میٹھی جیل(5)

06 ستمبر 2018

شاہزاد انور فاروقی

وفاقی کابینہ کی حلف برداری کیساتھ ہی حکومت سازی مکمل ہو گئی ہے۔ نو منتخب حکومت کی ترجیحات اور حکمت عملی و طریقہ کار کا جائزہ لیے بغیر ذاتی پسند اور نا پسند کی بنیاد پر رائے قائم کرنا اور لکھنا غیر مناسب ہے لہٰذا حکومت کے پہلے 100 دن امریکا یاترا اور وہاں مقیم پاکستانیوں کی زندگی آپ کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آج پانچویں قسط پیش خدمت ہے۔

ایسی کسی صورتحال سے میرا کبھی واسطہ نہیں پڑا تھا کہ ماضی میں کئی ساتھی سفر میں ہمراہ ہوتے اور وفد کے پروٹوکول اہلکار بھی ،بالاخر وہ لمحہ آگیا جب وہ میرے بالکل روبرو تھا میں نے اس کا بغور جائزہ لیا ۔وہ درمیانے قد کا منڈے سر والا ایک افسر تھا جس کی شخصیت سے خوشگواری چھلک رہی تھی،چہرے مہرے سے ہسپانوی لگ رہاتھا بالکل سامنے آکر اس نے پوچھا ”کین یو سپیک اردو“۔ طمانیت کی لہر میں ڈوبے ہوئے لہجے میں ہامی بھری تو اس نے مجھے ایک امیگریشن کے کاونٹر پر مترجم کے ”مفت “ فرائض انجام دینے کی درخواست کی۔ متعلقہ کھڑکی پر پہنچ کر معلوم ہوا کہ ساہیوال سے تعلق رکھنے والا ایک معمر پنجابی جوڑا ” گلابی اردو/ انگلش “ میں اپنا مافی الضمیربیان کرنے کی کوشش کررہا تھا بلکہ بڑی بی خاموش تھیں اور انکے پنجاب پولیس سے ریٹائرڈ شوہر بات کرنے کی کوشش کررہے تھے ۔ اصل میں ان کے پاس گرین کارڈ تھا اور وہ اپنے بچوں سے ملنے کےلئے امریکا جارہے تھے معاملہ یہ تھا کہ ان کے پاسپورٹ پر ان کے صرف نام درج تھے جبکہ گرین کارڈ پر ان کے نام سے پہلے چوہدری بھی لکھا ہوا تھا جس کی وجہ سے امیگریشن افسر کو الجھن ہورہی تھی کہ نام ایک ہے یا نہیں اور یہ ”چوہدری“ کیا ہے یا کون ہے۔جو افسرمجھے وہاں تک لائے تھے وہ غالبا سپروائزر تھے،اس نے کہا کہ آپ یہاں مدد کریں اس کے بعد آپ کی امیگریشن بھی یہی افسر کردیں گے۔دس پندرہ منٹ کی گفتگو کے بعد بھی متعلقہ افسر مطمئن نظر نہیں آیا اور محسوس ہوا کہ وہ اس جوڑے کو امریکا جانے کی اجازت نہیں دینا چاہتا تھا صاف طور پر وہ ”چوہدری“ کے رعب میں آنے کو تیار نہیں تھا کیونکہ یہاں چوہدری وہ خود تھا،لیکن کسی ضابطے کے باعث صاف جواب بھی نہیں دے سکتا تھا ۔ ان کے سامان میں کچھ زیورات تھے جسے چوہدری صاحب گولڈ بتا رہے تھے جس پر ایک مرتبہ پھر امیگریشن افسر نے چونک کر ان کی جانب دیکھا، جس پر میں نے وضاحت کی کہ یہ زیورات ہیں جو ہماری خواتین پہنا کرتیں ہیں اور یہ کوئی باقاعدہ سونا لے کر نہیں جارہے ،جب بات نے طول پکڑا تو سپروائزر ایک مرتبہ پھر وہاں آموجود ہوا جسے پوری تفصیل سے چوہدری اور سونے کے زیورات کا معاملہ سمجھایا اس دوران امیگریشن افسر نے ایک اور اعتراض بھی سامنے رکھا کہ ان کے سامان میں چالیس سگریٹ کے پیکٹ بھی موجود ہیں ۔سپروائزر نے پوری بات سننے کے بعد فیصلہ سنایا کہ اس جوڑے کو گرین کارڈ پر درج نام کے مطابق انٹری دے دی جائے اور سگریٹ کے پیکٹ دونوں میاں بیوی کے سامان پر تقسیم کیے جائیں کیونکہ قانونی طور پر ایک مسافر صرف بیس پیکٹ ہی اپنے سامان میں لیجا سکتا ہے،ساتھ ہی ساتھ اس نے مجھے کہا کہ ان دونوں کو بتا دیں کہ یہ اپنے کاغذات میں درستی لائیں یا تو دونوں میں چوہدری لکھوائیں یا بالکل چوہدری بننے سے تائب ہوجائیں مزید یہ کہ ان کاامریکا میں قیام سال میں بہت کم مدت کے لئے ہوتا ہے جبکہ گرین کارڈ کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے وقت کا زیادہ حصہ امریکا میں گزاریں اگر یہ اپنے قیام کو امریکا میں نہیں بڑھاتے تو ان کا گرین کارڈ ختم کردیا جائےگا کیونکہ اگر یہ صرف اپنے بچوں سے ملاقات کے لئے آنا چاہتے ہیں تو انہیں دوسرا ویزا آسانی سے دیا جاسکتا ہے۔