چھٹی کی گھنٹی کا انتظار
06 اکتوبر 2019 2019-10-06

مولانا فضل الرحمان کے تیور بگڑے ہوئے ہیں بگڑے بگڑے میری سرکار نظر آتے ہیں۔ انہوں نے عواقب و نتائج کی پروا کیے بغیر آزادی مارچ’’ پلس‘‘ کی تاریخ کا اعلان کردیا پلس اس لیے کہ اس میں لانگ مارچ اور دھرنا بھی شامل ہوگا۔ کہنے لگے 27 اکتوبر کو آزادی مارچ کریں گے اور حکومت گھر نہ گئی تو گھر کے سامنے بستر لگا کر بیٹھ جائیں گے۔ ہمارا جمہوری حق ہے ’’بیٹھے ہیں رہگزر پہ ہم کوئی ہمیں اٹھائے کیوں‘‘ لاک ڈائون کا اعلان ہوتے ہی کھلبلی مچ گئی۔ طویل ترین دھرنا دینے والوں کو طویل ترین دھرنے کا سامنا ہے۔ جیسے کو تیسا، سیر کو سوا سیر، نہلے پہ دہلا، 16 مشیر اور کم و بیش اتنے ہی وزیر مخالفت کے لیے میدان میں اتار دیے گئے ،کہا فضل الرحمان اپنی ڈوبتی کشتی بچا رہے ہیں۔ وزیر مشیر مولانا کے سیاسی مقاصد قوم پر عیاں کریں مولانا کا کہنا ہے کہ ’’نائو پانی میں رہے نائو میں پانی نہ رہے‘‘ قوم کی کشتی میں چھید کر دیے گئے۔ پانی بھر گیا، نائو بچانے کے لیے ہی تو لانگ مارچ کرنے جا رہے ہیں کسی نے کہا سارے وزیر مشیر مسئلے مسائل بھول کر ادھر لگ گئے ’’کیا اپنی بربادی کے آثار نظر آتے ہیں؟‘‘ ایک وزیر نے پیشکش کی کہ مولانا آئیں کنٹینر دیں گے حلوہ بھی دیں گے، دوسرے بولے ایسا بٹھائیں گے کہ اٹھنے کے قابل نہیں رہیں گے۔ اڈیالہ جیل میں ایکسرسائز مشین رکھوا رہے ہیں وزیر اعلیٰ بولے خیبر پختونخوا سے کسی کو نکلنے ہی نہیں دیں گے تو اسلام آباد کون جائے گا۔ وزیر داخلہ نے دھمکی دی ریڈ زون میں کسی کو داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ آخری آپشن فوج ہوگی۔ ریڈ زون میں دفعہ 144 نافذ ہے۔ آزادی مارچ روکنے کی پہلی ذمہ داری صوبوں کی ہے اسلام آباد آئے تو ہم دیکھیں گے، سب سے زیادہ پریشان شیخ رشید ہیں کہنے کو وزیر ریلوے لیکن درحقیقت سرکاری ترجمانی کے فرائض انجام دے رہے ہیں ٹرینیں تاخیر سے آ جا رہی ہیں انہیں کوئی پرواہ نہیں، مال گاڑی کا افتتاح کرنے آئے مولانا کے پیچھے پڑ گئے ڈینگی سے ڈرانے لگے اسلام آباد مت آنا ڈینگی کاٹ لے گا کیا اسلام آباد میں ڈینگی رہتے ہیں۔ ایک صاحب نے کہا مال گاڑی کا آج تک کسی نے افتتاح نہیں کیا بس ’’بات کرنے کو بہانہ چاہیے‘‘ فیتہ کاٹتے ہی مولانا پر برس پڑے شیخ رشید کو جانے اتنی فکر کیوں ہے۔ 126 دن بیٹھنے والوں کو کسی ڈینگی نے نہیں کاٹا تو مولانا کو کیوں کاٹیں گے۔ ویسے بھی دینی مدرسوں کے دس پندرہ لاکھ طلبہ نے شاہراہ دستور پر بستر لگا لیے تو وفاقی دارالحکومت پر اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں گی۔ ناچ گانے نہیں ہوں گے۔ اللہ رسول کا ذکر ہوگا۔ طلبہ اور مظاہرین پانچ وقت نماز با جماعت ادا کریں گے۔ تلاوت کریں گے درس حدیث ہوں گے قال قال رسول اللہ کی آوازیں بلند ہوں گی۔ حکومت کو تو وعدے کے مطابق چائے پانی اور کھانے پینے کا انتظام کرنا چاہیے لیکن شاید چودھری نثار جیسا میزبان مولانا کو نہ مل سکے۔ بڑا دل گردہ چاہیے یہاں تو ابھی سے انتظامات شروع ہوگئے ہیں۔ مولانا نے کہا کہ دو بم پروف کنٹینر تیار کرلیے گئے۔ شنید ہے کہ 15 ہزار سیکیورٹی گارڈ 13 اکتوبر کو فلیگ مارچ کریں گے عوام کے لیے احساس پروگرام تاکہ انہیں اپنی غربت کا احساس رہے جبکہ مولانا کے لیے حساس پروگرام، جانے نہ پائیں بلکہ آنے نہ پائیں۔ یہ سب کچھ تو ہوتا رہے گا ہونی کو کون روک سکتا ہے۔ لیکن ذہنوں میں سوال اٹھنے لگے ہیں۔ سوشل میڈیا پر سے کشمیر غائب لاک ڈائون، ٹاپ ٹرینڈ بن گیا ہے لوگ پوچھنے لگے ہیں کہ مولانا کو ایسی کیا جلدی ہے کہ انہوں نے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کا مشورہ بھی نہیں مانا، چھٹی کی گھنٹی بجی نہیں، بیگ اٹھا کے چل دیے۔ گھنٹی کا انتظار تو کرلیتے۔ ن لیگ نے نومبر اور بلاول نے دسمبر کا مہینہ اہم قرار دیا تھا۔ دونوں بڑی پارٹیاں منقسم اور محتاط نظر آئیں۔ ضمانت کی طلبگار، حالات کی اونچ نیچ کی منتظر اعلانات میں ہچکچاہٹ، لہجوں میں خواجہ آصف کی سی ہکلاہٹ ،کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔ دونوں کے بڑے لیڈر اور قائد جیلوں میں بڑے مطمئن، وکلا کو ضمانتوں کی درخواستیں دینے سے روک دیا ،کیا چھٹی کی گھنٹی بجنے والی ہے؟ کسی نے کان میں پھونک دیا کہ فلاں شخص جو گھنٹی بجانے والوں کا منظور نظر ہے وہاں سے کٹ کر پیپلز پارٹی میں آنے والا ہے۔ سر منہ چومنا گلے سے لگانا اس کے آتے ہی آپ بھی قابل قبول ہوجائیں گے۔ پیپلز پارٹی فوراً اِدھر نہ اُدھر کی پالیسی پر گامزن ہوگئی۔ ن لیگ نواز شریف اور مریم نواز کے اچھے دنوں کی منتظر، شہباز شریف کسی کو بھی اتنا برگشتہ اور ناراض نہیں کرنا چاہتے کہ حالات بے قابو ہوجائیں۔ نواز شریف چلمن سے لگے بیٹھے ہیں حالات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ مولانا نے دونوں پارٹیوں کے رہنمائوں سے ملاقاتیں کیں اور مثبت جواب نہ پا کر 27 اکتوبر کی تاریخ دے دی، واپسی پر غصہ میں بولے۔

