تنگ آمد، بجنگ آمد ……!
06 اکتوبر 2020 (14:29) 2020-10-06

پچھلے کالم میں مسلم لیگ ن کے تاحیات قائد میاں محمد نواز شریف کی اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس میں کی جانے والی تقریر میں ریاست کے اندر ریاست یا ماورا ریاست کے بیان کے حوالے سے اظہار خیال کیا جا چکا ہے۔ اب میاں صاحب کے تقریر کے انتہائی اہم نکتے کہ ہمارا مقابلہ عمران خان سے نہیں، عمران خان کو لانے والی قوتوں سے ہے کے بارے میں " ڈرتے ڈرتے" اظہار خیال کی جسارت کی جا رہی ہے۔ ڈرتے ڈرتے اس لیے کہ دل کی بات پوری طرح سامنے لاتے ہیں تو میاں صاحب محترم کے معتقدین اور متوسلین کی ناپسندیدگی کا جہاں خدشہ ہے وہاں فریق ثانی جسے میاں محمد نواز شریف دعوت مبارزت دے رہے ہیں کی خفگی کا خطرہ بھی ہو سکتا ہے۔ تاہم فریق ثانی کی خفگی کے خطرے کے حوالے سے یہ پہلو اطمینان بخش ہے کہ فریق ثانی تک میری طرح کے کسی غیر معروف شخص کی بات یا خیالات پہنچتے ہی کہاں ہیں یا وہ ان کے لیے قابل توجہ ہی کہاں ہوتے ہیں کہ کوئی خفگی کا پہلو سامنے آئے۔ فرض محال اگر ایسا ہوتا بھی ہے تو ہم نے کونسی "خفیہ ملاقاتیں " کر رکھی ہیں کہ جن کے افشا سے ہم پر آسمان ٹوٹ پڑنے کا امکان ہو لہٰذا جو بھی بات دل کو صحیح لگتی ہے وہ ضرور کی جانے چاہیے۔ابتدا اس سے کرتے ہیں کہ کیا میاں محمد نواز شریف کے عمران خان کو لانے والی قوتوں سے مقابلہ کرنے کے اعلان کو ان قوتوں کے خلاف میاں صاحب کے اعلان جنگ سے تعبیر کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟اور کیا اسے ان قوتوں کو میاں صاحب کی طرف سے دعوت مبارزت دینے کا نام دیا جا سکتا ہے؟ میں اعلان جنگ یا دعوت مبارزت کے الفاظ شاید استعمال نہ کرتا اگر دلائل و براہین سے آراستہ خوب صورت نثر لکھنے والے میرے لیے انتہائی محترم معروف کالم نگار  اور دانش ور جناب خورشید ندیم (جو میاں محمد نواز شریف کیمپ کے ہراول دستے کے قلمکار سمجھے جاتے ہیں) اپنے ایک حالیہ کالم میں یہ جملے نہ لکھتے۔ "فریقین اصل صورت میں سامنے آگئے، میدان سج گیا۔ سب کی حکمت عملی واضح ہو گئی۔ صف بند ی ہو چکی، لشکریوں نے مورچے سنبھال لیے، یہ بھی معلوم ہو گیا کہ کس کے ترکش میں کیا ہے۔" میدان سجنا، حکمت عملی، صف بندی، لشکریوں، مورچے اور ترکش وغیرہ جیسے الفاظ و مرکبات کیا اعلان جنگ یا دعوت مبارزت کی طرف اشارہ نہیں کرتے ہے؟ یقینا ایسا ہی ہے۔ تو پھر یہ طے ہوگیا کہ میاں صاحب کا عمران خان کو لانے والی قوتوں سے مقابلے کا اعلان ایک طرح کا اعلان جنگ یا دعوت مبارزت ہی ہے۔ دیکھنا ہوگا کہ میاں صاحب اس اعلان پر کیوں مجبور ہوئے اور وہ قوتیں کونسی ہیں جنہیں میاں صاحب دعوت مبارزت دے رہے ہیں یا ان کے خلاف مقابلے کا اعلان کر رہے ہیں۔

میرے خیال میں اس میں کوئی ابہام نہیں کہ میاں صاحب جن قوتوں سے نبرد آزما ہونا چاہتے ہیں ان کی طرف میاں صاحب کا اشارہ بڑا واضح ہے۔ اپنے پچھلے دور حکومت کے ابتدائی برسوں میں کسی حد 

