ٹروتھ کمیشن ناگزیر ہے
06 اکتوبر 2020 (14:03) 2020-10-06

شہباز شریف کی درخواست ضمانت کے مسترد ہونے پر سب سے زیادہ جاندار تجزیہ شہزاد اکبر کا تھا کہ ”بھتیجی نے چچا کی سیاست کا باب بند کر دیا“ اس کے بعد نیب انکوائری اور عدالتی فیصلے کی کیا حیثیت رہ گئی ہے؟ حکومت کہتی ہے عدالتی فیصلہ ہے حکومت کا کوئی تعلق نہیں۔ ریلوے وزیر نوابی شوق کے مالک شیخ رشید جو پرویز مشرف کے آنے تک نواز شریف کے ساتھی رہے فرماتے ہیں دسمبر تک جھاڑو پھر جائے گی۔ بہرحال عدالتی فیصلہ ہے آئندہ بھی فیصلے آتے رہے ہیں گے مگر نہ جانے کیوں عدالتی فیصلوں کی تاریخ کے دریچے کھلتے چلے گئے۔ جسٹس محمد منیر کی سربراہی میں مولوی تمیز الدین کے مقدمہ میں صرف مسٹر جسٹس کارنیلیئس نے اختلافی نوٹ لکھاباقی جسٹس صاحبان نے جسٹس منیر کی تقلید کی اور قوم کے دس سال آمریت کے سپرد کر دیئے گئے۔ یحییٰ خان کے 3سال کے بعد جب ایوب و یحییٰ دور ترقی نہیں بلکہ حق تلفی کی ہنڈیا کا ڈھکن اٹھا یا گیا تو مشرقی پاکستان الگ ہو چکا تھا۔ عدالتی فیصلہ تھا جو ایوب خان کے لیے آیا لہٰذا کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ ایوب،یحییٰ، ضیاء، مشرف، میاں نواز شریف کے پہلے دو ادوار میں تمام بڑے سیاسی اقدام عدالتی فیصلہ جات کے گفٹ پیپر میں تھے پھر کیا ہوا کہ مولانا فضل الرحمن نے زرداری صاحب کے دور میں افتخار محمد چوہدری کی ہر مقدمہ کو ایک آنکھ سے دیکھنے والی عدالت کے لیے ریمارکس دیئے کہ اب مورچہ سپریم کورٹ میں ہے۔ نواز شریف کے مقدمہ میں دوران سماعت جسٹس کھوسہ نے کہا کہ فیصلہ 20 سال تک یاد رکھا جائے گا شاید بھول گئے کہ مولوی تمیز الدین، جناب بھٹو کیس اور تب سے اب آج تک جتنے سیاستی فیصلے عدالتوں سے لیے گئے قوم کبھی بھول نہ پائے گی اور اس میں عسکری قیادت کا کردار ہمیشہ نمایاں طو پر زیر بحث رہا۔ 

اگلے دن چوہدری شفقت محمود کہتے ہیں اپوزیشن میں جان نہیں۔ ورنہ حکومت کب کی ختم ہو چکی ہوتی گویا اقرار کرتے ہیں کہ کارکردگی نہیں اپوزیشن کی وجہ سے حکومت قائم ہے۔ عجیب دور ہے کہ اپوزیشن اپنی دشمن آپ اور حکومت بھی اپنی دشمن آپ ہے عوام کدھر جائیں۔ اس وقت سارا تنازع ہی یہ کہ اپوزیشن کو کس نے روکا ہوا ہے؟ قوم کے ان گنت مسائل میں ایک یہ بھی ہے کہ ہمارے اکثر دانشور، سب مکاتب فکر کے علماء سیاسی مفکر جھوٹ کو 

