نواز شریف پر غداری کا مقدمہ درج کروانے والا خود کریمنل ریکارڈ یافتہ نکلا
06 اکتوبر 2020 (12:56) 2020-10-06

لاہور: سابق وزیراعظم میاں نواز شریف پر غداری کا مقدمہ درج کرانے والا درخواست گزار خود کریمنل ریکارڈ یافتہ نکلا ہے۔ بدر رشید پر شرقپور میں ناجائز اسلحہ رکھنے کا مقدمہ درج ہوا۔

نیو نیوز کے مطابق بدر رشید پر تھانہ شاہدرہ میں بھی مختلف مقدمات درج ہیں۔ مدعی بدر رشید پر تھانہ شاہدرہ میں اقدام قتل کا مقدمہ بھی درج ہو چکا ہے۔ نواز شریف غداری کیس میں مدعی بدر رشید خود بھی کئی مقدمات میں گرفتار ہو چکا ہے۔ خبریں ہیں کہ اس نے حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی ٹکٹ پر یو سی چیئرمین کا الیکشن بھی لڑا تھا۔

وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کو کوئی علم نہیں تھا جب میں ان کے علم میں لایا کہ اس طرح ایک FIR ہوئی ہے جس میں نواز شریف اور دیگر لوگوں کو نامزد کیا گیا ہے انھوں نے شدید ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز اپنے ایک بیان میں وفاقی وزیر نے کہا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان نے نواز شریف اور دیگر لوگوں کیخلاف مقدمے پر سخے ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف سیاسی جماعت ہے سیاست کی شطرنج پر ابھی ہماری چال باقی ہے۔ بغاوت کے مقدمے بنانا ہماری پالیسی نہیں ہے بلکہ یہ نواز شریف کے دور کی باتیں ہیں۔ ن لیگ اپنے پیادے بچائے، شاہ اور وزیر کا کھیل ابھی دور ہے، ابھی کھیل شروع ہوا، جلدی کیا ہے؟

اُدھر معاون خصوصی برائے سیاسی ابلاغ ڈاکٹر شہباز گل نے بھی واضح کیا تھا کہ حکومت سیاسی لوگوں پر غداری کے مقدمے بنانے کہ حق میں نہیں ہے۔ یہ کام ن لیگ کیا کرتی تھی اور ہم اس پر اعتراض کرتے تھے۔ اس ایف آئی آر میں غداری کی کوئی دفعہ شامل نہیں ہے۔ اس میں sedition کی دفعات شامل ہیں۔ جو غداری کا جرم نہیں۔sedition کی definition لف کر رہا ہوں۔

تحریک انصاف سینٹرل پنجاب کے صدر اعجاز چودھری کا کہنا ہے کہ لیگی قیادت کے خلاف بغاوت کا مدعی بدر رشید خود کو لیگی کارکن کہلانے میں فخر محسوس کرتا ہے، اس کا تحریک انصاف سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی سینٹرل پنجاب میں پی ٹی آئی کی یوتھ کی کوئی تنظیم موجود ہے۔

اعجاز چودھری کے مطابق سیاستدانوں کے ساتھ عوام کی تصاویر نئی بات نہیں، البتہ نواز شریف کا موقف غداری سے بھی بڑھ کر ہے۔ پھر بھی، سیاست میں ایک دوسرے کو غدار ٹھہرانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، قوم بہتر فیصلہ کر سکتی ہے۔ اس ملک کی سپریم کورٹ کو نوازشریف کے مؤقف کا از خود نوٹس لینا چاہیے۔


ای پیپر