یومِ تحفظ ختم نبوت کے حقیقی تقاضے
06 ستمبر 2018 2018-09-06

قادیانیت مذہب کے پردے میں ایک سیاسی تحریک ہے ،جسے برطانوی شاطر سیاسی مقاصدکے حصول کے لیے معرضِ وجودمیں لائے تھے۔ مرزاغلام احمدقادیانی کے دورہی میں قادیانیت کے مذہبی نقاب سے پردہ اٹھناشروع ہو گیا تھا، جب 1897ء میں مرزاقادیانی نے خلافت عثمانیہ کے خلاف اشتہارات چھاپے ،ترک حکومت کی مخالفت میں برطانوی وفاداری کاعزم دُہرایااورترک حکومت کو ’’سرچشمۂ ظلمت‘‘کہہ کرنہ صرف اُس کی مذمت کی،بلکہ سلطنت عثمانیہ کے خلیفہ کی عبرت ناک موت کی پیش گوئی بھی کرڈالی تھی،جس پر روزنامہ’’سراج الاخبار‘‘جہلم نے اِس پر شدید احتجاج کا اظہارکیاتھا۔مرزاقادیانی کے جانشین حکیم نورالدین نے بھی تُرکوں کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھیں اورعربوں میں خلافت عثمانیہ کے خلاف پراپیگنڈا کے لیے کئی وفودبھیجے۔جب مرزاقادیانی کابیٹامرزابشیرالدین قادیانی جماعت کا سربراہ بناتواُس نے بھی مسلمانوں سے بے وفائی کا مشن جاری رکھا اورجنگ عظیم اوّل کے دوران کھل کر سلطنت عثمانیہ کے خلاف انگریزوں کا مکمل ساتھ دیا۔ ایسے قوم فروشوں کی بدولت ترکی کوشکست ہوئی اورعراق پر انگریزوں کاقبضہ ہوگیا ۔جسٹس محمدمنیر کے مطابق ’’قادیان میں اس’’فتح‘‘پر جشن مسرت منایاگیا تو مسلمانوں میں شدیدبرہمی پیداہوئی اوراَحمدی انگریزوں کے پٹھو سمجھے جانے لگے۔‘‘(منیرانکوائری رپورٹ: اردو: صفحہ209)

بیسویں صدی کی دوسری دہائی کے آخرمیں کشمیرکی سیاسی صورت حال ابترہوئی تو قادیانیوں نے اِس صورت حال سے فائدہ اٹھانے کے لیے جولائی 1931ء میں مسلمان رہنماؤں کا شملہ میں اجلاس طلب کرلیا،کشمیرکمیٹی کا قیام عمل میں آیا۔قادیانی سربراہ مرزابشیرالدین کشمیرکمیٹی کے صدراورعبدالرحیم دردقادیانی جنرل سیکرٹری بن بیٹھے۔کمیٹی کا صدردفتر قادیان میں قائم کیاگیا اورکشمیری مسلمانوں سے ہمدردی کے نام پر کشمیرکو قادیانیت کی تبلیغ کا ہدف بنالیاگیا۔مجلس احراراسلام کے دُوراَندیش رہنماؤں نے صورت حال کا ادراک کرتے ہوئے قادیانیوں کے ارادوں کو خاک میں ملادیا۔ احرار نے کشمیری مسلمانوں کے لیے پہلی عوامی تحریک کا آغازکیا،جسے علامہ محمداقبال کی تائیدبھی حاصل تھی۔مرزابشیرالدین کو کشمیرکمیٹی کی صدارت سے الگ ہونا پڑا۔تحریک کے نتیجے میں کشمیری مسلمان قادیانیت کے نرغے میں آنے سے بچ گئے۔تحریک پاکستان میں بھی قادیانیوں کا منفی کردارتاریخ کا حصہ ہے۔جسٹس منیرلکھتے ہیں کہ ’’جب پاکستان کا دُھندلاساخواب مستقبل کی ایک حقیقت کا رُوپ اختیارکرنے لگاتو اُن کویہ اَمرکسی قدردُشوارمعلوم ہواکہ وہ ایک نئی مملکت کے تصورکو مستقل گواراکرلیں....اُن کی بعض تحریروں سے ظاہرہوتاہے کہ وہ تقسیم کے مخالف تھے اورکہتے تھے کہ اگر ملک تقسیم بھی ہوگیاتووہ اُسے دوبارہ متحدکرنے کی کوشش کریں گے۔اس کی وجہ واضح طورپر یہ تھی کہ احمدیت کے مرکز’’قادیان‘‘کا مستقبل بالکل غیریقینی نظر آرہاتھا۔جس کے متعلق مرزا صاحب بہت سی پیش گوئیاں کرچکے تھے‘‘۔ (منیر انکوائری رپورٹ: (اردو): صفحہ: 209) لہٰذا پنجاب کی تقسیم کی موقع پر بھی قادیانیوں نے گھناؤناکھیل کھیلااورقادیان کو پاکستان میں شامل ہونے سے بچانے کے لیے ریڈکلف سے سازبازکرکے کشمیرکو بھارت کی جھولی میں ڈال دیا۔

