ٹرمپ اپنا ثالثی کا وعد ہ پو را کر یں
06 اکتوبر 2019 2019-10-06

دنیا کی تا ر یخ شا ہد ہے کہ کسی بھی دو ملکو ں کے در میا ن متنا ز عہ علا قے کا حل دو ہی صو ر تو ں میں ممکن ر ہا ہے۔ اور وہ ہیں جنگ یا مذ ا کر ا ت ۔ مقبو ضہ کشمیر کا مسئلہ اب جس نہج پہ پہنچ چکا ہے کہ وہ انہی دو صو ر تو ں میں سے کسی ایک کے سا تھ دو چار ہے۔ ا گر ہم جذ با ت سے با لا تر ہو کر عقل و فہم کی رو شنی میں سو چیں تو جنگ اس مسئلے کا حل اس لیئے نہیں ہے کہ دو نو ں ملک، پا کستا ن اور بھا رت ا یٹمی قو ت ہیں۔ گو یا جنگ کی صو ر ت میں جو تبا ہی ہو گی، اور لاکھو ںکر و ڑو ں کی تعدا د میں جسقدر معصو م اور بے قصو ر ز ند گیو ں کا خا تمہ ہو جا ئے گا، اس کا اسو قت تصو ر بھی نہیں کیا جا سکتا۔ لہذا دو سری صو ر ت یعنی مذ اکر ا ت کی آ پشن پہ ہی غو ر کیا جا سکتا ہے۔ مگر یہا ں بھی کیا کیجئے کہ بھا ر ت کے سر بر اہِ مملکت نر یند را دمو در داس مو دی مذ ا کر ا ت کی میز پہ آ نے کو تیا ر نہیں۔ اس صو ر ت میں جو حل با قی رہ جا تا ہے، وہ کسی تیسر ے با ا ثر ملک کو بیچ میں ڈ ال کر اس سے دو نو ں مما لک پہ دبا ئو ڈا ل کر انہیں مذ اکر ا ت کی میز پر پہنچا کر مسئلے کے حتمی حل تک پہنچ جا نے کا طر یقہ با قی بچتا ہے۔ پا کستا ن نے اسی آ پشن کا استعما ل کر نے کی غر ض سے اپنے جو لا ئی والے دو رہِ امر یکہ کے دو را ن امر یکہ صد ر ڈو نلڈ ٹر مپ سے جب بات کی تو صد ر ٹر مپ نے نہ صر ف خو د سے ثا لثی کی پیشکش کی ، بلکہ یہ بھی انکشا ف کیا کہ مو دی خو د ان سے ثا لثی کر نے کی اپیل کر چکے ہیں۔ اگر وا قعی ایسا تھا تو ٹر مپ کا کیا اب مو دی سے پو چھنا نہیں بنتا کہ وہ انہیں آ گے کر کے خو د کس طو ر پیچھے ہٹ سکتے ہیں؟با ت کو آ گے بڑ ھا تے ہو ئے عر ض کر تا ہو ں کہ ہما رے وزیر اعظم عمران خان نے امریکہ کے دورے کے دران غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے عالمی برادری مداخلت کرے۔ مودی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیاں چھپانا چاہتا ہے، اس لیے ثالثی سے انکاری ہے۔ اس وقت انتہا پسند آر ایس ایس بھارت پر حکومت کررہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں جو کچھ ہورہا ہے وہ بہت تشویش ناک ہے۔ جانوروں کو بھی 60 دن قید کردیں تو دنیا رد عمل دے گی۔ بھارت نے 80 لاکھ لوگوں کو مقبوضہ وادی میں قید کردیا ہے۔ ایسا ہولناک لاک ڈائون حالیہ تاریخ میں کہیں نہیں ہوا۔ مقبوضہ کشمیر کی صورت حال سے دنیا کے بڑے لیڈران کو آگاہ کردیا ہے، بھارت کشمیریوں سے جو سلو ک کر رہا ہے،وہ کوئی بھی انسانوں سے کیسے کرسکتا ہے؟ دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے نام پر کشمیریوں کو روندا جارہا ہے۔ ادھر امریکی نیوز چینل سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ دنیا مقبوضہ کشمیر کی کشیدہ صورتحال کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ وہاں جو ہورہا ہے وہ بد سے بدتر ہوتا جائے گا۔ یہ انتہائی خطرناک ہے۔ جب کرفیو ہٹے گا تو وادی کے حالات کھل کر دنیا کے سامنے آجائیں گے۔ بھارتی فورسز اور کشمیریوں کے درمیان تصادم ہوگا۔ مجھے خطرہ ہے کہ بھارتی فورسز کے ہاتھوں بڑے پیمانے پر کشمیریوں کا قتل عام ہوگا۔ اسے مظلوم کشمیریوں کا بلڈ باتھ قرار دیا جارہا ہے۔ اگر حالات اس نہج پر پہنچ گئے اور مزید بگڑ گئے تو نہ میرے اور نہ امریکی صدر ہی کے قابو میں آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہی مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ثالثی کی گئی تو دنیا کو معلوم ہوجائے گا کہ کشمیری خود ارادیت سے محروم ہیں۔

