نئی حکومت کے پہلے چند دن، کیا کھویا کیا پایا؟
06 ستمبر 2018 2018-09-06

کرکٹ کے میدانوں کا شہنشاہ عمران خان اب ملک کا سربراہ ہے اور مرکز سمیت دو صوبوں میں اس کی پارٹی حکمران ہے۔ کامیابی کے بعد بننے والی جنونی کیفیت میں کچھ کمی آئی تو میڈیا، سول سوسائٹی کے ارکان اور عام لوگوں کو اب حقیقت کا ادراک ہورہا ہے۔ وہ جو امید رکھتے تھے کہ خان آئے گا اور جادوئی چھڑی گھماکر چشم زدن میں تمام مسائل حل کردے گا۔ یہ اپوزیشن نہیں کہ فقط زبانی جمع خرچ پر کام چل جائے۔ جی ہاں، یہاں صرف بلند و بانگ دعوے اعلیٰ طرزِ حکمرانی کے ضامن نہیں ہوتے۔ موجودہ حکومت سے عوام وخواص کی بہت سی امیدیں وابستہ ہیں۔ وہ ملک میں فوری تبدیلی چاہتے ہیں۔ شاید پاکستان میں ایسی حکومت پہلے نہ آئی ہو، جس سے اس قدر اُمیدیں اور توقعات وابستہ رہی ہوں۔ وجہ؟ وجہ وہی ہے کہ عمران خان نے ایسے نعرے لگارکھے ہیں جو کسی بھی شخص کو ’’دیوانہ‘‘ بنادینے کو کافی ہوسکتے ہیں۔

وہی مقول نعرے کہ کچھ لوگ حکومت قائم ہونے کے اگلے ہی روز گورنر ہاؤس سندھ کے باہر کھڑے تھے۔ وہ اس کی دیواروں کے زمیں بوس ہونے کے مناظر دیکھنے کے لیے بے تاب تھے۔ ظاہر ہے ایسا ممکن نہیں، انتخابی نعروں اور عملی دنیا میں بہت فرق ہوتا ہے، سو تنقید شروع ہوگئی۔ لہٰذا اب عمران خان صحافیوں سے گذارش کر رہے ہیں کہ انہیں تین ماہ کا ہنی مون پریڈ دیا جائے اور اس دوران انہیں ’’تنگ‘‘ نہ کیا جائے۔ میڈیا کا کام ہر نامناسب کام پر تنقید ہی ہے، وہ نہ کرے تو کیا کرے!

اس حکومت کی اچھی بات یہ ہے کہ اس کے پاس منصوبہ موجود ہے۔ انتخابات سے قبل دئیے گئے 100 روزہ منصوبہ پر ایک نظر ڈالیں۔ اس میں غربت، بے روزگاری، بچوں کی نشوونما، صحت اور صاف پانی جیسے مسائل سے نمٹنے کی پلاننگ ہے۔ بلدیاتی نظام اور بیوروکریسی میں اصلاحات ہوں یا پھر پولیس میں بہتری، پاکستان کے داخلی و خارجی سیکیورٹی مسائل ہوں یا پھر ملکی قرضوں کی ادائیگی اور معیشت میں بہتری، تمام ہی معاملات کا حل پیش کرنے کا ذکر موجود ہے۔ اگرچہ ان سب مسائل کا حل بہرحال ابھی واضح نہیں ہے۔

حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو جن مسائل کا ذکر کیا گیا اور جنہیں حل کرنے کا بیڑا اُٹھانے کی بات کی گئی ہے، وہ کوئی بہت آسان نہیں۔ ان دائمی مسائل کا حل وقت طلب کام ہے اور اداروں میں اصلاحات جیسے پیچیدہ عوامل کے لیے خاصا وقت درکار ہوتا ہے۔ اس لیے حکومت نے وقتی طور پر عوام کی توجہ بٹانے کے لیے مختلف شعبدے بازیاں شروع کی ہیں۔ سادگی مہم ہی کو لے لیں، ایسے معاملات نظر کو بھلے لگتے ہیں اور دل کو بھاتے ہیں لیکن ان سے ملک کے اقتصادی بحران پر کتنا اثر پڑے گا، یہ کسی ماہر اقتصادیات سے پوچھا جانا چاہیے۔

