آف گورنر ہو گا جسے پی ٹی آئی کی حکومت سلیکٹ کرے گی۔ یہ گورنر مخیر حضرات بھی ہوسکتے ہیں ، کاروباری بھی اور سیاسی خاندانوں سے بھی، ان گورنروں کے پاس اختیارات ہوں گے کہ وہ ہسپتال کا خسارہ ختم کرنے کے لئے مفت علاج کی سہولت ختم کر دیں کیونکہ مفت علاج پھر صرف صحت کارڈ پر ہی ہو گا جو نواز شریف دور سے اب تک سینیتس لاکھ کی تعداد میں جاری ہوئے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ان کو ایمرجنسی میں استعمال ہی نہیں کیا جا سکتا اور باقی جگہوں پر بھی سخت شرائط ہیں لہٰذا اب تک صرف سات لاکھ ہی استعمال ہو سکے ہیں۔ بنیادی طور پر یہ کارڈ انشورنس کے نظام کے تحت جاری کئے جا رہے ہیں اور ان میں پچھلے تین برسوں میں جن صاحب نے سب سے زیادہ انشورنس کی کمپنیاں بنائی ہیں وہ پی ٹی آئی کے ایک صوبے کے گورنر ہیں۔ اس نظام کے خالق عمران خان صاحب کے کزن ہیں جو امریکا میں ہوتے ہیں مگر وہ یہ نہیں سمجھتے کہ بیرونی دنیا اور پاکستان کی فی کس آمدن میں کیا فرق ہے۔ یہاں کی مڈل کلاس کو دل، جگر ، گردے اور خون کی بیماریوں پر سرکار کی مدد کی ضرورت پڑتی ہے۔ بہرحال جہاں مریضوں کے لئے بہت بڑی مشکل ہوجائے گی وہاںان ہسپتالوں کے ڈاکٹر، نرسز اور پیرامیڈکس کو بھی ملازمت کا سرکاری اور آئینی تحفظ نہیں رہے گا۔ ہوسکتا ہے کہ ابھی آپ کو پرائیویٹ اور کنٹریکٹ جاب پر یہ لگ رہا ہو کہ اس سے ڈاکٹراورنرسیں زیادہ کام کریں گے تو جان لیں کہ کنٹریکٹ کے اس نظام کو آج سے بیس برس پہلے شہباز شریف نے نافذ کیا تھا جس میں پندرہ برس بعد ہمارے پاس سینئر رجسٹرار اور پروفیسروں کی شدید قلت ہو گئی تھی کیونکہ ہم نے کنٹریکٹ سسٹم کی وجہ سے ٹریننگ اور پروموشن کا نظام ہی ختم کر دیا تھا۔ شہباز شریف کے دور کے اس اقدام کے نتیجے میں بہت بڑا برین ڈرین ہوا اور اس وقت بھی ایسے اسسٹنٹ پروفیسرز ہیں جو وطن کی محبت میں یہاں ہیں مگر نیورو سرجری جیسے اہم اور حساس ترین شعبے میں ہونے کے باوجود ان کی تنخواہ سوا لاکھ بھی نہیں کیونکہ ان کی برس ہا برس کی ملازمت ، سنیارٹی میں شامل ہی نہیں لہٰذا وہ گھر چلانے کے لئے پرائیویٹ ملازمتیں کرنے پر مجبور ہیں۔ہمارے کچھ ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ انہیں سرکاری کی بجائے گورنروں کی جاب کرنے میں بھی کوئی اعتراض نہیں اگر ان کی تنخواہ دوگنا یا تین گنا کر دی جائے مگر میرے خیال میںیہ عیاشی بھی ممکن نہیں۔

پی ٹی آئی کہتی تھی کہ وہ سڑکیں، فلائی اوورز اور انڈر پاسز نہیں بنائے گی بلکہ انسانوں کی تعلیم اور صحت پر خرچ کرے گی مگر عملی صورتحال یہ ہے کہ پنجاب میں ہزاروں ، لاکھوں مستحق طالب علموں کے سکالرشپس بند ہوچکے ہیں اور موجودہ صورتحال میں ہسپتال بھی بند ہونے والے ہیں۔حکومت کی ترجمان اور پاسبان ایک ہی تنظیم ہے جو پی ایم اے ہے اور وہ بھی نجکاری کی مخالف ہے۔ وہ خود مختاری کی حامی ہے مگر کے پی کے ماڈل کی اسی خود مختاری اور ون لائنر بجٹ کا شاہکار شیخ زید ہسپتال لاہور ہے جہا ں دو مہینوں سے تنخواہ نہیں ملی اور یہ لاہور کا واحد سرکاری ہسپتال ہے جہاں ایک ، ایک بیڈ پر تین ، تین مریض نہیں ہوتے بلکہ یہاں نصف کے قریب بیڈہمیشہ خالی رہتے ہیں کیونکہ یہ ہسپتال بہت مہنگا ہے ، یہاں آپ کے کسی پیارے کی ڈیڈ باڈی بھی اسی وقت ملے گی جب آپ کم از کم پچیس ہزار روپے جمع کروائیں گے۔

ہمارے بہت سارے دوست کہتے ہیں کہ اسی وائے ڈی اے نے ڈاکٹر یاسمین راشد کی قیادت اورسرپرستی میں شہباز شریف دور میں ظالمانہ ہڑتالیں کی ہیں یعنی وائے ڈی اے بھی سابق حکومت کے خلاف سازش کا حصہ تھی مگر میں وائے ڈی اے کی ایمرجنسیاں اور آپریشن تھیٹر بند کرنے حکمت عملی سے اختلاف کرنے کے باوجود یہ سمجھتا ہوں کہ ڈاکٹروں کی اس تنظیم کے بارے میں ہم صحافی اور عوام جو مرضی کہتے رہیں اس نے اپنی کمیونٹی کے مفادات کا تحفظ کیا ہے چاہے پولیس گردی ہی کیوں نہ ہو رہی ہو۔ میں اس پروپیگنڈے کی نفی کرتا ہوں کہ وائے ڈی اے کی قیادت نکمے ڈاکٹروں کے ہاتھ میں رہی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اس شعبے میں ایک بڑی تحریک دوبارہ اٹھنے والی ہے اور ہیلتھ پروفیشنلز الائنس کے پلیٹ فارم سے ہسپتال بطور احتجاج بند ہونے والے ہیں اورمجھے کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اگر اس وقت یہ ہسپتال بطورا حتجاج بند نہ ہوئے تو پی ٹی آئی حکومت کے منصوبے پر عملدرآمد کے بعد ان کے دروازے ہمیشہ کے لئے غریب اورمڈل کلاس پر بند ہوجائیں گے۔


ای پیپر