شوپیاں اموات: تشدد کا خاتمہ کیا جائے
06 اکتوبر 2020 (14:15) 2020-10-06

18 جولائی کو شوپیاں میں تین مزدوروں کی ہلاکت نئی دہلی اور جموں و کشمیر کے نو تشکیل شدہ یونین ٹیریٹری (UT) کے لئے ٹیسٹ کیس ہے۔ بھارتی فوج نے تسلیم کیا ہے کہ آرمڈ فورسز اسپیشل پروٹیکشن ایکٹ (اے ایف ایس پی اے)، جس کا مقصد متنازع علاقوں میں اپنے جوانوں کو تحفظ فراہم کرنا تھا، کی حدود سے تجاوز کیا گیا تھا۔ ابتدائی تفتیش سے ثابت ہوا ہے کہ راجوری سے تعلق رکھنے والے تین نوجوان، جو کام کے لئے جنوبی کشمیر کے علاقے شوپیاں گئے تھے، مبینہ طور پر ایک جعلی مقابلے میں ہلاک کر دیئے گئے تھے۔ ان کے ڈی این اے ان کے خاندان کے افراد سے مل گئے ہیں، جنہوں نے انصاف کے حصول کے لئے، جموں کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کو خط لکھا تھا۔ عدالتی احکامات پر ان کی لاشیں نکال کر آخری رسومات کے لیے اہل خانہ کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ یہ سانحہ فوج کی سرکشی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

جعلی مقابلہ نئے لیفٹیننٹ گورنر کے لئے آزمائشی کیس ہے جو آرٹیکل 370 کے اچانک اور راتوں رات خاتمہ، جس کے تحت کشمیر کو خصوصی حیثیت حاصل تھی، کے باعث ناراض آبادی کو رام کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ سنہا کو یہ یقینی بنانا ہو گا کہ اے ایف ایس پی اے کے تحت ہونے والی زیادتیوں کی ابتدائی تفتیش کے بعد فوج انضباطی کارروائی کو منطقی انجام تک پہنچائے۔ ان جوانوں کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سے انکشاف ہوا ہے کہ ان کی اموات ”متعدد آتشیں اسلحہ کے زخموں کی وجہ سے ہوئی جس سے برین ہیمرج کا سامنا، سانس بند اور موت واقع ہوئی تھی“۔ ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ فوج نے اپنے جوانوں کو قصوروار ثابت ہونے کے باوجود بچایا۔ ماضی میں، عام کشمیریوں کو غیر ملکی دہشت گرد کہہ کر ہلاک اور ان کی لاشیں نذر آتش کرنے کے متعدد واقعات ہو چکے ہیں۔

2010 میں بھی فوج کی جانب سے مبینہ جعلی مقابلے میں تین شہریوں کو ہلاک کر کے ان کو دراندازی کرنے والے دہشت گرد قرار دینے پر کشمیری سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ کسی شک و شبہ کے بغیر قوانین کی خلاف ورزی ثابت ہوئی۔ عام شہریوں کو منصوبہ بندی کے تحت لائن آف کنٹرول کے ساتھ ملحقہ علاقے کی طرف دھکیلا اور مارا گیا۔ فوجی عدالت کی طرف سے پانچ اہلکاروں کو قصوروار قرار دے کر عمر قید کی سزا سنانے کے باوجود، آرمڈ فورسز ٹریبونل نے یہ سزا معطل کرتے ہوئے کہا کہ عام شہریوں کو ”پٹھان سوٹ“ پہنے ہوئے کنٹرول لائن کے پاس نہیں جانا چاہیے تھا۔ 2016 میں برہان وانی کے قتل سے ناراض شہریوں کی مختلف واقعات میں ہلاکتیں بھی 100 سے تجاوز کر گئی تھیں۔ اس نے بھی کشمیریوں میں گہرے غصے اور آزادی کے جذبات کو جنم دیا بلکہ وادی حکومت اور دہلی کے درمیان پچھلے کئی سال سے قائم اعتماد ختم ہو گیا۔ پیلٹ گن ظلم کی علامت بن چکی، اس نے سیکڑوں شہری اندھے، معذور اور ہلاک کر دیئے۔ تاہم حکومت نے گزشتہ سال جولائی میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ کو مسترد کر دیا تھا۔ اس رپورٹ میں بنیادی حقوق کی معطلی اور تشدد کے الزامات عائد کیے گئے تھے: ”طاقت کے اندھے استعمال، جس کے نتیجے میں ہلاکتوں میں اضافہ جاری ہے، کے بارے میں کوئی نئی تحقیقات نہیں کی جا رہیں۔ یہاں تک کہ 2016 میں ماورائے عدالت پانچ افراد کے قتل کے معاملہ پر بھی مکمل خاموشی پائی جاتی ہے۔

نئی دہلی اور کشمیر حکومت دونوں کو راجوری خاندانوں کو انصاف فراہم کرنا ہو گا جنہوں نے اپنے بیٹوں کو رزق کی تلاش میں بھیجا تھا۔ ان تینوں نے ایک کمرہ کرایہ پر لیا تھا، جو آرمی کیمپ سے دور نہیں تھا، لیکن ان کی گولیاں لگی لاشیں تقریباً 12 کلومیٹر دور ایک سیب کے باغ میں پائی گئیں۔ ان بے دریغ ہلاکتوں کو رائیگاں نہیں جانا چاہئے، نا صرف اس وجہ سے کہ یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں بلکہ اس لئے بھی کہ ایسے واقعات تشدد کو جنم دیتے ہیں۔ سنہا عوام کے غصہ کو کم کرنے کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے سری نگر میں حضرت بل کی درگاہ کا بھی دورہ کیا لیکن لوگ اس طرح کہ ”سیاست بازی“ سے متاثر ہوتے نظر نہیں آ رہے۔ ایسا لگتا ہے کہ 18 جولائی کو جب یہ تینوں نوجوان مارے گئے تھے تو کسی قانون کو خاطر میں نہیں لایا گیا تھا۔ فوج مقامی پولیس کو ساتھ لینے کے بجائے تنہا آپریشن میں گئی۔ ان تینوں کو معمول کے مطابق گرفتاری دینے کا موقع نہیں دیا گیا۔ اس سب کی جانچ پڑتال لازمی طور پر انضباطی کارروائی کے دوران کی جائے گی۔ ماورائے عدالت قتل کے اس کیس میں حکومت کی طرف سے واضح طور پیغام جانا چاہئے کہ جموں و کشمیر کے باشندوں کی زندگی اہمیت کی حامل ہے۔

(بشکریہ: ہندوستان ٹائمز)


ای پیپر