میاں نوازشریف وہیں کھڑے ہیں....
06 اکتوبر 2020 2020-10-06

مجھے باد مخالف کی انتہا میں خود کو بچا جانا (سروائیو Survive) کر جانا بہت پسند ہے بعینہ اپنی ناکامیوں کا الزام دوسروں کو دینا انتہائی ناپسند ہے.... عرصہ دراز بعد اے پی سی سے میاں محمد نوازشریف کی تقریر دیکھنے اور سننے کا موقع ملے اور اس سے بھی کہیں زیادہ اس پر تبصرے، تجزیے اور ٹاک شوز کا شور.... دیگر تمام جزئیات کے علاوہ میرے لئے اس تقریر میں دلچسپی کا پہلو میاں نوازشریف کا عین بحران سے پہلے والا فریش چہرہ تھا.... کیا کیا نہ آلام گزر گئے زندگی سے سب سے بڑا شریکِ کار چلا گیا رفاقت کا دکھ شاید محبت کے دکھ سے بھی افضل ہے کسی کا”باﺅ جی“ ہونا اور اپنے سائے جیسی آواز کا دور ہوتے چلے جانا.... کینسر کا قطرہ قطرہ زہر، کم کم پڑتی سانسیں مدھم ہوتی شمع کا لَو.... مجھے اچھی طرح معلوم ہے دکھ کے اتھاہ زمانوں میں کورٹ کچہریاں لفظوں کے تیر بھالے نشتر اور پراپیگنڈہ کی انتہا کیسی لگتی ہے آپ کسی کونے میں بیٹھ کے رونا چاہتے ہیں مگر آپ کو دوڑایا بھگایا جاتا ہے.... جسم کا بند بند ٹوٹتا ہے مگر زنجیر کا رقص نہیں تھمتا.... اپنی آخری یاد کو دفنانے کا وقفہ اسیری سے مانگے گئے چند لمحات سر پر غیض و غضب ، نفرت، غصہ اور سب سے بڑھ کر انتقام کی آگ میں جلتا شخص تہس نہس کرتا ہوا پراپیگنڈہ وقار کی دھجیاں اُڑاتا چور چور کا شور.... مجرم مجرم.... کس حد تک نہیں توہین کی گئی....غم کے زمانوں میں بیوی لحد میں اُتاری اور بیٹی جیل سے لائے خود بھی اسیر، دھوکے فریب دکھوں کی ”اَت“ اور دشمنی کی اخیر....

تخت سے اُترے گھر اُجڑے بچے بکھرے.... جیل کوٹھڑیاں بدنامیاں بیماریاں مگر خوف و دبدبہ پھر بھی اتنا کہ مار مکانے والوں کو چائے کا کپ اٹھائے تصویر سے بھی خوف آنے لگا.... مجھے یہ بیمارِ قلب الزامات سے بھرا مخالف کی دھول میں اَٹا شخص اس لئے اچھا لگا کہ وہ ان کوڑے کرکٹ بھری غلیظ سیاست کے ڈھیر پر پاﺅں رکھ کے پھر کھڑا ہو گیا.... سالوں کی خاموشی (بدتمیزی کا اس سے بہتر جواب نہیں) ٹوٹی تو مقابل پھر وہی چمکتے دمکتے مہذب لہجے والے نوازشریف تھے.... عمدہ اردو نتھرا لہجہ اور اس مضبوطی کےپیچھے ہلکے ہلکے پُرغرور تفاخر کا عکس کہ پوری تقریر میں ”موصوف“ کا نام نہیں لیا حتیٰ کہ بتا دیا کہ تم میرے مدمقابل نہیں ہو.... جن سے مخاطب ہوئے انہیں مدمقابل سمجھا بے جان لوگوں سے خطاب نہیں کیا.... البتہ لفاظی اور پراپیگنڈہ پر زندہ لوگوں کو دکھائی نہیں دیتے.... کب تک substantial مواد کے بغیر کام چلایا جا سکتا ہے لوگوں میں انتقامی جذبہ ہوتا ہے مگر محض انتقامی جذبہ نہیں ہوتا انہیں بھوک بھی لگتی ہے اور انہیں بچوں کی ضروریات بھی پورا کرنا ہوتی ہیں وہ دوسروں کی پکڑ دھکڑ اور قید سے کتنی دیر پیٹ بھر سکتے ہیں جبکہ اس سے حاصل وصول بھی کچھ نہ ہو.... دراصل عوام اب اتنے معصوم اور نادان نہیں رہے....