تک ڈھکے چھپے انداز میں اور سپریم کورٹ کی طرف سے نااہل قرار دے کر حکومت سے اتارے جانے کے بعد کھلے انداز میں اور اپنی حالیہ تقاریر میں بہت ہی واضح، نمایاں اور انتہائی کھلے انداز میں میاں صاحب  ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو جسے ملک کے دائمی اور مقتدر ریاستی ادارے کی حیثیت حاصل ہے عمران خان کو لانے اور اس کی پشت پناہی کرنے کا ذمہ دار ہی نہیں قرار دے رہے ہیں بلکہ خود کو درپیش مشکلات کے پیچھے بھی اسی کا ہاتھ سمجھتے ہیں۔ ان قوتوں یا بڑی قوت کی نشان دہی کے بعد سوال یہ اُٹھتا ہے کہ میاں صاحب کو کیا اس قوت یعنی ملٹر ی اسٹیبلشمنٹ جو دائمی اور مقتدر ریاستی ادارے کی حیثیت ہی نہیں رکھتی ہے بلکہ ملک کی سلامتی اور دفاع کی بھی ذمہ دار ہے کے خلاف اس طر ح کھلم کھلا اعلان جنگ یا اس کا مقابلہ کرنے کا اعلان کرنا چاہیے تھا؟اگر ایسا ہی ہے تو پھر یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ میاں صاحب اس پر کیوں مجبور ہوئے؟یہ سوال بہرکیف ایسے ہیں جن کے جواب سامنے آنے چاہیے۔اس کے لیے ہمیں ماضی میں کچھ جھانکنا ہوگا۔

پچھلے اڑھائی تین عشروں کے ملکی سیاسی حالات و واقعات  اور مسائل و معاملات کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ میاں محمد نواز شریف بتدریج اور مجبوراً دعوت مبارزت یا جنگ کا اعلان کرنے کی اس صورت حال تک پہنچے ہیں۔ ورنہ وہ جو خود ملٹری اسٹیبلشمنت کے پروردہ ہیں ان سے ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے مقابلہ آرئی کی یہ صورت حال ایک انہونی سی بات لگتی ہے۔ لیکن ایسا ہوا ہے اور اس کی ابتدا میاں محمد نواز شریف کی وزارت عظمیٰ کے پہلے دور میں صدر مملکت غلام اسحاق خان سے اختلافات پیدا ہونے کی صورت میں ہوئی جب اپریل 1993 میں میاں صاحب نے اپنی نشری تقریر میں صدر غلام اسحاق خان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ واضح اعلان کیا کہ وہ کس صورت میں ڈکٹیشن نہیں لیں گے۔ اور پھر چل سو چل۔ میاں صاحب کی حکومت برطرف ہوگئی۔ سپریم کورٹ نے اسے بحال کیا تو میاں صاحب کے لیے ایسے حالات پیدا کر دیے گئے کہ ان کے لیے اپنے حکومتی وظائف سر انجام دینا انتہائی مشکل ہوگیا۔انجام کار آرمی چیف جنرل وحید کاکڑ نے انہیں اور صدر غلام اسحاق خان کو مستعفی ہونے پر مجبور کر کے گھر بھیج دیا۔

 1997میں میاں محمد نواز شریف نے دوبارہ وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالا تو انہیں قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل تھی۔ انہوں نے آئین کی شق 58 (2b) کو ختم کرکے صدر مملکت کے قومی اسمبلی اور حکومت کو برخواست کرنے کے اختیارات کو ہی سلب نہ کیا بلکہ صدر فاروق لغاری، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ سمیت آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت کو بھی مختلف اوقات میں اپنے مناصب سے دستبردار ہو کر گھرجانے پر مجبور کیا۔  اسطرح ان کی فوج کی اونچے درجے کی قیادت اور اعلیٰ عدلیہ سے ایک طرح کی محاذ آرائی کی فضا کو تقویت ملی  جو انجام کار  12اکتوبر1999 میاں محمد نواز شریف کی آئینی حکومت کی برخاستگی اور آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کے حکومت پر غاصبانہ قبضے کی صورت میں سامنے آئی۔ اس کے بعد میاں صاحب کے خلاف طیارے کے اغوا کا مقدمہ، اس میں عمر قید کی سزا اور سعودی عرب میں 10سال کے لیے جلاوطنی، اور 2008کے انتخابات سے قبل 2007ء کے اواخر میں وطن واپسی، ملکی سیاست میں دوبارہ بھرپور انداز سے فعالیت اور مئی 2013ء کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد تیسری بار وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالنے اور 2017ء میں سپریم کورٹ کی طرف سے نااہل قرار دے کر وزارتِ عظمیٰ کے منصب سے ہٹائے جانے اور اس سے قبل تقریباً چار سال کے اپنے تیسرے دورِ حکومت میں ریاستی اداروں بالخصوص عسکری قیات سے ایک طرح کی مستقل کھچاؤ کی صورتِ حال کا قائم رہنا، عمران خان اور علامہ طاہر القادری کے دھرنوں کی مبینہ طور پر فوجی قیادت اور خفیہ ایجنسیوں کی طرف سے پشت پناہی، ڈان لیکس کا انتہائی نا خوشگوار واقعہ جس سے میاں محمد نواز شریف اور بعد میں وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی کے اعلیٰ عسکری قیادت سے اختلافات میں اضافہ ہوا۔ سب ایسے حالات و واقعات ہیں جو تاریخ کا حصہ ہیں لیکن ان کے حوالے سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ ان کی وجہ سے جہاں ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے میاں محمد نواز شریف کے تعلقات میں تلخی اور کھچاؤ پروان چڑھا وہاں میاں صاحب کے بیانیے میں بھی بتدریج سختی اور تلخی پیدا ہوتی گئی۔  (جاری ہے)


ای پیپر