سپروائزر کی رائے نے بالاخر اس جوڑے کی مشکل آسان کی اور اس کے بعد میری باری بھی آگئی۔امیگریشن افسرکو معمر جوڑے کی مدد میں میرے اضافی جملے شاید پسند نہیں آئے تھے ،تیکھے اور تابڑتوڑ سوالات کے بعد اس نے اپنے کمپیوٹر کے مانیٹر کا رخ میری جانب موڑتے ہوئے پوچھا کہ کیا یہ سامان آپکا ہے؟ نظریں اٹھاکر دیکھا تو جہاز کے اندرکارگو کے حصے میں موجوداپنا سامان پہچان لیا۔ جس کے بعد مجھے انتظار کرنے کے لئے کہا گیا اگلی منزل پھر وہی انتظار گاہ تھی جہاں سے اٹھ کر وہاں پہنچا تھا۔ بھانت بھانت کے لوگ وہاں آتے اور امیگریشن کے مراحل طے کرکے جارہے تھے ، اس دوران ایک صاحب اپنی بیوی کو وہیل چیئرپر لے کر آئے یہ نوجوان پاکستانی جوڑا تھا جن کے ساتھ ایک شیر خوار بچہ بھی تھا جسے ایک تابع مہمل قسم کا خالص پاکستانی شوہر سنبھال رہا تھا اب بچہ سنبھالنے کے ساتھ ساتھ بیوی کی وہیل چیئر بھی دھکیل رہا تھا ۔یہ نوجوان جوڑا ترجیحی بنیادوں پر امیگریشن کاونٹر پر پہنچایا گیا اور بڑی آسانی سے گذر بھی گیا، جوانی میں اس بچی کو وہیل چیئر پر دیکھ کر میرے دل میں رحم اور ترس کا ایک بحربیکراں رواں ہو گیا تھا۔اسی طرح ایک نوجوان نے اپنے معمر والدکے ساتھ بھی وہیل چیئر کے ساتھ امیگریشن کے مراحل طے کیے۔ دو گھنٹے گذر چکے تھے میری فلائٹ میں اب صرف آدھ گھنٹہ رہ گیا تھا ،اٹھ کر ادھر ادھر نظریں دوڑائیں اور امیگریشن کے افسران کو اپنی موجودگی کا احساس دلایا مگر بے سود ، اتنے میں اس عملے کا وہی سر منڈا سپروائزر وہاںنظر آیا لپک کر اس کے پاس پہنچا اور بڑے گلوگیر لہجے میں
فلائٹ مس ہونے کے اندیشے کا ذکر کیا ، اس نے تسلی دی اور مجھے انتظار کرنے کا کہا ،کچھ منٹوں کے بعد وہ واپس آیا اور بتایا کہ آپ کا نام کسی اور نام کے ساتھ مل رہا کلیرنس کے لئے ارجنٹ ای میل دوبارہ کردی ہے بس جواب آتا ہی ہو گا۔وہ وقت جو پہلے کاٹے نہیں کٹ رہا تھا اب گویا پر لگاکر اڑ رہا تھا ، ہر دو چار منٹ کے بعد امید بھری نظروں سے کاونٹرز کی جانب دیکھتا اور پھر کسی کی آنکھ میں مروت نہ پاکر سر جھکا لیتا ۔ فلائٹ کے وقت سے پانچ منٹ پہلے ایک مرتبہ پھر دیکھا تقریبا تمام کاونٹر بند ہوچکے تھے ایک افسر جو جہاز کو جانے والی راہداری کے سامنے کھڑا تھا کے پاس جاکر اپنا رونا رویا، اس نے زبردست طریقے سے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بات نہیں اگر یہ فلائٹ مس ہوگئی تو یہاں سے اور بہت سی فلائٹس جاتی ہیں کسی اور سے چلے جانا۔بوجھل قدموں سے واپس آکر بیٹھ گیا کہ فلائٹ کا وقت نکل چکا تھا ، مختلف قسم کے خیالات دماغ میں آرہے تھے مثلاً یہ کہ گھر والے سمجھ رہے ہوں گے کہ امریکا کی فلائٹ میں ہوں ، ناصر قیوم اور ندیم ہوتیانہ مقررہ وقت پر ائر پورٹ سے لینے کی تیاری کرچکے ہوں گے اوریہاں ابوظہبی ائرپورٹ پر بیٹھے پانچ گھنٹے بیت گئے تھے کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا کہ اب کیا ہوگا،بورڈنگ کارڈ کے مطابق جہاز کو روانہ ہوئے ایک گھنٹہ ہوگیا تھا۔ (جاری ہے)

مزیدخبریں