بارہا عسکری اور عوامی حکومتوں کا تجزیہ کرنے کے بعد یہ بات پلے پڑی کہ لوگ تمام تر برائیوں کوتاہیوں سمیت اپنی حکومت کیوں چاہتے ہیں ذہنی تشفی اور اخلاقی برتری کے علاوہ انتخابات کا سیزن لوگوں کے لئے ایسا ہی ہے جیسے شادیوں کا سیزن اس میں لوگوں کے کام نکلنے کے علاوہ چھوٹے چھوٹے مالی مفادات بھی وابستہ ہوتے ہیں بچوں کی نوکریاں تھانے کچہریوں کے کام کے علاوہ سڑکیں، سیوریج، پانی، بجلی، گیس اور مہنگائی بھی لوگوں کے بنیادی موضوعات ہیں.... ہمیں تو اتنا سمجھ آیا لوگوں کو ”گود لی سرکار“ کی رعایتیں بھی نہیں مطلوب انہیں بس اپنا پن چاہئے جس کا لمس انہیں اپنے علاقوں کے سیاست دانوں سے ہی ملتا ہے.... اپنی محبتیں اپنی لڑائیاں اپنے جرگے اپنے فیصلے انہیں کوئی امپورٹڈ فارمولا نہیں چاہئے....

جو مقامی کلچر کو نہیں جانتا وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا اتفاق سے سیاست دان اس تہذیب میں رچے بسے ہوتے ہیں ہزار گالی کھا کر بھی لوگوں کے گھروں میں تعزیت کے لئے جاتے ہیں ان کے بچوں کی تعداد سے آگاہ ہوتے ہیں کلچر سے بڑی فورس کوئی نہیں....

ریپ شدہ عورتوں بچیوں کے سروں پر ہاتھ رکھنا مذاق نہیں جن ”ویہڑوں“ میں ذلت رقص کرتی ہے وہاں حکمران فوٹو کھنچوانے نہیں بلکہ باپ بن کر جاتا ہے افسوس کرنا ہمارا کلچر ہے ہم خود کو دیکھیں جو ہمارے والدین کا افسوس کرنے نہیں آیا ہم معاف نہیں کرتے اور خود دور دراز تعزیت کے لئے پہنچ جاتے ہیں....

یہ تو پھر ملک ہے ہمارے ہاں تو گھروں کے سربراہوں پر بھی ایسے ایسے سنگین الزامات لگتے ہیں کہ خدا کی پناہ گھر کی مینجمنٹ جب بھی تبدیل ہوتی ہے نئے لوگوں کے اختیار اوراپنے لوگوں کے دائرہ کار میں ٹھن جاتی ہے.... ابھی تک میں نے کوئی ایسی فوتیدگی نہیں دیکھی جس کا ذمہ دار کسی نہ کسی عزیز کو نہ ٹھہرایا گیا ہو....

جہاں تک قومی رازوں کی پاسداری کا معاملہ ہے تو اس میں سیاست دانوں اور دیگر اداروں کی یکساں ذمہ داری بنتی ہے.... اس مملکت میں جہاں بلاواسطہ مطالب بھی اخذ کر لئے جاتے ہیں براہ راست تنقید و قومی معاملات کا کیا مطلب نکلے گا انتقام کی آندھی میں وطن عزیز کی محبت کا دیا نہیں بجھنا چاہئے.... آج پیدا ہونے والی پارٹیاں اگر حقیقت بن چکی ہیں تو تین تین چار چار دہائیوں پر محیط پارٹیوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دینا سیاست کا باب ہمیشہ کے لئے بند کر دینا محض خواب تو ہو سکتا ہے حقیقت میں ایسا ممکن نہیں.... مجھے تو اُن لہجوں کی پکار اور گھن گرج پر حیرت ہوتی ہے جو خود جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے سیاست کے آسمان پر طلوع ہوئے خاندانی سیاستوں کے چراغ بجھانے پر تلے ہوئے ہیں انہیں اس خطے کی روایات کا پتہ نہیں جہاں سوکھے خشک دریا محض دو آنسوﺅں سے بہہ نکلتے ہیں....

کسی فرد واحد کو مٹا ڈالنا بھی آسان نہیں ہوتا ایسی خواہشات لٹریچر، فلم اور فکشن سے پیدا ہوتی ہیں وگرنہ سمجھنے کو اشارے بہت ہیں....

میں صبر کرتی ہوں مولا مجھے جزا دے گا

وہ اک اشارہ سبھی رنج و غم مٹا دے گا

چھپی ہوئی ہے محبت جس ایک لمحے میں

وہ ایک لمحہ میری عمر کو بڑھا دے گا

اگر اتنی سی سمجھ آ جائے تو تمام متکبر دماغوں کو قرار آ جائے کہ باد مخالف کے مقابل باد نسیم اور خشکی کے مقابل سمندر تپش کے مقابل ٹھنڈک صحرا کے اوپر بادل اور بددعا کے مقابل دُعا کی طاقت ہے....


ای پیپر