حکومت اپوزیشن نہیں ہوتی
06 اکتوبر 2020 (14:32) 2020-10-06

 مولانا فضل الرحما ن پاکستان ڈیموکریٹک کے سربراہ مقرر ہوئے تو نوابزادہ نصراللہ خان بہت یاد آئے۔ان کی عدم موجودگی میں اپوزیشن جماعتوں کا جو اتحاد بنا ہے اگر وہ ہوتے تو یہ کام بہت پہلے ہو جاتا۔۔نواب صاحب کی زندگی کا آخری اتحاد اے آر ڈی تھا جس کو بنانے میں نواب زادہ نصراللہ سے زیادہ کلثوم نواز کی کوششیں شامل تھیں۔ کلثوم نواز اس اتحاد میں شامل ہو گئی تھی جو گرینڈ ڈیمو کریٹک اتحاد تھا جس کو مشرف کی آشیر باد حاصل تھی۔کلثوم کے شامل ہونے سے عمران خان اور حامد ناصر چٹھہ کو اس سے نکلنا پڑا تھا پھر اے آر ڈی بنا تھا۔ آج کل کارگل المیے کا بڑا ذکر ہورہا ہے۔12اکتوبر 1999 کو نواز شریف کے خلاف جو انقلاب برپا کیا گیا تھا۔اس کی ساری کہانی جنرل(ر) گلزار جمشید کیانی نے اپنی زندگی میں بتا دی تھی۔ جنرل شاہد عزیز نے اپنی یاد داشتوں پر مشتمل کتاب "یہ خاموشی کب تک " لکھی اس میں ساری کہانی موجود ہے خواہ وہ کارگل ہو یا مشرف کی مہم جوئی۔ نواز شریف جنرل ضیا الحق کا لگایا ہوا پودا ضرور تھا۔ ان کی ترقی اور نوک پلک سنوارنے میں اس وقت کے جنرل گل حمید نے بڑی محنت کی۔ بریگیڈیئر امتیازجونظیر بھٹو کو اس زمانے میں سکیورٹی رسک سمجھتے تھے مگر 2009میں وہ اس سے ہٹ کر کچھ اور بیان کرنے لگے تھے۔اسلامی جمہوری اتحاد بنانے کا سارا سہرا جنرل حمید گل کے سر تھا۔ جس کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں تھا کہ بے نظیر بھٹو کو" دو تہائی اکثریت سے روکا جائے۔ پھر اس اتحاد کی نوک پلک اور سنواری گئی تو پاکستان عوامی اتحاد جو محمد خان جونیجو، اصغر خان اور مولانا شاہ احمد نورانی نے مل کر بنایا تھا۔اس کے پر کاٹنے کے لیے جونیجو کو آئی جے آئی کیساتھ ملایا گیا۔ منصوبہ کامیاب ہوا1988کے انتخاب میں بے نظیر بھٹو سنگل لارجسٹ پارٹی بھی نہ بن سکی۔ الیکشن کے نتیجے کے بعد تو بے نظیر بھٹو کی سیاسی قسمت ضیا الحق کے جانشینوں کے ہاتھوں میں تھی۔ 1973کی کتاب کے مطابق فیصلے کسی اور طرف سے ہونے لگے تو وزیر اعظم بننے کے لیے بے نظیر بھٹو کو سب کچھ ماننا پڑا۔ صدر بنانے کا وعدہ نصراللہ خان سے ہوا تھا مگر ضیا کے مشن کو پورا کرنے کا دعویٰ کرنے والے غلام اسحاق پیپلز پارٹی کے ووٹوں سے صدر پاکستان کی گدی پر شان وشوکت سے بیٹھ گئے ان کے پاس ضیا الحق کی ساری طاقت تھی۔ ضیا الحق کی موت قدرت کا کھیل تھا مگر اس کے پیچھے جو ڈرامہ کمال کا تھا۔ بے نظیر بھٹو ایک معاہدے کے تحت ہی پاکستان کی سیاست میں متحرک تھی۔اس نے بھٹو کی وراثت اور سیاست کا حق ادا بھی کیا۔10 اپریل 1986 لاہور ہی نہیں پورے ملک میں پاور شو کیا تھا۔پھر ضیا الحق بے نظیر بھٹو کے واپس آنے کے باوجود انہیں ”سپیس“ دینے کے لیے تیار نہیں تھے۔