جب قادیانیوں کی خواہشات کے برعکس پاکستان وجودمیں آگیاتو قادیانی نچلے نہ بیٹھے اورمرزابشیرالدین نے صوبہ بلوچستان کو قادیانی صوبہ بنانے کی مہم کا اعلان کردیا۔ وزارت خارجہ پر سرظفراللہ قادیانی براجمان تھے۔جن کی برطرفی کے لیے مسلمانوں نے مجلس احراراسلام کی قیادت میں 1953ء میں تحریک مقدس تحفظ ختم نبوت چلائی،جسے ریاستی جبرکے زورپر کچل دیاگیا،لیکن تحریک کی راکھ میں پوشیدہ چنگاری سلگتی رہی۔حتیٰ کہ 29؍مئی1974ء کورَبوہ(چناب نگر)ریلوے سٹیشن پر مسلمان طلباء پر قادیانیوں کے تشددکا واقعہ پیش آگیااورتحریک تحفظ ختم نبوت کا فیصلہ کن مرحلہ شروع ہوگیا۔معاملہ قومی اسمبلی میں پہنچااوروہاں قادیانی سربراہ مرزاناصر احمداورلاہوری مرزائیوں کے رہنماؤں سے کئی دن تک طویل مکالمہ ہوتارہا۔قادیانیوں کے دونوں فرقوں کو اَپنے عقایدکی وضاحت کا مکمل آزادانہ ماحول میسر کیا گیا۔ 7؍ ستمبر 1974ء کے تاریخی دن کو پاکستان کی قومی اسمبلی نے قادیانیوں کے کفرکے بارے میں قرآن وسنت کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے بالاتفاق قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت قراردے دیا۔یہ فیصلہ کرنے والوں میں صرف مذہبی ارکان نہیں،بلکہ تمام لبرل اورسیکولراَراکین اسمبلی بھی شامل تھے ۔1973ء کے آئین کی متفقہ منظوری کے بعدقادیانیوں کے بارے میں دوسری آئینی ترمیم کے ذریعے کیاجانے والا یہ متفقہ ترین فیصلہ تھا۔یہی وہ فیصلہ تھا کہ جس کو رُوبہ عمل لانے کے لیے طویل مدت سے تمام مسالک کے علماء،مشائخ اوررہنمامطالبہ کرتے چلے آرہے تھے۔اِسی فیصلہ ہی کے لیے مفکر پاکستان علامہ محمداقبالؒ نے 1935ء میں حکومت برطانیہ سے قادیانیوں کو غیرمسلم قراردینے کا مطالبہ کیاتھا۔اِس تاریخی فیصلے کی خاطرہی ہزاروں فرزندانِ اسلام نے قیدوبندکو قبول اورشہادتوں کے نذرانے پیش کیے تھے۔ قادیانی اِس آئینی فیصلے کو ماننے سے انکاری ہیں اوراُن کا آئین سے انکاربرابرجاری ہے۔حالانکہ یہ خود قادیانی ہی تھے کہ جنہوں نے بہت پہلے ہی سے اپنے آپ کو اُمت مسلمہ سے الگ کرلیاتھا۔مرزاغلام احمدقادیانی اپنے نہ ماننے والے تمام مسلمانوں کو کافرقراردے چکے تھے۔جس کی بناء پر علامہ اقبال نے کہاتھا کہ:

پنجاب کے اربابِ نبوت کی شریعت

کہتی ہے کہ یہ مؤمن پارینہ ہے کافر

قادیانیوں کے آئینی طور پر اِقلیت پاتے ہی قادیانیوں کا ہیڈکوارٹر رَبوہ (چناب نگر) کھلا شہر قرار پایا۔ جس کے نتیجے میں مجلس احراراِسلام نے وہاں فرزندانِ امیر شریعتؒ مولانا سید ابوذربخاری ؒ اور مولانا سیدعطاء المحسن بخاریؒ کی قیادت میں 27فروری 1976ء کو مسلمانوں کی پہلی مسجد:’’ جامع مسجداَحرار‘‘کا سنگ بنیاد رکھا۔ اگرچہ پاکستان کی اسمبلی کے فیصلے کے بعددُنیاکے تمام اسلامی ممالک میں بھی قادیانیوں کی آئینی حیثیت کا تعین کرتے ہوئے ،اُن کاشمارغیرمسلم اقلیتوں میں ہوتاہے،مگر قادیانی یورپ،امریکہ اورافریقہ وغیرہ میں خودکو مسلمان ظاہرکرتے ہیں اوراِسلام کے نام پر قادیانیت کی تبلیغ کرکے مسلمانوں کو مُرتدبنانے میں مصروف ہیں۔ضرورت اِس امرکی ہے کہ حکومت پاکستان اپنے سفارت خانوں کے ذریعے دیگرممالک پرقادیانیوں کی اسلام دشمنی واضح کرے ، تاکہ عالمی سطح پراُن کی بحیثیت غیرمسلم شناخت آشکاراہوجائے ۔نیزپاکستا ن میں اُن کی مسلسل اسلامی شعائر کی توہین اورآئینی خلاف ورزیوں کا سدباب کیاجائے۔جبکہ تحفظ ختم نبوت کے محاذپر مصروفِ عمل جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اب پرانے مناظرانہ طریقۂ کارکی بجائے عمدہ اورنرم اُسلوب میں قادیانیوں کو اِسلام کی دعوت دیں اوراُن کو ملتِ اسلامیہ کے اجتماعی دھارے میں لانے کے لیے کمربستہ ہوجائیں۔ بنظرغائردیکھاجائے تو درحقیقت یہی یومِ تحفظ ختم نبوت کے حقیقی تقاضے ہیں جو اِسلام کا مقصود اَورمسلمانانِ عالم کی دل کی آوازہیں۔


ای پیپر