مصنوعی طریقوں سے عوامی حمایت کرنے کی کوشش

06 ستمبر 2018

تاثیر مصطفی

50 لاکھ گھر وں اور ایک کروڑ نوکریوں کے وعدے کے ساتھ تحریک انصاف نے وفاق، خیبرپختون خوا اور پنجاب میں کامل، بلوچستان میں مخلوط اور سندھ میں ایف اے پاس گورنر کے ساتھ حکومتیں بناکر کام توشروع کردیا ہے۔لیکن اس کے ابتدائی اقدامات میں ناتجربہ کاری،جلد بازی اور مصنوعی پن کا عنصر ذیادہ نمایاں ہے خواجہ سعد رفیق کے حلقہ میں ووٹوں کی جاری گنتی کو رکونے کی کارروائی سے لے کر ،حکومت سازی میں سپریم کورٹ سے نااہل جہانگر ترین کی ضرورت سے بڑھی ہوئی مداخلت، خیبر پختونخوا اور پنجاب میں متنازع وزرائے اعلی کاتقرر، وفاقی کابینہ میں سیاسی قلابازوں کی بھرمار، گورنر بلوچستان کے لیے نیب زدہ شخص کی نامزدگی، امریکی وزیر خارجہ کے ساتھ ہونے والی گفتگو کا تنازعہ ،کراچی کے شہری کی ایم پی اے کے ہاتھوں تذلیل اور جواب میں ایک مضحکہ خیز سزا، پاک پتن میں ڈی پی او کی گلے پڑجانے والی سبکدوشی اور اس پر سپریم کورٹ کا نوٹس،شیخ رشید کا اپنے ماتحت افسر کے ساتھ شیٹ اپ کالز کا تبادلہ ،وفاقی وزیر اطلاعات کے بے سرو پا دعوے ، عامر لیاقت کی خواہشوں تلے دبی بغاوت، وزیر اطلاعات پنجاب کی گالی گلوچ اور پروٹوکول، اور سیکیورٹی کی من پسند تاویلوں کے معاملات نے نہ صرف درجنوں سوالات اٹھا دیے بلکہ یہ تاثر بھی پھیلا دیا کہ حکومت چھوٹے چھوٹے نان ایشوز میں الجھ کر رہ گئی ہے لگتا ہے کہ نئی حکومت نے کسی ہوم ورک کے بغیر جلد بازی میں کام شروع کیا، اور اصل اہداف کے بجائے مصنوعی اور کاسمیٹکس طریقوں کے ذریعے عوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی ۔ حکومت اب بھی روایتی میڈیا اور سوشل میڈیا پر بہت زیادہ انحصار کیے ہوئے ہے، حالاں کہ اسے معلوم ہے کہ نوازشریف کو موجودہ انجام تک اُن کے وزیر اطلاعات پرویز رشید اور مریم نواز کے میڈیا سیل نے پہنچایا ہے۔
حکمرانوں نے ابھی تک اپنے پارٹی منشور اور عمران خان کے دعووں/ وعدوں کی جانب پہلا قدم بھی نہیں اٹھایا، سابقہ حکمرانوں کی غلطیوں سے بھی کوئی سبق سیکھنے کا عملی مظاہرہ نہیں کیا، بلکہ زیادہ تر کام وہی کیے ہیں جو سابقہ حکمران کرتے رہے ہیں۔
اس وقت ملک پر غیر ملکی قرضوں کا بوجھ ہے، معیشت زبوں حالی کا شکار ہے، بے روزگاری انتہا کو پہنچی ہوئی ہے، ادارے تباہ اور ان کی کارکردگی صفر ہے، صنعتوں اور کاروبار کا حال پتلا ہے، عوام کو تعلیم، صحت اور ٹرانسپورٹ کی بنیادی سہولتیں بھی حاصل نہیں، رشوت اور کرپشن پر مبنی دفتری نظام نے عوام کو نچوڑ کر رکھ دیا ہے، انصاف اتنا مہنگا ہے کہ عام آدمی اُس جانب دیکھ بھی نہیں سکتا۔ ان مشکلات کے علاوہ اسٹیبلشمنٹ اور الیکٹ ایبلز کا دباؤ بھی ہے۔ وزیراعظم سادگی کے دعووں اور مظاہروں کے ساتھ پانچ سال پورے نہیں کرسکتے، انہیں ابھی ایوانوں کو بھی چلانا ہے، جہاں تجربہ کار اور مضبوط اپوزیشن موجود ہے۔لیکن وزیراعظم شاید ابھی تک کنٹینر کے اوپر ہی ہیں۔ انہیں اب اشتعال اور جلد بازی سے نکل کر کچھ کرنا ہوگا۔ خارجہ پالیسی، معیشت، گڈ گورننس، ملک میں سرمایہ کاری، صنعتوں کے قیام اور عوام کو سہولتیں دینے کے لیے سوچ بچار کے بعد کام شروع کرنا ہوں گے۔
