اقتصادی مشاورتی کونسل میں قادیانی رکن کی شمولیت پر تنازع؟

06 ستمبر 2018

غلام نبی مدنی

31اگست2018کو وزیراعظم عمران خان کی جانب سے 18رکنی اقتصادی مشاورتی کونسل کا اعلان کیا گیا۔ جس میں 7سرکاری اور11غیرسرکاری ماہر معاشیات کو نسل کا رکن بنایا گیا۔ وزیراعظم کی جانب سے بنائی گئی اس اقتصادی مشاورتی کونسل کے قیام کا مقصد پاکستان کو درپیش معاشی مسائل سے نکلنے کے لیے حکومت پاکستان کو مشاورت دینا اور معیشت کومضبوط بنانے کے لیے نیا اور کارآمد لائحہ عمل بتانا ہے۔پاکستانی قوم کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کے اس اقدام کو سراہا جارہاہے ۔وزیراعظم عمران خان انتخابات سے پہلے ملک بھر میں کرپشن کے خاتمے ،پاکستان کوقرضوں سے نجات دلانے،ملک سے بیروزگاری اور غربت کے خاتمے سمیت پاکستان کی معیشت کو دنیا کی مضبوط اور طاقتور معیشت بنانے کے دعوؤں سے عوام میں اپنی مقبولیت بنائی۔حکومت سنبھالنے کے بعد اپنے100روزہ ابتدائی حکومتی منصوبے میں بھی سرفہرست پاکستان کی معیشت کو رکھا گیا۔یہی وجہ ہے کہ بیرون ملک سے پاکستانی عوام کی لوٹی ہوئی دولت کو واپس لانے کے لیے وزیراعظم کی جانب سے سپیشل ٹاسک فورس بھی قائم کردی گئی ہے جب کہ ملک میں کرپٹ مافیا کے خلاف بھرپور کاروائی کے لیے نیب کو فی الفور کاروائی کا حکم بھی دیا گیا۔
دوسری جانب پاکستان کی معیشت کو قرضوں سے نجات دلانے اور معیشت کو مضبوط کرنے کے لیے وزیراعظم عمران خان نے 18رکنی اقتصادی مشاورتی کونسل کے قیام کا اعلان کیا ہے۔اس کونسل میں شامل تمام اراکین معیشت کے حوالے بہترین تجربہ رکھتے ہیں۔لیکن بدقسمتی سے اس کونسل میں ایک ایسے رکن کو بھی شامل کیا گیا ہے جو ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں رکھتا۔ کونسل میں شامل منکر ختم نبوت رکن کانام ڈاکٹر عاطف میاں ہے۔یہی ڈاکٹرعاطف ہیں جن کاذکر عمران خان نے اسلام آباد دھرنے میں کیا تو ملک بھر سے شدید احتجاج ہوا ۔جس کے بعد عمران خان نے اپنے ایک بیان میں وضاحت دیتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے ڈاکٹر عاطف کا نام صرف اس لیے ذکر کیا کہ انہوں نے کسی میگزین میں پڑھا تھا کہ وہ تجربہ کار معیشت دان ہیں۔اس کے ساتھ عمران خان نے عقیدہ ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کا منکر غیر مسلم ہے۔اگست2018 میں برطانیہ میں قادیانیوں کے سالانہ جلسے میں برطانوی رکن پارلیمنٹ نے بھی عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا اب عمران خان کو قادیانیوں کے حوالے سے نرم رویہ اختیار کرنا ہوگا۔
حیرت ہے اس کے باوجود عمران خان نے اقتصادی کونسل میں منکر ختم نبوت اور منکر آئین پاکستان کو شامل کردیا۔ آئین پاکستان میں عقیدہ ختم نبوت کے منکرین کو غیرمسلم قراردیا جاچکاہے۔قادیانیوں نے 1974سے آج تک پاکستان کے اس آئین کو تسلیم نہیں کیا۔یہی وجہ ہے کہ آج بھی ہرقادیانی پاکستان کے آئین کی خلاف وزری کرتے ہوئے خود کو مسلمان یااحمدی مسلمان کہلاتاہے۔حالاں کہ مسلمان صرف وہ ہے جونبی خاتم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم پر بایں طور ایمان رکھتا ہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔اسی طرح قادیانیوں کے عقیدے میں ہرقادیانی کے لیے لازم ہے کہ (معاذاللہ) وہ قادیانیوں کے سربراہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانے۔