حکمرانوں کی ناکامی اور پامی!
06 اکتوبر 2020 2020-10-06

روزنامہ نئی بات کے چیف ایڈیٹر پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبدالرحمان کو مبارکباد گزشتہ ہفتے وہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے صدر منتخب ہوگئے، اب یہ اُمید بندھ گئی ہے وہ میڈیکل کے شعبے کے مسائل بلکہ روز بروز بڑھتے ہوئے مسائل پر اِس جارحانہ وانقلابی انداز میں توجہ دیں گے جس سے پاکستان میں شعبہ صحت جو بدحالی کے بدترین مقام پر کھڑا بلکہ مرا پڑا ہے، اُسے چند سانسیں مِل جائیں، .... جیسے روزنامہ نئی بات شروع ہونے سے زرد صحافت کو زبردست زد پڑی تھی اور دم توڑتی ہوئی باوقار صحافت کو چند سانسیں یا نئی زندگی مِل گئی تھی، .... میں گزشتہ نو برسوں سے اِس ادارے (نئی بات) سے صرف اِس لیے وابستہ ہوں اِس ادارے نے صحافتی اقدار کو ہمیشہ ہرممکن حدتک ملحوظ خاطر رکھنے کوشش کی، اِس کوشش میں اُنہیں بے پناہ مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑا، اب تک کرنا پڑ رہا ہے، جس میں ایک بڑا کردار میرے ”کالم“ کا بھی ہے، مگر اُصولوں پر سمجھوتہ نہ کرکے یہ ادارہ ایک ایسے مقام پر اب کھڑا ہے جہاں میڈیا کے بڑے بڑے ”گورو“ اِس کی حیثیت اور اہمیت تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں، دوتین بڑے اخبارات یا میڈیا گروپس نے اپنی طاقت کا ایسا ماحول قائم کررکھا تھا وہ کسی اور اخباریا چینل کی گنجائش ہی پیدا نہیں ہونے دے رہے تھے، اِس ماحول میں نئی بات اور نیو نیوز نے اپنا ایک خاص مقام پیدا کیا یہ یقیناً اول وآخر اللہ پاک کے خاص کرم کا نتیجہ ہے، اِس میں دونوں بھائیوں پروفیسر چودھری عبدالخالق اور پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبدالرحمان کے آپس میں محبت ، احترام اور اتفاق کا بھی بڑا عمل دخل ہے، اللہ اِسے قائم ودائم رکھے....اب اِس پس منظر میں میں یہ دعویٰ کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا اب چودھری عبدالرحمان” پامی“ کے صدر منتخب ہوئے ہیں تو اپنی روایتی انتھک کاوشوں ومحنتوں سے پاکستان میں شعبہ صحت کو درپیش مسائل حل کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے، .... اِس کا اظہار اگلے روز اُنہوں نے خود بھی پامی کا صدر منتخب ہونے کے فوراً بعد اپنی ایک پریس کانفرنس میں کیا جس میں اُن کے ساتھ پامی کے سیکرٹری جنرل محمد ریاض، سیکرٹری فنانس وحید شیخ، صدر پامی پنجاب ڈاکٹر تنویر، نائب صدر میاں عبدالرشید اور ترجمان اسرارالحق بھی موجود تھے، اِس طویل پریس کانفرنس میں جن جذبوں کے تحت آگے بڑھنے کے عزم کا اُنہوں نے اظہار کیا اللہ کرے اِس میں اُنہیں ایسی زبردست کامیابی حاصل ہو کہ دن بدن ابتری کا شکار ہونے والا ہمارا شعبہ صحت کسی ایے منفرد مقام پر آکر کھڑے ہو جائے جہاں دنیا ہم پر اندھا اعتماد کرے، اور ایسا ماحول پیدا ہو جائے کہ آج جس طرح ہم اپنی کچھ قابل علاج اور کچھ ناقابل علاج بیماریوں کے لیے بیرون ملک، برطانیہ وامریکہ وغیرہ جاتے ہیں برطانیہ اور امریکہ کے لوگ اپنی بیماریوں کے علاج کے لیے پاکستان آنا شروع کردیں ....یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے پاکستان میں جن شعبوں کو سب سے زیادہ اہمیت دی جانی چاہیے تھی اُنہیں سب سے زیادہ نظرانداز کیا گیا، دنیا کے مہذب ملک اور معاشرے اپنے تین شعبوں کی وجہ سے دنیامیں وقار حاصل کرتے ہیں، تعلیم، صحت اور انصاف .... بدقسمتی سے ہمارے یہ تینوں شعبے بدترین ابتری کا شکار ہیں، ان کے ٹھیک ہونے کی فی الحال کوئی اُمید اِس لیے بھی نظر نہیں آتی ہمارے سابقہ اور موجودہ حکمرانوں کی ترجیحات ہی اور ہیں.... کل مجھے شعبہ صحت سے وابستہ ایک اہم سیاسی شخصیت