ان کے جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے ، بلوچستان اور کراچی کی ترقی، پولیس، صحت، ٹرانسپورٹ میں بہتری، سرکاری اسکولوں اور اسپتالوں کی اصلاح، صنعتی ترقی، سول سروس، پولیس اور عدالتی نظام میں اصلاحات، کرپشن کے خاتمے اور نیا بلدیاتی نظام لانے کا اعلاناتت خوش آئند ہیں، مگر یہ سب کام ایک دن میں ہونے والے نہیں۔ نظام پہلے ہی تباہی کا شکار ہے، عملہ سست، نااہل اور کام چور ہے۔ اس لیے اگر ڈنڈا پکڑ کر بھی سارے کام فوری شروع کردیے جائیں تو10 سے 20 فیصد بہتری آنے میں بھی کئی سال لگ جائیں گے۔ تو کیا اتنا عرصہ عوام صرف انتظار کرتے رہیں جو فوری تبدیلی چاہتے ہیں۔ اس لیے وزیراعظم جہاں اپنی ان ترجیحات پر تیزی سے فوری کام شروع کریں وہیں کچھ ایسے اقدامات بھی کریں جن کا عوام کو فوری فائدہ پہنچے۔ اس سلسلے میں وزیراعظم کو چند فوری اقدامات کرنا ہوں گے:
-1 اس وقت عوام کی بیشتر شکایات دفتری نظام کی وجہ سے ہیں، جہاں رشوت اور سفارش کے بغیر کوئی جائز کام بھی نہیں ہوسکتا۔ اس لیے فوری طور پر ہر محکمے میں ایک سیل بنایا جائے جو شہریوں کی شکایات اور مسائل پر مبنی درخواستیں وصول کرکے، فوری رسید جاری کرے اور پندرہ دن کے اندر اندر جواب دے۔ اگر سائل اس سے مطمئن ہے تو بہتر، ورنہ وہ دوبارہ وہیں یا اس سے اگلے فورم پر تحریری شکایت لے جائے۔
-2 وزیراعظم خود اپنا ایک شکایت سینٹر بنائیں جہاں آنے والی شکایات پر اُن کا عملہ جوابی رسید جاری کرکے متعلقہ محکمے کو بھجوا دے، جو سائل کے ساتھ ساتھ وزیراعظم کے شکایت سینٹر کو بھی جواب دے۔
-3 مہنگائی ہر ایک کے لیے دردِ سر بنی ہوئی ہے۔ اس کی دیانت داری سے مانیٹرنگ کی جائے تو 25 فیصد مہنگائی کم ہوسکتی ہے ۔ دیگر اقدامات کے ذریعے اسے بآسانی 50 فیصد تک لایا جاسکتا ہے، اس پالیسی کے اثرات فوراً ظاہر ہوں گے۔
-4بالواسطہ ٹیکسوں کا فوری جائزہ لے کر غیر ضروری ٹیکس ختم کردیے جائیں، البتہ براہِ راست ٹیکسوں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔
-5 ہر چھوٹی سے چھوٹی شے کی خریداری پر بھی رسید جاری کرنے کا کلچر شروع کیا جائے، جس سے گراں فروشی کا خاتمہ ہوگا، صارفین شکایت لے کر آگے جاسکیں گے، اور حکومت کو ہزاروں نئے ٹیکس دہندگان مل جائیں گے۔
-6 سرکاری اسکولوں اور اسپتالوں کو فوراً بہتر حالت میں لاکر مزید اسکول اور اسپتال بنائے جائیں، وزرا اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں پڑھانے ، علاج سرکاری اسپتالوں میں کرانے اور ٹرینوں سے سفر کرنے کے پابند ہوں۔ اس سے ان کا معیار بہتر ہوگا اور قوم میں برابری کا احساس پیدا ہوگا۔
-7 پرائیویٹ یونیورسٹیوں، پرائیویٹ اسپتالوں اور لیبارٹریوں کی فیسیں حکومت مقرر کرے اور اُن سے زیادہ شرح سے ٹیکس وصول کرے۔ حکومت وکلا اور ڈاکٹروں کی فیسیں بھی خود مقرر کرے۔
-8 مجرموں کے ساتھ جرم سے صرفِ نظر کرنے والے یا سہولت فراہم کرنے والے اہلکاروں اور افسروں کو بھی عبرت ناک سزائیں دی جائیں۔
-9 تمام غیر ضروری مصنوعات کی درآمد پر مکمل پابندی لگادی جائے۔
-10 حکومت ایسی منافع بخش اسکیمیں شروع کرے جن میں عام آدمی سرمایہ کاری کرسکے۔ اس رقم سے منافع بخش صنعتیں لگائی جائیں اور عوام تک یہ منافع پہنچایا جائے۔
-11 پرائیویٹ رہائشی کالونیوں پر مکمل پابندی لگائی جائے، صرف حکومتی ادارے رہائشی کالونیاں ضرورت کے مطابق بنائیں اور اُن نیں کم منافع اور آسان اقساط پر شہریوں کو فراہم کرے۔
-12 حکومت محکمہ ڈاک کو فعال کرے۔ تمام سرکاری دفاتر اپنی ڈاک صرف محکمہ ڈاک کے ذریعے بھیجنے کے پابند ہوں۔
13۔حکومت دس ارب درخت ضرور لگائے لیکن یہ درخت پھلدار اور کارآمد لکڑی دینے والے ہوں تاکہ ملک میں پھلوں کی برآمدد اور فرنیچر کی صنعت آگے بڑھ سکے۔
-14 پورے ملک میں یکسا ں نصاب تعلیم رائج کرکے اردو کو تعلیمی، عدالتی اور سرکاری زبان بنا دیا جائے۔
-15سب سے اہم کام یہ ہے کہ عمران خان اپنی پارٹی کو ایک جمہوری اور عوامی پارٹی بنائیں جو عوام کی خدمت اور وزرا کااحتساب کرے، نیز بلدیاتی اداروں کو بااختیار کرکے اپنا بوجھ کچھ کم کریں۔

مزیدخبریں