ضیا الحق کا طیارہ کریش ہوا اس کے پیچھے کون تھا۔ اشارے تو 32سال سے ہورہے ہیں مگر المناک سانحے پر پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اور نہ امریکہ کی ایف بی آئی نے اس حادثے کی پرتیں کھولنے میں دلچسپی لی مگر جب ایکٹنگ صدر پاکستان اور سینیٹ کے سربراہ غلام اسحاق خان نے ضیا الحق کی دی ہوئی تاریخ پر انتخاب کرانے کا اعلان کیا۔ کہانی کا اہم موڑتو یہ تھا کہ جس کو دیکھو بے بس بن جاتا ہے۔ جب تک ضیا الحق زندہ رہے تو مرحوم حاجی سیف اللہ کی اس رٹ پٹیشن پر فیصلہ نہ ہو سکا کہ ضیا الحق نے محمد خان جونیجو کی حکومت کو غیر قانونی طریقے سے ہٹایا 

تھا۔ اب لاہور ہائی کورٹ نے بھی یہ حکم جاری کر دیا کہ ضیا الحق کا اسمبلیاں توڑنے کا حکم غیر قانونی تھا۔ اس حکم سے اسمبلیاں بحال ہوتے ہی اس وقت کے سپیکر قومی اسمبلی حامد ناصر چٹھہ نے اسمبلی کا اجلاس اور محمد خان جونیجو نے مسلم لیگ کا اجلاس بلا لیا۔ حکومت اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے الیکشن مقررہ وقت پر کرانے کا حکم نامہ لے آئی۔ بے نظیر بھٹو دوسری بار وزیر اعظم تھیں 1994 میں سابق آرمی چیف مرزا اسلم بیگ نے ٹھہرے پانیوں میں پتھر پھینکتے ہوئے انکشاف کیا کہ انہوں نے وسیم سجاد کو یہ پیغام دے کر سپریم کورٹ بھیجا تھا کہ ہم الیکشن کرا رہے ہیں اسمبلیوں کی بحالی کا فیصلہ انتخابات کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہونا چاہیے۔ ایسا ہو بھی گیا تھا مگر جب انکشاف ہو تو مرزا اسلم بیگ کو وارننگ دے کر چھوڑ دیا گیا تھا۔ وزیر اعظم صاحب اور نواز شریف کے بیانیے کے درمیان اداروں کی جو کچھ کہا اور بولا جا رہا ہے اس سے عوام مخمصے سے دو چار ہیں۔ اکتوبر کا مہینہ شروع ہوتے ہی انکشاف کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے اب یہ رکنے والا نہیں ہے۔ ہماری فوج کسی جماعت کی فوج نہیں ہے۔ یہ پاکستان کی محافظ ہے۔مگر معاملہ اس وقت الجھتا ہے جب کچھ چوٹی کے افسر من مانی کرتے ہیں، سیدھا سیاست کارخ کر لیتے ہیں، حکومتوں کو الٹنے اور بنانے کا کام اب بھی جاری ہے۔۔ وزیراعظم کا یہ کہنا کہ ہمارے سپہ سالار نے اپوزیشن جماعتوں سے جس ایجنڈے پر بات کی تھی وہ میری مرضی تھی۔ کیا 1973 کا آئین اس کی اجازت دیتا ہے۔ بانی پاکستان نے اپنی زندگی میں سرکاری افسروں کے درمیان ایک حد مقرر کر دی تھی۔ یہاں تو سکیورٹی کونسل کا مشورہ دینے والے افسر سے نواز شریف نے استعفیٰ طلب کر لیا تھا۔ جب مشرف سے اختلافات کا سلسلہ شروع ہوا جن میں کارگل کا ا یشو بھی شامل تھا کو نواز شریف نے ان کہ جگہ نیا آرمی چیف بھی لگا دیا تھا۔ یہ فیصلہ چند گھنٹے ہی زندہ رہ سکا اس کے بعد ایک انقلاب نواز شریف کی حکومت کو لے ڈو با۔