مگر اس کا ردِ عمل مقبو ضہ وا دی میں یہ ہو کہ وہاں کی انتظامیہ نے لوگوں کو مظاہروں سے روکنے کے لیے سری نگر میں پابندیاں مزید سخت کردیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائیوں کے دوران گاندر بل اور رام بن کے اضلاع میں مزید 7 کشمیری نوجوان شہید کردیئے۔ اس طرح شہید کیے جانے والے معصوم کشمیری نوجوانوں کو ضلع گاندر بل کے علاقے نارہ ناگ جبکہ دیگر تین کو جموں خطے میں ضلع رمبان کے علاقے بٹوٹ میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران شہید کیا۔ بھارت کی سب سے زیادہ ظالمانہ کارروائیوں میں بے گناہ کشمیریوں کے گھروں میں کسی نہ کسی بہانے سے چھاپہ مار کر نوجوانوں کو حراست میں لے لینا جن کا بعد میں کوئی سراغ ہی نہیں ملتاکہ انہیں زمین کھا گئی یا آسمان نے نگل لیا۔ بے بس والدین در در کی ٹھوکریں کھاتے رہتے ہیں مگر انہیں اپنے جگر کے ٹکڑوں کا کوئی سراغ نہیں ملتا اور ان کی اپنی زندگی ویران ہوجاتی ہے۔ ایسے نوجوانوں کی مسخ شدہ لاشیں مل جاتی ہیں یا وہ تشدد سے زندگی بھر کے لیے معذور ہوجاتے ہیں۔ بھارتی فوج نے ایک مسافر بس کے اغوا کا ڈرامہ رچا کر ضلع گاندر بل میں داخلی و خارجی راستوں کو بند کرکے نام نہاد سرچ آپریشن کیا اور چادر و چار دیواری کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے گھر گھر تلاشی کے دوران بنیادی انسانی حقوق کی سنگین پامالی کی اور تین نوجوانوں کو شہید کردیا۔ بھارتی فوجیوں کا طریقہ واردات ہی یہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پابندیوں کے باعث دو ما ہ سے ز یا دہ عر صہ گذ رنے کے بعد بھی نظام زندگی مفلوج ہے ۔ رہا اور دکانیں، کاروباری مراکز اور تعلیمی ادارے بند جبکہ سڑکوں پر ٹریفک کی آمد و رفت معطل ہے ۔مقبو ضہ وادی کشمیر اور جموں خطے کے مسلم اکثریتی علاقوں میں موبائل فون، انٹرنیٹ سروسز اور ٹیلی ویژن نشریات مسلسل بند ہیں جس سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ سرکاری سکولوں کے ساتھ ساتھ نجی تعلیمی ادارے بھی پانچ اگست سے بند ہیں اور اساتذہ تنخواہوں سے محروم ہیں۔ بھارتی قبضے اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتم کے خلاف ڈوڈہ، بھدرواہ اور کشتواڑ میں مکمل ہڑتال کی گئی اور یہ سلسلہ مسلسل جاری ہے۔

بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں بھی لوگوں کی بڑی تعداد نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کے خلاف احتجاجی مارچ کرتے ہوئے بھارت سے علاقے میں پابندیاں اور مواصلاتی نظام کی معطلی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے کشمیر کا کیس بھرپور طریقے سے پیش کرنے کے بعد ملائشیا اور چین نے بھی مظلوم کشمیریوں کے حق میں کلمہ حق بلند کردیا اور بھارت پر زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کو پر امن طور پر حل کرنے کے لیے پاکستان سے مذاکرات کا آغاز کیا جائے۔ چین اور ملائیشیا قبل ازیں بھی کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرچکے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے دوران نہ صرف مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا بلکہ فلسطین سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں اور یورپ میں پھیلے اسلاموفوبیا پر بھی سیر حاصل بات کی اور اسلام کے بارے میں پھیلائے گئے دہشت گردی کے نظریات کی بھرپور نفی کی۔ یہ وقت کی ضرورت ہے کہ اہل یورپ کو حقائق سے آگاہ کیا جائے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اقوام متحدہ اور عالمی طاقتیں مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کیا کردار ادا کرتی ہیں۔ اگر انہوں نے روایتی بے حسی اور منافقت کا مظاہرہ جاری رکھا تو ان کا یہ عمل جنوبی ایشیا کی سلامتی اور بقا کے لیے خطرے کا پیش خیمہ ثابت ہوگا جس کا ذکر وزیر اعظم عمران خان نے بھی اپنی تقریر میں کیا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ثالثی کے بیانات تک محدود رہنے کے بجائے آگے بڑھتے ہوئے مسئلہ کشمیر پر اپنا کردار ادا کریں۔ صد ر ٹر مپ کو یا د ہو گا کہ ثا لثی کا وعد ہ انہو ں نے خو د کیا تھا ۔ اب دنیا کی سب سے بڑ ی طا قت کا سر بر ا ہ ہو نے کے نا طے ان کا فر ض بنتا ہے کہ وہ اپنے وعد ے کو نبا ہیں۔ مو دی کو یا د دلا ئیں کہ ثا لثی کی اپیل پہلے اس نے خو د کی تھی۔ بھارت کو مجبور کر یں کہ وہ پاکستان کے ساتھ جامع مذاکرات کا سلسلہ بحال کرے۔ ان مذاکرات میں تنازعہ کشمیر کو اولیت دی جائے۔ اگر تنازعہ کشمیر پر ڈو نلڈ ٹرمپ اپنا کردار ادا کر دیں تو اسے حل کرنا مشکل نہیں ہے۔ تنازعہ کشمیر حل ہوگیا تو پاک بھارت دیگر تنازعات خودبخود حل ہوجائیں گے اور جنوبی ایشیا تعمیر و ترقی کی راہ پر گامزن ہوجائیگا۔


ای پیپر