یہ بتارہی تھی، اور یہ بات پہلے کچھ کے علاوہ بے شمار اور سیاسی و حکومتی شخصیات بھی مجھے بتاچکی ہیں، میں کئی بار اِس پر لکھ بھی چکا ہوں، وزیراعظم عمران خان بہت کم اپنے وزیروں مشیروں سے اُن کے محکموں کی کارکردگی بارے پوچھتے ہیں، کسی محکمے میں اُس کے وزیر یا مشیر کی کارکردگی چاہے صفر ہی کیوں نہ ہو، وہ اگر اپوزیشن، خصوصاً شریف برادران کو ٹکا کر گالیاں دے لیتا ہے، بدزبانی کی انتہا کردیتا ہے، اور ساتھ خان صاحب کے قصیدے بھی گا لیتا ہے، تو اُس کی یہ ”اعلیٰ ترین کارکردگی“ اُسے بطور وزیر مشیر برقرار رکھنے کے لیے کافی ہے،.... اِس پس منظر میں آج کل صرف ایک ہی کام ہورہا ہے ہمارے حکمران، اپوزیشن کو گالیاں وغیرہ دے کر ایمان کی حدتک اِس یقین میں مبتلا ہو چکے ہیں اگلے الیکشن میں وہ اپنی صرف اِسی ”کارکردگی“ کی بنیاد پر دوتہائی اکثریت بغیر کسی سہارے اور بیساکھیوں کے ہی حاصل کرلیں گے، .... سو اِن حالات میں جبکہ حکمرانوں کی ”ترجیحات“ صرف اور صرف اپنی کمزور حکومت بچانا اور اپوزیشنی سیاستدانوں سے لڑائی جھگڑا کرنا ہے چودھری عبدالرحمان کو شعبہ صحت کے حوالے سے مسائل کم کرنے یا ختم کروانے کے لیے اپنی ہمت سے زیادہ جدوجہد کرنا پڑے گی، ....” پامی“ کا صدر منتخب ہونے کے فوراً بعد اپنی پہلی بڑی پریس کانفرنس میں حکمرانوں کو مسائل حل نہ ہونے کی صورت میں جو ”وارننگ“ اُنہوں نے دی وہ بالکل جائز ہے، بدقسمتی سے پاکستان اب ایسا ملک ہے ، یا یوں کہہ لیجئے اِس کی شناخت اب ایک ایسے ملک کے طورپر ہے جہاں اپنے حقوق کے لیے باقاعدہ لڑنا پڑتا ہے، قربانیاں دینا پڑتی ہیں، احتجاج کرنے پڑتے ہیں، یہ محاورہ ”جب تک بچہ روتا نہیں ماں بھی اُسے دودھ نہیں پلاتی“ کسی نے ایسے ہی نہیں بنایا، .... یہاں بات ”بچوں“ کی نہیں اُن ”بڑوں“ کی ہے جو بچے بنے ہوئے ہیں، البتہ ایک اعتبار سے وہ ”بچے“ نہیں کہ بچے آپس میں لڑتے ہیں تو بہت جلد راضی ہو جاتے ہیں، جبکہ اِس ملک کے ”بڑوں“ کی لڑائی نے ملک توڑدیا، اور جو بچا کھچا ہے اُسے کمزور کرنے کے درپے ہیں، .... وزارت عظمیٰ کا حلف اُٹھانے سے دوروز قبل خان صاحب کی خدمت میں جو چند گزارشات بہت زور دے کر میں نے کیں، ایک گزارش اُن میں یہ بھی تھی” اپوزیشن خصوصاً اِس ملک کی اصل قوتوں کی اپوزیشن کو گالیاں وغیرہ دے کر، یا دھرنے وغیرہ دے کر جونتائج یا فوائد آپ کو حاصل ہونے تھے، ہوچکے .... اب آپ اپوزیشن کو بھول کر صرف تین شعبوں پر توجہ دے کر ایسے شاندار نتائج حاصل کرسکتے ہیں اگلے الیکشن میں اِس ملک کی اصلی قوتوں کے سہارے کے بغیر ایسے مقام پر پہنچ جائیں گے جہاں کوئی وزیراعظم اب تک نہیں پہنچ سکا، .... میں نے اُن سے کہا وزارت عظمیٰ کا حلف اُٹھاتے ہی آپ ہنگامی بنیادوں پر صرف تین شعبوں صحت، تعلیم، انصاف ٹھیک کرنے کا بیڑا اُٹھا لیں“ ،اُنہوں نے میری اس بات سے نہ صرف اتفاق کیا بلکہ مجھ سے وعدہ بھی کیا ایسا ہی ہوگا، .... اب میں سوچتا ہوں اُنہوں نے ”بیڑا اُٹھانے“ کو کہیں ” بیڑا غرق کرنا “ نہ سمجھ لیا ہو، افسوس ذاتی طورپر میرے ساتھ ملک وقوم کے مفاد میں کیا گیا کوئی وعدہ اُنہوں نے پورا کیا نہ اپنے طورپر الیکشن میں جو وعدے لوگوں سے کرکے وہ آئے تھے وہ پورے کئے، پتہ نہیں کب تک اپوزیشن کو وہ چورڈاکو، چورڈاکو کہہ کہہ کر اپنی نااہلیوں اور حماقتوں پر پردہ ڈالتے رہیں گے؟ یا کب تک وہ اپوزیشن کو ”این آراو نہیں دوں گا“ کے بلند وبانگ دعوے کی آڑ میں اپنا بچاﺅ کرتے رہیں گے؟۔....باقی چیزوں کو تو ایک طرف رکھیں، دوائیاں مہنگی ہوگئی ہیں لوگوں کا جینا مشکل مرنا آسان ہوگیا ہے، کاش اِس ملک میں ہرکسی کے پاس کوئی نہ کوئی جہانگیر ترین ہوتا جو کوئی خرچا ہی نہ ہونے دیتا۔ (جاری ہے)


ای پیپر