وزیر اعظم ہاؤس میں نواز شریف کے ساتھ جس سلوک سے استعفیٰ مانگا گیانواز شریف نے کہا جو مرضی کرلیں میں یہ کام نہیں کروں گا۔ سچ تو یہ بھی ہے کہ ضیا الحق نے بھٹو کے "کو" کے بعد اور وقت کے چیف جسٹس یقوب علی خان سے ملاقات کی کہ ہم تو عبوری حکومت کے لیے ہیں انتخاب کرانا ہماری بنیادی ذمہ داری ہے۔ ہم کو آپ کی رہنمائی کی ضرورت ہے۔چیف جسٹس کا جواب تو دستور کی بالادستی کا تھا۔ جب بھٹو کو گرفتار کیا تو نصرت بھٹو نے عدالت عظمیٰ کے دروازے پر دستک دی اور حبس بے جا کی رٹ جمع کرا دی۔ رٹ کے بعد عدالت عظمیٰ کا پہلا حکم یہ تھا بھٹو اور ان کے ساتھی جس جگہ بھی ہیں ان کو ان کو قریبی جگہ پر رکھا جائے۔ ضیا الحق نے دستور کی یہ ترمیم ہی ختم کر دی جس کے تحت چیف جسٹس کی عمر 65 سال کی گئی تھی۔ مارشل لا کے تحت ہونے والی اس ترمیم کے تحت چیف جسٹس یعقوب علی خان ملازمت سے برخواست ہو گئے۔ایسا ہی ہوا تھا مشرف دور میں چیف جسٹس صدیقی کے ساتھ۔ خود مشرف نے چیف جسٹس سے کہا تھا کہ آپ اپنے طریقہ کار کے مطابق اور 1973 کے دستور کے مطابق فیصلے کرتے رہیں۔ جب ظفر علی شاہ اور دوسری پٹیشنز نواز شریف کی حکومت کو غیرآئینی طریقے سے ہٹانے پر عدالت عظمی نے منظور کیں تو اس وقت کے وزیر داخلہ سمیت مشرف کے ساتھی جسٹس صدیقی کے پاس یہ آپشن لے کر پہنچے کہ ججز سے نیا حلف لینے کا فیصلہ کیا ہے۔۔ اب جسٹس ارشاد صاحب نواز شریف کی حکومت کے خاتمے پر اپنے کردار کے حوالے سے فخر کرتے ہیں۔ جس نے مشرف کا حلف اٹھایا ہو وہ نواز شریف یا حکومت کے خلاف فیصلہ دے سکتا تھا۔ سوال یہ ہے اب وزیر اعظم کو نواز شریف کی جس تقریر پر اتنا شدید رد عمل دینا پڑا ہے۔ اس کے سوال ہی ایسے تھے کہ حکومت اب کرے تو کیا کرے۔ پارٹی کی مجلس عاملہ سے خطاب میں نواز شریف نے اگست 2014کی رات کا ذکر کیا تھا جب دھرنے والے لاہور سے کرینیں اور ڈنڈے لے کر ڈی چوک پہنچے تھے اور نواز شریف سے استعفیٰ کا مطالبہ ایک انٹیلی جنس ادارے کا سربراہ کر رہا تھا۔ اگر کوئی سیاست میں مداخلت نہیں کر رہا تو غفور حیدری کو ساری کہانی کیوں بتانا پڑی تھی۔نواز شریف نے سب سے اہم بات یہ کہی ہے کہ2018کے انتخاب میں دھاندلی کو قدرت کا فیصلہ سمجھ کر قبول نہیں کر سکتے۔۔عمران خان کی طرف سے ردعمل بھی سخت ہے۔انہوں نے کہہ دیا ہے کس کی جرأت ہے مجھ سے استعفیٰ مانگے۔ اس کے بعد ترجمانوں کی طرف سے انڈیا کے حوالے سے نواز شریف کی کردار کشی کی جا رہی ہے۔ ردعمل میں ہم کیا کچھ کھو رہے ہیں۔ اداروں کو اس کی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ اب حکومت کے خلاف بننے والے اتحاد کی سربراہی مولانا فضل الرحمان کے ہاتھ ہے۔ اگر اپوزیشن اس تحریک کو عوامی بنانے میں کامیاب ہو گئی تو پھر بھی سیاست دانوں کو سنبھلنے کی ضرورت ہے۔


ای پیپر