1974کی قومی اسمبلی میں قادیانیوں کے سربراہ نے برملا اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ جو مرزاغلام احمد قادیانی کو نہ مانے تو قادیانیوں کے ہاں وہ کافر ہے جس پر پورا ایوان ہکابکارہ گیا تھا۔اس کے علاوہ قادیانی آج بھی دنیا بھر میں پاکستان کے خلاف پراپیگنڈہ کرتے ہیں انہیں پاکستان میں حقوق نہیں دیے جاتے ۔حالاں کہ دیگر اقلیتوں کی طرح پاکستان میں قادیانیوں کو مکمل حقوق حاصل ہیں۔مگر اصل مسئلہ یہ ہے کہ قادیانی خود کو اقلیت تسلیم ہی نہیں کرتے وہ پاکستان کے آئین میں قادیانیوں کو اقلیت قراردیے جانے والے فیصلے کو ظلم سمجھتے ہیں بھلا پھر کیسے کہا جاسکتاہے کہ انہیں حقوق نہیں دیے جاتے ۔یقین نہ آئے تو حالیہ انتخابات میں قادیانیوں کے رویے کو ملاحظہ کرلیں ،قادیانیوں نے حالیہ انتخابات کا بائیکاٹ کیا کیوں کہ انہیں اقلیت کیوں قراردیاگیا؟حالاں کہ حالیہ انتخابات میں ہندو اقلیت سے ایک رکن قومی اسمبلی اور ایک رکن سندھ اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے ،مگر قادیانی اقلیت سٹیٹس کو تسلیم کیے بغیر خود کو مسلمان کہتے ہیں اور آئین کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔کیا آئین پاکستان کی خلاف ورزی کرنے والوں کوپاکستان کے اہم عہدوں پر فائز کیا جاسکتاہے؟
قادیانیوں کا ماضی میں بھی پاکستان مخالف ریکارڈ رہاہے۔پاکستان کے پہلے وزیرخارجہ ظفراللہ خان نے بانی پاکستان ؒ قائد اعظم محمد علی جناح کا جنازہ اس لیے نہیں پڑھا کہ وہ بانی پاکستان کو مسلمان نہیں سمجھتے تھے۔مسئلہ کشمیر کی اصل بنیاد بھی ظفراللہ خان قادیانی ہی نے ڈالی تقسیم کے وقت ۔ظفر اللہ خان قادیانی نے ہندوؤں اور باؤنڈری کمیشن کے سربراہ اور وائسرائے ہند سے مل کر پاکستان کیخلاف ایسی گھناؤنی اور شرمناک سازشیں کیں جن کی وجہ سے ہندوستان کی کئی مسلم ریاستوں حیدرآباد دکن ، ریاست کشمیر ، تحصیل پٹھانکوٹ، گجرات، شکر گڑھ ، گورداسپور اور کئی مسلم اکثریتی علاقے ریڈکلف ، ماؤنٹ بیٹن اور ظفراللہ قادیانی کی سازش اور بے ایمانی سے بھارت کو مل گئے ۔ تاریخ کے اوراق میں اس سازش کے کئی پوشیدہ ثبوت موجود ہیں ۔ تقسیم کے وقت گورداسپور میں 51فیصد مسلمان تھے 49فیصد ہندو اور 2فیصد قادیانی تھے ۔ طے یہ تھا کہ اکثریت کی بنیاد پر فیصلہ ہوگا ، اس موقع پر قادیانیوں نے ہندوؤں کا ساتھ دیا اور مسلمانوں سے الگ ہوگئے ۔ اس طرح ہندو49فیصد سے 51فیصد ہوگئے اور مسلمان 51فیصد سے 49فیصد رہ گئے یوں قادیانیوں اور ہندوؤں کی ملی بھگت سے گورداسپور جاتا رہا ۔واحد زمینی راستہ جو کہ گورداسپور سے کشمیر کو جاتا تھا ۔ بھارت نے اپنی فوجیں کشمیر میں داخل کرکے ناجائز قبضہ کرلیا دوسرے لفظوں میں ریاست کشمیر کیخلاف ریڈکلف ماؤنٹ بیٹن اور قادیانیوں نے ناپاک سازش تیار کی جس کے نتیجے میں کشمیر کا مسئلہ پیدا ہوا ہے ۔قادیانیوں کے بارے علامہ اقبالؒ نے بھی اپنی نظموں اور اپنے خطوط میں کئی بار لکھا کہ قادیانی اسلام اور مسلمانوں کے لیے خطرناک ہیں۔عقیدہ ختم نبوت کا منکر بہرصورت کافر ہوگا۔