’’میں وزیر اعظم ہاؤس میں نہیں رہوں گا۔‘‘ یہ عمران خان کا وہ انتخابی دعویٰ تھا جو سب سے پہلے ان کے لیے گلے کی ہڈی ثابت ہوا۔ پہلے پارلیمنٹ لاجز اور پھر وزیر اعظم ہاؤس سے منسلک گھر میں رہنے کا فیصلہ ان کے لیے حقیقت کا پہلا جھٹکا تھا۔ اول تو ایسے کسی دعوے کی ضرورت ہی نہیں تھی، وزیر اعظم ہاؤس بنایا ہی اس مقصد کے لیے گیا ہے کہ وزیر اعظم اور ان کا ماتحت اسٹاف حکومتی معاملات کو کسی محفوظ مقام پر رہتے ہوئے باآسانی چلاسکیں۔ اسے قومی مسئلہ بناکر پیش کرنا نہایت غیر ضروری عمل تھا۔ بلٹ پروف گاڑیوں کا مسئلہ، میرے نزدیک یہ بھی نہ صرف غیرضروری بلکہ نامناسب اقدام تھا۔

تصور کریں کہ اگر ان کی فروخت کے بعد پاکستان سارک یا ایسے کسی دوسرے فورم کی میزبانی کرتا ہے جہاں دنیا بھر سے سربراہان مملکت ہمارے ہاں تشریف لاتے ہیں تو ایسی صورت میں یہ گاڑیاں دوبارہ اضافی قیمتوں میں خریدنی پڑیں گی جس سے قومی خزانے پر مزید بوجھ پڑے گا یا پھر کرائے پر حاصل کرنے کے بدترین بوجھ کا ہمیں سامنا کرنا پڑے گا۔ ہم کوشش تو کرسکتے ہیں لیکن کسی ملک کے سربراہ کو یہ سمجھانا ایک مشکل کام ہے کہ انہیں ہزار سی سی کار میں سفر کرنا پڑے گا۔ پھر ایک ایسے ملک میں، بدقسمتی سے جس سے متعلق دنیا میں دہشت گردی کا ڈھنڈورا پیٹا جارہا ہو۔

یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ کچھ چیزیں چاہ کر بھی قابلِ عمل نہیں ہوتیں۔ مثلاً: عمران خان مختلف یورپی ممالک کی مثالیں دیتے رہے ہیں کہ ان کے سربراہان سائیکل پر اپنے دفاتر آیا کرتے ہیں۔ کیا ایسی کوئی مثال ہم پیش کرسکتے ہیں؟ ہرگز نہیں، ہمارے اپنے مسائل ہیں۔ لیکن جب ہم نعرے لگاتے ہیں اور جب حقیقت کی دنیا میں آتے ہیں تو دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات ایسی ہی دو متضاد چیزوں کو یکساں ثابت کرتے کرتے بری طرح پھنس گئے۔ کس شانِ بے نیازی سے کہہ گئے کہ ہیلی کاپٹر کا سفر زمینی سفر سے سستا پڑتا ہے اس لیے عمران خان ہیلی کاپٹر استعمال کرتے ہیں۔ ٹی وی شو کے میزبان نے استفسار تو کرنا تھا کہ بھائی کیسے اور کتنا سستا پڑتا ہے؟ اس پر حضور نے فرمادیا کہ جناب 50 سے 55 روپے فی کلو میٹر۔ پھر کیا تھا، ان کا یہ بیان سوشل میڈیا پر لطیفہ بن کر رہ گیا۔ مجبوراً توجیہہ پیش کرنا پڑی کہ انہوں نے یہ معلومات گوگل کی تھیں۔ ان کی اس ’’معاملہ فہمی‘‘ نے مخالفین کو حکومت پر تنقید کرنے کا بہانہ دے دیا جس کا میڈیا اور اپوزیشن نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔

ابھی لوگوں کا دل ہیلی کاپٹر والے لطیفوں سے بھرا بھی نہیں تھا کہ پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے سوچا وہ کیوں پیچھے رہیں؟ عقل و دانش ایسی ارسطو کو شرمندہ کردے۔ سوچ میں وہ گہرائی کہ سقراط پانی بھرتا نظر آئے۔ موصوف کے نزدیک 12 کروڑ آبادی والے صوبے کو درپیش بے شمار مسائل میں سے سنیما ہالوں کے باہر بل بورڈز اور اسٹیج ڈراموں میں عورتوں کا رقص ہی سب سے بڑے مسائل ہیں۔ جی ہاں، آپ نے درست پڑھا، ان کے نزدیک تعلیم، صحت، نہ پولیس اصلاحات۔۔۔ بس کچھ رقاصائیں اور سنیما مالکان ہیں جو صوبے کے تمام مسائل کا بنیادی سبب ہیں۔

ابھی چوہان صاحب کے بیانات، مغلظات اور معذرت کی گونج تھمی نہیں تھی کہ پنجاب ایک بار پھر شہ سرخیوں میں تھا، اب کی بار نئے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار (جن کی تقرری خود ایک سوالیہ نشان ہے) کی جانب سے لاہور سے پاکپتن کے سفر کے لیے مع اہل و اعیال سرکاری ہیلی کاپٹر کا استعمال تھا۔ ایک بار پھر حکومت کو ایک نان ایشو پر وضاحتیں دینا پڑیں، ایک بار پھر میڈیا کو سرکاری خزانے پر پڑنے والے بوجھ کا حساب کتاب لگانے کا موقع مل گیا۔ اگلے ہی روز ڈی پی او پاکپتن کی سرزنش کے معاملے نے میدان گرمادیا۔ معاملہ مسئلہ سوشل میڈیا سے شروع ہوکر مین اسٹریم میڈیا اور پھر عدالت عظمیٰ تک پہنچ گیا۔