تم حادثات کے ڈر سے گھروں میں بیٹھے ہو

تمہیں خبر ہے کہ گھر میں بھی موت آتی ہے

مولانا اکیلے کھیلیں گے، کھیل چل پڑا تو باقی پارٹیاں بھی کھیل کا حصہ بن جائیں گی۔ مولانا اس بات پر حیران ہیں کہ قومی اسمبلی ان کے بغیر کیسے چل رہی ہے۔ سچ پوچھیے تو جیسے چل رہی ہے اس پر خوش بھی ہیں اپنی ہار پر پریشان ہیں اور ہرانے والوں سے بدلے کے خواہاں، پریشانی یہ بھی ہے کہ یار لوگوں نے سیاست سے باہر کردیا۔ سیاست نہ کریں تو کیا کریں۔ بقول غلام محمد قاصر(تھوڑی سی ترمیم پر معذرت) کروں گا کیا جو ’’سیاست‘‘ میں ہو گیا ناکام، مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیںآ تا‘‘ کچھ تو کریں گے حکومت کو دھمکا رہے ہیں دہلا رہے ہیں۔ پتا نہیں حکومت دہل رہی ہے یا نہیں۔ وزیر داخلہ کی تبدیلی کی افواہیں گرم تھیں اور کون ہوگا جو عرفان صدیقی جیسے بزرگ کالم نویس، استاد پروفیسر کو ہتھکڑیاں لگا کر اڈیالہ جیل پہنچا دے جن کا نام لیا جا رہا ہے وہ کم از کم مولانا کو ہتھکڑیاں نہیں لگائیں گے۔ حکومت اب تک اتنی منقسم اور کمزور اپوزیشن سے انتہائی خوش اور مطمئن تھی جو صرف ’’تڑیاں‘‘ دیتی ہے بال بیکا نہیں کرسکتی، وزیر اعظم کے انتخاب میں منقسم، چیئرمین سینیٹ کیخلاف تحریک عدم اعتماد میں بغاوت یا خرید و فروخت، بجٹ کی منظوری کے دوران خواب خرگوش میں مست، دم مست قلندر، موجودہ حکومت کو ایسی ہی اپوزیشن چاہیے مولانا کہاں سے برآمد ہوگئے ابھی چھٹی کی گھنٹی نہیں بجی۔ انگلی اٹھنے کا رواج نہیں رہا اب گھنٹی بجے گی اور چھٹی ، گھنٹی کیوں نہیں بجی سوال ایک جواب دو، پہلا جواب ابھی وقت نہیں آیا۔ جب آئے گا تو گرین سگنل دے دیا جائے گا۔ پھر ن لیگ اور پیپلز پارٹی دونوں کی آنیاں جانیاں قابل دید اور قابل داد ہوں گی۔ دوسرا جواب پارہ تیزی سے نیچے گر رہا ہے۔ نقطہ انجماد پر پہنچا تو پھٹ پڑے گا پھٹ پڑا تو کس کے قابو میں رہے گا، کسی نے نہیں سوچا، سوچنے کی نیت ہے نہ فرصت، کندھے نازک بوجھ زیادہ، اس سے پہلے کبھی اتنا بوجھ نہیں اٹھایا۔ کندھے شل ہوگئے بقول غالب ’’نہ بھاگا جائے ہے مجھ سے نہ ٹھہرا جائے ہے مجھ سے‘‘ اتنے بکھیڑوں کے بعد اتنی فرصت کہاں کہ کسی بھلے اور عقلمند شخص سے بات کی جاسکے۔ آخری سوال کیا لانگ مارچ لاک ڈائون یا دھرنے سے حکومت چلی جائے گی۔ لگدا تے نئیں پر شاید، حکومتیں ایک آدھ لانگ مارچ سے نہیں جاتیں۔ رخصتی کے دیگر عوامل بھی ہوتے ہیں۔ لاک ڈائون صرف مدد دیتے ہیں حکومت مضبوط حصار میں ہے جنوں بھوتوں سے محفوظ، ہاتھ میں ہر وقت تسبیح خالی از علت نہیں ہے۔ کچھ دیر لگے گی جب چاروں اطراف میں سے کسی ایک طرف سے یلغار ہوجائیگی، مظاہرین کے سلسلے میں بھی محتاط رہنا ہوگا۔ تشدد سے رخ لاشوں کی سیاست کی طرف مڑ جائے گا۔ جوخطرناک ہوگا ایک ساتھی نے عجیب بات بتائی کہا کہ ویسے تو اسلام آباد میں چرندے درندے سڑکوںپر گھومتے رہتے ہیں خوش الحان پرندے مشکل سے نظر آتے ہیں وہ بھی مہر بلب، اشاروں کنایوں میں باتیں، وہی سمجھتے ہیں جو صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان ہی طیور خوش الحان کی زبانی خبریں مل رہی ہیں کہ شاید 27 اکتوبر کی نوبت نہ آئے مولانا نہ آئیں یا ان کے آنے کی ضرورت نہ پڑے۔ کان چھٹی کی گھنٹی پر لگے ہیں۔ موبائل فونز پر رنگ ٹون چل رہی ہے۔ ’’الٰہی میں ان سے پناہ مانگتا ہوں‘‘ جو مہنگائی میں اضافے، معیشت کی تباہی اور لوٹی ہوئی دولت بیرون ملک سے واپس نہ لانے کا اعتراف کر رہے ہیں۔ بقول احمد فراز ’’دہلیز کو چوم کے چھوڑ دیا دیکھا جو یہ پتھر بھاری ہے‘‘۔


ای پیپر