میڈیا اور وزیراعظم !
06 ستمبر 2018 2018-09-06

وزیراعظم عمران خان تسلیم کریں نہ کریں، یہ حقیقت ہے اپنی زندگی کی سب سے بڑی خواہش کے مطابق جس مقام پر آج وہ پہنچے ہیں، وہ اگر سمجھتے ہیں اس میں سارا کردار صرف ان کا ہے جن کا کسی کو الیکشن جتوانے یا ہروانے میں ہمیشہ ہوتا ہے، یہ ان کی غلط فہمی ہے۔ کچھ قوتیں کسی حدتک ہی کوئی کردار ادا کرسکتی ہیں ، اصل کردار عوام کا ہے، اور عوام نے بڑی تعداد میں انہیں وِوٹ دیئے ہیں تو اس میں سب سے مو¿ثر کردار اس میڈیا کا ہے جس سے ابتداءمیں ہی وہ کچھ ناراض ناراض دکھائی دینے لگے ہیں، میڈیا میں ہزار خرابیاں ہوں گی۔ میڈیا کو اپنی اصلاح بھی کرنی چاہیے، کسی اور میں اگر میڈیا کا احتساب کرنے کی ہمت یا جرا¿ت نہیں تو خود احتسابی کا عمل اپنا کرہی دنیا کو یہ پیغام دیا جاسکتا ہے جہاں بہت سے ادارے اپنی اصلاح کی جانب گامزن ہیں، میڈیا بھی پیچھے نہیں رہا۔ لیکن یہ کہنا یاسمجھنا ہرگز درست نہیں کہ سارے فسادوں کی اصل جڑ میڈیا ہے۔....گزشتہ ہفتے وزیراعظم عمران خان نے مختلف اینکرز کے ساتھ وزیراعظم بننے کے بعد اپنی پہلی باقاعدہ ملاقات میں کوئی خوشگوار تاثر نہیں چھوڑا۔ جو اینکرز ملاقات میں موجود تھے، ان میں سے ایک دو سے میری بات ہوئی، ان کا کہنا تھا ”ملاقات میں وزیراعظم کا موڈ زیادہ اچھا نہیں تھا، اس موقع پر کوئی گرمجوشی انہوں نے نہیں دکھائی۔ اخلاقیات کا تقاضا یہ تھا وہ سب اینکرز سے کم ازکم ہاتھ ضرور ملاتے۔ اس میں زیادہ سے زیادہ ان کے دو تین منٹ ہی خرچ ہوتے، مگر انہوں نے اللہ جانے کیوں اس سے گریز کیا۔ میرے خیال میں اس ملاقات میں انہیں اینکرز کے بعض انتہائی چبھتے ہوئے سوالات کا سامنا شاید اسی لیے کرنا پڑا کہ انہوں نے اہل صحافت کو اس طرح محبت کے ساتھ خوش آمدید نہیں کہا جس طرح وہ سوچ کر آئے تھے یا جس طرح ان کا حق بنتا تھا۔ مہمانوں کی خاطرمدارت اپنی سادگی پالیسی کے مطابق چاہے وہ سادہ چائے اور ٹک بسکٹ سے ہی کریں، مگر رویہ ایسا نہیں ہونا چاہیے جو مہمانوں کے لیے کچھ زیادہ ہی تکلیف دہ ہو، بلکہ اب وہ وزیراعظم بن گئے ہیں تو اپنی سادگی پالیسی یا کم خرچے کی پالیسی کو مزید فروغ دیتے ہوئے وہ یہ پابندی بھی عائد کردیں وہ خود بھی جہاں مہمان بن کر جائیں گے کسی قسم کا دیسی مرغا وغیرہ وہاں نہیں ہوگا، ان کی خاطر مدارت بھی سادہ چائے اور بسکٹ وغیرہ سے ہی کی جائے گی۔ مانا انہیں وزیراعظم بننے کے بعد بے شمار مسائل کا سامنا ہے۔ مگر چھ ماہ پہلے انہیں یہ احساس دلانے کی پوری کوشش شروع ہوگئی تھی کہ انتخابات کے نتیجے میں انہی کی حکومت بنے گی۔ وہ شاید اس حقیقت کو دل سے تسلیم نہیں کرسکے تھے۔ ممکن ہے ان کا خیال ہو جس طرح پہلے ایک دوبار انہیں استعمال کرکے پھینک دیا گیا ہے، اس بار بھی کہیں ایسے ہی انہیں استعمال کرکے پھینک نہ دیا جائے۔ چنانچہ انہوں نے کوئی ایسی تیاری نہیں کی جس سے حکومت بنانے کے بعد ابتدائی طورپر انہیں زیادہ مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ جیسا کہ اب کرنا پڑ رہا ہے ، اور اس وجہ سے وہ کچھ اداس اداس ، پریشان پریشان دکھائی دیتے ہیں، جب سے وہ وزیراعظم بنے مسکرانا بھول گئے ہیں۔ ہم دعاگو ہیں مسکراہٹ دوبارہ ان کی زندگی کا حصہ بن جائے ۔....جہاں تک میڈیا کا تعلق ہے میڈیا ان کے کچھ اقدامات پر تنقید کررہا ہے تو انہیں اسے مثبت انداز میں لینا چاہیے ۔ اسے میڈیا کی دشمنی نہیں دوستی سمجھنا چاہیے۔ یہ ”دوستی“ میڈیا ان سے پہلے حکمرانوں سے بھی نبھاتا رہا ہے۔ مگر پہلے حکمران بجائے اس کے اس دوستی سے کچھ سبق سیکھتے، جس قدر ممکن تھا اپنی اصلاح کرتے، اُلٹا یہ سمجھنے لگے میڈیا ان قوتوں کا پارٹنر بن گیا ہے جو اقتدار سے انہیں الگ کرنا چاہتی ہیں، .... عمران خان ابھی اقتدار میں آئے ہی نہیں، فی الحال ان کے لیے آسانیاں ہی آسانیاں ہیں، جی ایچ کیو کے پہلے دورے کی جو تصاویر ان کے سامنے آئی ہیں، یا لائی گئی ہیں ان کے مطابق فی الحال یہی محسوس ہوتا ہے پانچ برسوں تک بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ عرصے کے لیے ان کے اقتدار کو کوئی خطرہ نہیں، اگر یہ احساس وہ خود پر غالب لے آئے ہیں پھر میڈیا سے ڈرنے اور گھبرانے کی ضرورت کیا ہے ؟۔ ویسے میڈیا ان کی کسی پالیسی پر تنقید نہیں کررہا، ظاہر ہے ان کی جو پالیسیاں ملک وقوم کے مفاد میں ہیں میڈیا ان پر کیوں تنقید کرے گا ؟ ایسا کرنے سے خود میڈیا کے حوالے سے لوگوں کے دلوں میں منفی جذبات پیدا ہوں گے جس کا میرے خیال میں میڈیا مزید متحمل نہیں ہوسکتا،.... میڈیا صرف ان واقعات پر تنقید کررہا ہے جو پے درپے ان کے اپنے ہی کچھ ”خیرخواہوں“ کی وجہ
سے ان کے لیے بے عزتی کا باعث بن رہے ہیں۔ ....شیخ رشید سے میڈیا نے تو نہیں کہا تھا گریڈ بیس کے ریلوے افسر کی بھری میٹنگ میں بے عزتی کردیں اور جواباً اپنی بھی کروالیں ؟ ۔....ہمارے محترم وزیر اطلاعات فواد چودھری سے کسی چینل نے تو نہیں کہا تھا وہ بغیر تصدیق کے فرما دیں ہیلی کاپٹر کا کرایہ پچپن روپے فی کلومیٹر ہے ؟ پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان سے کسی اخبار نے تو نہیں کہا تھا کچھ خواتین کے بارے میں بدزبانی کرکے اپنی سیاسی اور اخلاقی تربیت کو ظاہر کریں، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے کسی کرائم رپورٹر نے تو نہیں کہا تھا ایک پرائیویٹ آدمی کو ساتھ بٹھا کر پولیس افسروں پر رعب جمائیں یا ان کی بے عزتی کریں؟۔ خود خان صاحب سے کسی اینکر نے تو نہیں کہا تھا ایسے شخص کو وزیراعلیٰ پنجاب بنائیں جو مختلف حوالوں سے انتہائی کمزور کردار کا مالک ہے؟ پی ٹی آئی کے رکن سندھ اسمبلی عمران شاہ سے کسی کالم نگار نے تو نہیں کہا تھا ایک بے بس عام شہری کو سرعام تھپڑ مارکر انسانیت کی تذلیل کریں؟۔ایک مشکوک کردار کے حامل آئی جی پنجاب کلیم امام کو کیوں بروقت نہیں ہٹایا گیا جس نے نہ صرف اپنی فورس بلکہ پوری حکومت کی ساکھ راکھ میں ملاکر رکھ دی ؟ کیا اس نااہل آئی جی کو اس کے عہدے پر برقرار رکھنے کی سفارش کسی میڈیا ہاﺅس نے کی تھی ؟۔ کیا چکوال سے پی ٹی آئی کے ایک انتہائی بدتمیز رکن قومی اسمبلی سردار ذوالفقار علی خان سے کسی نامہ نگار نے تو نہیں کہا تھا کہ چکوال کے انتظامی معاملات میں ناجائز مداخلت کرکے ڈپٹی کمشنر چکوال صغیر شاہد کو اپنے خلاف خط لکھنے پر مجبور کردے؟ کیا خان صاحب سے کسی سٹاف رپورٹر نے کہا تھا اینکرز کے ساتھ اپنی ملاقات کے دوران فرانس کے صدر کی کال نہ سننے والی بونگی ماریں؟ اور فرض کرلیں فرانس کے صدر کی واقعی کال آئی تھی سننے میں کیا حرج تھا ؟ ان کی میٹنگ کوئی آرمی چیف کے ساتھ تو نہیں ہورہی تھی کہ اس دوران کوئی اور کام کرنے کی وہ جرا¿ت نہ کرتے ؟....اب ان بے وقوفیوں اور بونگیوں پر میڈیا تنقید کررہا ہے تو بجائے اس کے نخرے والی کسی عورت کی طرح وہ روٹھ کر بیٹھ جائیں، اسے خوشدلی سے نہ صرف قبول کرلیں بلکہ خود کو اور اپنی ٹیم کے ارکان کو سمجھائیں کہ مستقبل میں وہ محتاط رہیں۔ میڈیا یہ تو نہیں کہہ رہا کہ وزیراعظم عمران خان ناکام ہوگئے ہیں ؟ یا وہ بدنیت ہیں ؟ یا وہ کچھ کرنا نہیں چاہتے؟۔ وزیراعظم یقین فرمالیں پاک فوج کی طرح پاک میڈیا بھی فی الحال پوری طرح ان کے ساتھ ہے، بس اتنی گزارش ہے کسی پالیسی کے تحت میڈیا کو اشتہارات نہیں دینے نہ دیں .... عزت تو دیں !!


ای پیپر