اپنی زبان اور قلم سے کہہ کر تاریخ مسخ کر رہے ہیں اگر کوئی بات کسی کاذب نے لکھ دی۔لوگوں نے روزی روٹی کا ذریعہ بنانے کے لیے رقم کیا تو اب موجودہ دور میں اس بات کا حوالہ دینے کے لیے 40، 50 کتابوں میں نقل شدہ بات کر دی جائے گی جس کی بنیاد جھوٹ پر تھی۔ یہ سیاسی مذہبی، تاریخی فکری میدان میں سر عام ہواہے، جعلی دانشور جناب ذوالفقار علی بھٹو کے لیے کہتے ہیں کہ ایوب لے کر آیا حالانکہ سکندر مرزا ان کو کابینہ میں لائے بھٹو صاحب نے سکندر مرزا کے دور میں ایک کتابچہ ”فیڈرل یا یونیٹری گورنمنٹ“کے عنوان سے شائع کرایا جس پر مرزا جو سر شاہنواز بھٹو سے خاندانی تعلق رکھتے تھے کی حکومت سخت ناراض ہو گئی۔ پھر بھٹو صاحب کو عالمی کانفرنس میں بھیجا جس کے بعد وزیر تجارت بنایا۔ سکندر مرزا کی حکومت ختم ہونے کے بعد ایوب خان کے باربار اصرار پر اپنی بیوی اور والدہ کے مشورہ سے کابینہ میں شامل ہوئے۔ 1977ء میں جب ایجنسیوں، بنیاد پرستوں اور سیاسی مخالفین نے کردار کشی کی مہم چلائی تو بہت سی  باتوں میں ایک یہ بھی بکواس کر دی کہ جناب بھٹو ایوب خان کو ڈیڈی کہتے تھے یہ 1977ء میں ایجاد کی گئی بات تھی بالکل اسی طرح جیسے ادھر تم ادھر ہم والی سرخی لگانے والے شاہ جی درجنوں کالم لکھ چکے کہ وہ محض اخبار کی سرخی تھی ورنہ یہ الفاظ نہ تھے۔ جناب بھٹو نے 1965ء میں استعفیٰ دیا جیل گئے اور 1967ء میں پیپلزپارٹی کی  بنیاد رکھی۔ میرے کالم کا موضوع تو کچھ اور تھا تاریخ کی مسخ شدہ تصویر صاف کرنے کی کوشش کی ہے۔ اپوزیشن کا ٹروتھ کمیشن کا مطالبہ انتہائی جائز اور قوم کے آئندہ سفر کے لیے ناگزیر ہے۔ ڈیموکریٹک موومنٹ کو آگے چل کر کافی اتار چڑھاؤ کا سامنا ہو گا لیکن میاں محمد نواز شریف، بلاول بھٹو، مولانا فضل الرحمن اور دیگران جو خاموشی کو زبان دے چکے ہیں اس کی بازگشت کئی دہائیاں آتی رہے گی جس طرح کہا جاتا ہے کہ عسکری قیادت سیاستدانوں کے خلاف نہیں البتہ چند لوگوں کے متعلق تحفظات رکھتی ہے۔ اسی طرح اپوزیشن فوج نہیں چند سٹیک ہولڈرز کے متعلق تحفظات رکھتی ہے۔ نواز شریف نے فوج نہیں چند جرنیلوں کی بات کی ہے۔ دیکھا جائے تو ان کی کسی بات میں جھوٹ نہیں البتہ آدھا سچ ہے۔ نواز شریف نے تو چند جرنیلوں کی بات کی ہے عمران خان تو پوری فوج کو ہی ہدف بناتے رہے ہیں۔ احتساب کے حوالے سے ہر طرف ایک جنرل صاحب کے لیے بات کی جا رہی ہے۔ سیاست دانوں اور سویلین کے متعلق تو یہ باتیں نئی نہیں تھیں مگر اب جب اس سطح پر بات ہونے لگے تو ملک و قوم کے لیے لمحہئ فکریہ ہے۔ نواز شریف نے عمران خان کو پاگل، سلیکٹڈ قرار دیا۔ شاید مولانا یا بلاول بھٹو کوئی متبادل مناسب لفظ استعمال کر سکیں۔ نوازشریف نے انگریزوں کے بعد کسی اور کی غلامی اور مولانا بھی غلامی میں زندہ نہ رہنے کی بات کی ہے بلاول بھٹو نے پارلیمنٹ کا قبضہ چھڑانے کا عندیہ دیا ہے۔ حالات یہ ہیں کہ نیب کے دعویٰ پر کوئی یقین نہیں کرتا، حکومت جھوٹی اور اپوزیشن سچی دکھائی دینے لگی۔ سڑکوں گھروں میں آبرو ریزیاں ہو رہی ہیں۔ روٹی روزی ناپید ہو گئی۔بجلی کا بل دشمن ملک کا ہر مہینے حملہ لگنے لگا۔ دوائیاں، سبزیاں، پھل، ٹرانسپورٹ، تن کا کپڑا روٹی کپڑا، مکان، بجلی گیس، عزت نفس سب بنیادی حقوق سے حسرتوں میں بدل گئے اور حکومت ہے کہ یاوا گوئیوں سے ہی فرصت نہیں۔ نہیں جانتا کہ اپنے وطن میں کس کی حکمرانی ہے مگر دہائی دیتا ہوں رحم کرو اپنی ناک سے آگے دیکھو۔ موجودہ حکمرانوں کاد عویٰ تھا لوگ باہر سے نوکریاں لینے آئیں گے۔ چشم تصور میں ذرا سوچیں آج اگر عرب، ایشیائی، یورپین ممالک یا انگلینڈ یا امریکہ ویزے آسان کر دے تو وطن عزیز میں شاید حکمران طبقے بھی نہ رہیں سوائے وقت کے حاکموں کے۔ قوم کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ کوئی ایک شعبہ ایسا نہیں جہاں کرپشن کا عروج نہ ہو۔ موجودہ حکومت نے بہت بڑا کارنامہ کیا ہے کہ سفارش ختم کر دی اب صرف رشوت رہ گئی ہے۔ 

عمران خان کہتے ہیں میں وزیراعظم ہوتا تو استعفیٰ مانگنے پر ڈی جی آئی ایس آئی کو برخاست کر دیتا۔ ایسا کرنا تو دور کی بات مرضی سے سانس ہی لے لیں گے تو بڑی بات ہو گی۔ آپ ایک پیج پر ہوں یا دونوں پر ایک پیج ہو عوام کے دکھوں کا ازالہ کون کرے گا۔ ان کی محرومیوں کا مداوا نہ ہوا تو موجودہ حکمران تاریخ میں مکافات عمل، عبرت اور جھوٹے کے حوالے سے جانے جائیں گے۔ عمران کہتے ہیں فوجی نرسری میں پرورش نہیں پائی حالانکہ حمید گل کی انگلی پکڑ کر سیاست میں آئے اور ایمپائر کی انگلی کا نعرہ لگاتے رہے۔ پی ٹی آئی کی افزائش آئی جے آئی،ق لیگ،جونیجو لیگ و دیگر لیگ سے مختلف نہیں۔ ہماری تاریخ الزامات، کردار کشی اور جھوٹ کی بنیاد پرہے لہٰذا ٹروتھ کمیشن ناگزیر ہے۔


ای پیپر