قیام پاکستان سے پہلے خطہ کشمیر پر ایک کمیشن بنایا گیا جس میں علامہ اقبالؒ کو بھی شامل کیا گیا مگر کچھ عرصے بعد علامہ اقبالؒ کمیشن سے اس لیے مستعفی ہوگئے کہ کمیشن سربراہ جو قادیانی تھا اس کمیشن کو قادیانیت کی تبلیغ وفوائد کے لیے استعمال کررہاتھا۔علامہ اقبال ہی کی فکر کو آگے بڑھاتے ہوئے پاکستان کی قومی اسمبلی نے 7ستمبر1974کو قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قراردیا۔قومی اسمبلی سے بنائے گئے اس آئین کا مقصد قادیانیوں اور مسلمانوں کے درمیان سالہا سال سے جاری تنازع کو ہمیشہ کے لیے ختم کردیا گیا۔لیکن بدقسمتی سے نوازشریف دور حکومت میں ختم نبوت حلف نامے میں تبدیلی کرکے پاکستان میں بسنے والے کروڑوں عاشقان ختم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کے جذبات کو مجروح کیا گیااور اب عمران خان حکومت میں ایک قادیانی کو پاکستان کی معیشت کے لیے پالیسی میکر بناکر مسلمانوں کو مشتعل کرنے کی راہ ہموار کی جارہی ہے۔اس سے پہلے 21اگست 2018کو فیصل آباد میں قادیانیوں کے مسلمانوں پر حملے کے بعد تحریک انصاف کابینہ میں انسانی حقوق کی وزیر نے قادیانیوں کو مسلمان کہہ کر آئین پاکستان کی خلاف ورزی کی تھی جس پر مسلمان تاحال رنجیدہ ہیں۔دوسری طرف تحریک انصاف کے وزیراطلاعات فواد چوہدری نے اقتصادی کونسل میں ڈاکٹر عاطف میاں قادیانی کی شمولیت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اسلامی نظریاتی کونسل کا چیئرمین نہیں لگایا جس پراعتراض کیا جارہاہے۔فواد چوہدری نے مزید کہا کہ "ڈاکٹرعاطف قادیانی پر اعتراض کرنے والے شدت پسند ہیں"۔فواد چوہدری کا یہ بیان پاکستان میں بسنے والے ہر اس مسلمان کے دل کو چیرنے والا جس کے دل میں رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پیوست ہے۔کس قدر ڈھٹائی کے ساتھ فواد چوہدری نے پاکستان کے 22کروڑ مسلمانوں کو شدت پسند قرار دیا۔تحریک انصاف کے ان اقدامات سے ملک میں انتشار اور فساد کا اندیشہ ہے۔تحریک انصاف کو شاید اندازہ نہیں کہ عقیدہ ختم نبوت اورعقیدہ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کا تحفظ ہر مسلما ن کے ایمان کا حصہ ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔
عمران خان حکومت کو اس بات کا ادراک کرنا ہوگا کہ رسول اکر م صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس اور عزت دنیا کے ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کے نزدیک ریڈ لائن ہے،جو کوئی اسے کراس کرنے کی کوشش کرے، دنیا کا ادنی سے ادنی مسلمان بھی اسے برداشت نہیں کرسکتا۔بھلا پھر کیسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم پر حملے کرنے والوں کو کوئی مسلمان برداشت کرسکتاہے؟اس لیے عمران خان حکومت کو فی الفور قادیانی رکن عاطف میاں کو اقتصادی کونسل سے نکال کر عقیدہ ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کے حامل شخص کو کونسل کا رکن بنانا چاہیے۔اگرایسا نہ کیا گیا تو پھر ن لیگ حکومت میں ختم نبوت حلف نامے میں تبدیلی کی وجہ سے جو نقصان ن لیگ کو برداشت کرنا پڑا اس سے کہیں زیادہ نقصان تحریک انصاف کو بھی برداشت کرنا پڑسکتاہے، جو تحریک انصاف جماعت اور حکومت کے خاتمے کا سبب بھی بن سکتاہے۔

مزیدخبریں