وطن کی ہوائیں تجھے سلام کہتی ہیں

06 ستمبر 2018

اسماء طارق


دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک ماں کے دو بیٹے شہید ہو جاتے ہیں جب ماں کو خراج تحسین کے لیے بلایا جاتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے کہ ہم آپ کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں تو ماں کہتی ہے کہ اگر میرے دس بیٹے بھی ہوتے تو میں انہیں بھی وطن پر قربان کر دیتی، بیوی کہتی ہیں مجھے ان کی شہادت پر فخر ہے، بیٹی کہتی ابو میرا غرور ہیں اور بیٹا کہتا ہے میں بھی ابو کی طرح وطن پر جان قربان کروں گا ۔۔۔۔جہاں ایسی مائیں ،بیویاں بیٹیاں اور بیٹے ہوں ، ایسے خاندان ہوں وہاں ملک پر کوئی میلی آنکھ کیسے رکھ سکتا ہے اور اس کو کوئی نقصان کیسے پہچا جاسکتا ہے۔ جہاں ایسا حوصلہ ،ایسا جذبہ ہو وہاں ملک کی طرف اٹھنے والے غیر مسلح ہاتھ کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں ۔


6 ستمبر 1965کا تاریخی دن بھی ایسی بے دریغ قربانیوں اور حوصلوں سے بھرپور ہے، جب دشمن نے ہماری قومی سلامتی پر حملہ کیا اور ہمیں نیست و نابود کرنے کی ناکام کوشش کی ۔ اور یہ دن سنہرے حروف کے ساتھ قلمبند کیا جاتا ہے جو اس کامیابی کا نتیجہ ہے جو اس دن حاصل کی گئی ،آزادی کے بعد جہاں پاکستان کو مختلف چلنجز کا سامنا تھا وہیں دفاع کا مسئلہ بھی درپیش تھا کیونکہ دشمن کو پاکستان کا وجود کسی صورت گوارا نہیں تھا وہ ہر صورت اسے ہندوستان کا حصہ بنانا چاہتا تھا مگر پاکستان کو اپنے وجود کو برقرار رکھنا تھا جہاں یہ بہت مشکل تھا وہاں پاکستانی قوم نے حوصلے اور بھرپور جذبے کے ساتھ ان حالات کا سامنا کیا اور کامیابی حاصل کی ۔کوئی بھی قوم اپنے دفاع سے غافل نہیں رہ سکتی۔ دفاع جتنا مضبوط ہو قوم بھی اتنی ہی شاندار اور مضبوط ہوتی ہے۔ 6ستمبر 1965 کی جنگ پاکستانی قوم کیلئے ایک پر وقار اور لازوال استقلال کا استعارہ ہے ، 1965کی جنگ میں پاک فوج نے ملک کی سرحدوں کا دفاع باوقار انداز میں موثر بناتے ہوئے دنیا کو یہ باور کرا دیا کہ ہم ایک زندہ قوم ہیں اور اس مقصد کیلئے بےدریغ جان و مال کے نذرانے پیش کیے اور آج جب پاکستان کو دہشت گردوں کے خلاف جنگ کا سامنا ہے تو بھی افواج پاکستان کے جانباز جان کے نذرانے پیش کر رہے ہیں۔ 6 ستمبر کا دن وطن عزیز کے دفاع کیلئے عظیم قربانیوں کی یاد دلاتا ہے۔ قوموں کی زندگی میں کچھ دن انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں جن کے باعث ان کا تشخص ایک غیور اور جرات مند قوم کا ہوتا ہے۔


پاکستانی فوج پاکستان کا دیاں بازو ہے جو ملکی سلامتی کے لیے نہایت اہمیت کی حامل ہے جس کے جوانوں نے نہ صرف ملکی سلامتی کی خفاظت کی کوششیں کی ہیں بلکے اس کے لیے ہر طرح کی قربانیاں دی ہیں اور یہ فوج ہی ہے جس کی وجہ سے ہم اپنے گھروں میں چین کی نیند سوتے ہیں اور ہمارے جوان باڈر پر ہماری خفاظت کررہے ہوتے ہیں ۔ پاکستانیوں کو اپنی فوج سے بےحد پیار ہے اور انہیں ان کی قربانیوں کا بھی احساس ہے ۔
ہر پاکستانی طے دل سے افواج پاکستان کا شکر گزار ہے جو پاکستان کی اور ہماری خفاظت کے لیے جان کی بازی لگانے سے بھی دریغ نہیں کرتے اور اس دشت گردی کے دور میں جہاں اس قدر دہشت کا سما تھا ،فوج نے جس بہادری اور ہمت سے ان حالات کو چلنج کیا اور دہشت گردوں کا مقابلہ جس جذبے سے کیا اسی کی وجہ سے آج ہم امن و امان سے ہیں اور جس قدر فوج کے جوانوں نے قربانیاں دی ہیں جو قابل فخر ہیں جس پر یہ کہنے کو جی چاہتا ہے کہ وطن کی ہوائیں تجھے سلام کہتی ہیں ۔سب سے بڑ ھ کر اس سال افواج پاکستان نے جس جذبے اور مش کے تحت شہداء پاکستان کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے عقیدت کا نظرانہ پیش کرنے کا اعلان کیا ہے وہ قابل تحسین ہے کیونکہ یہ شہداء کا خون ہی ہے جس سے یہ ملک سلامت ہے ،یہ قوم سلامت ہے انہی شہداء کی وجہ سے جنہوں نے اپنی جان ،اپنا گھر بار سب کچھ خدا کے آسرے چھوڑ کر وطن کی حفاظت کو مقدم رکھا اور سب کچھ وطن کی نظر کر دیا ۔یہ وطن سلامت ہے تو ہم ہیں اسی سے ہماری آن ہے اور یہی ہماری شان ہے اور یہ پہچان ان ساتھیوں کی قربانیوں کا نتیجہ ہے اور زندہ قومیں اپنے محسنوں کو کبھی فراموش نہیں کرتیں اور انہیں ہمیشہ نہ صرف دلوں میں بلکے تاریخ کے ہر باب میں زندہ رکھتی ہیں اور ان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہیں ۔


پاکستان کے لوگ بہت وطن پرست ہیں جنہوں نے ہر مشکل حکومت اور افواج کے ساتھ مل کر پاکستان کی خاطر اپنی تمام توانائیاں کو بروئے کار لاتے ہوئے تمام تر کوششیں کیں اور ایسا ہی نظارہ ہم نے 6 ستمبر کے تاریخی دن بھی دیکھا تھا ۔


آج کا دن تجدید عہد کا دن ہے جہاں وطن عزیز کے ہر فرد کو یہ عہد کرنا ہے کہ وہ وطن عزیز کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کو زندگی کی سب سے پہلی اور بڑی ترجیح بنا کر اس شعور کو اگلی نسلوں تک پہنچا ئیں گے اور وطن کی سلامتی اور ترقی کے لیے تمام تر کوششوں کو بروئے کار لائیں گے اور اس کی بہتری کیلئے تمام تر نظریاتی تفرقات کو پس پشت ڈال کر کام کریں گے ۔


(ادارے کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں )
ؑ

مزیدخبریں