مزید سنجیدہ مسائل جن پر پھونک پھونک کر قدم رکھنا تھا اور جن کا تعلق نازک ترین خارجہ پالیسی سے تھا۔ انہیں بھی مذاق کی نذر کردیا گیا۔ مائک پومپیو فون کال پر پاک امریکا تنازع۔ یہ معاملہ خارجہ آفس اور وزیر خارجہ کی طرف سے نہایت بھونڈے انداز میں ہینڈل کیا گیا۔ پہلی بات تو یہ کہ دفتر خارجہ کی ہدایت کے مطابق، کال وزیر اعظم کے بجائے وزیر خارجہ کو سننی چاہیے تھی۔ پھر کال پر جو بھی بات چیت ہوئی، اسے معقول انداز میں مینیج کیا جاسکتا تھا۔ امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے بھی اپنے بیان سے پیچھے ہٹنے سے انکار کیا اور جب بات آگے بڑھی تو کال ٹرانسکرپٹ جاری کردیا جو خارجہ آفس اور حکومت دونوں کے لیے سبکی کا باعث بنا۔

ابھی اس کال کا معاملہ زیرگردش ہی تھا، کہ ایک اور کال آٹپکی۔ وزیر اعظم کی صحافیوں کے ساتھ نشست کے بعد یہ خبر دی گئی کہ جناب وزیر اعظم نے فرانس کے صدر کا فون سننے سے انکار کردیا کہ اس وقت وہ کچھ سینئر صحافیوں کے ساتھ ملاقات میں مصروف تھے۔ اس خبر پر تحریک انصاف کے حامیوں کے تبصرے نہایت دلچسپ تھے، جو نہ صرف خبر پر فوری ایمان لے آئے بلکہ اسے غیر ملکی تعلقات کو منظم کرنے کا ایک موثر طریقہ بھی سمجھ رہے ہیں۔ در اصل ریاستی سطح پر اس قسم کے رابطوں سے قبل متعلقہ سفارت خانوں کے درمیان باہمی رابطوں کے ذریعے وقت کا تعین کیا جاتا ہے۔ جلد بازی کی وجہ سے حکومت کو اس محاذ پر بھی شرمندہ کا سامنا کرنا پڑا۔

ایسا پہلی بار ہے کہ اتنی حماقتوں اور بھونڈی حرکتوں کے با وجود اس ملک کے عوام نئی حکومت کو وقت دینا چاہتے ہیں۔ خوش قسمتی یہ کہ میدان ان کے لیے صاف ہے۔ فوج ان پر مکمل اعتماد کرتی ہے۔ پیپلز پارٹی ان کی بی ٹیم کے طور پر سیاست کررہی ہے اور اپوزیشن کی جانب سے ہر مزاحمت کا قلع خود ہی قمع کردیتے ہیں جبکہ ان کا سب سے بڑا حریف جیل میں ہے۔ اس موقع کو غنیمت جاننا چاہیے۔ اس ملک میں حالات بدلتے کوئی دیر نہیں لگتی۔ مجھے پچھلے دنوں اڈیالہ جیل میں میاں نواز شریف اور مریم نواز سے ملاقات کرنے کا اتفاق ہوا۔ اگر پی ٹی آئی سوچ رہی ہے کہ مسلم لیگ نون اب قصہ پارینہ بن چکی ہے تو وہ خواب غفلت میں ہیں۔ بعید نہیں کہ مستقبل قریب میں مریم نواز جیل سے نکل کر ان کے لیے ایک بڑی آزمائش بن جائیں۔

فی الحال ہوائیں خان کے موافق ہیں، انہیں اس سے بھر پور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ اہم ترین ہدف یہی ہو کہ اپنے وزرا اور پارٹی ارکان کو کنٹرول کیا جائے۔ یہ یقینی بنایا جائے کہ اب ہم حکومت میں ہیں، ہماری معمولی غلطی انفرادی نہیں، اجتماعی کہلائے گی۔ ریاست کے معاملات کو چلانے کی کوشش میں گوگل اور وکی پیڈیا سے استفادے کے بجائے حقائق پر بات کریں۔ دوسروں کی طرح میں بھی پُرامید ہوں کہ خان اپنی ٹیم کے ہمراہ اپنے بلندو بانگ دعوؤں کے بوجھ تلے دب کر سیاسی موت نہیں مرے گا۔


ای پیپر