تیلی، بادشاہ سلامت اور زندگی کی خفگی
06 اکتوبر 2019 2019-10-06

کسی بادشاہ نے ایک تیلی (تیل بیچنے والا) سے دریافت کیا کہ ایک من تلوں سے کتنا تیل نکلتا ہے؟ تیلی نے کہا دس سیر۔ پھر پوچھا دس سیر میں سے؟ تیلی نے کہا اڑھائی سیر۔

بادشاہ نے پوچھا، اڑھائی سیر میں سے؟ تیلی نے کہا اڑھائی پاؤ۔

سلسلہ سوالات کے آخر میں!

بادشاہ نے پوچھا، ایک تل میں سے کتنا تیل نکل سکتا ہے؟

تیلی نے جواب دیا کہ جس سے ناخن کا سرا تر ہو سکے۔

کاروبار دنیوی میں تیلی کی اس ہوشیاری سے بادشاہ بہت خوش ہوا اور کہا کہ علم دین سے بھی کچھ واقفیت ہے؟ ’’تیلی نے کہا نہیں‘‘… بادشاہ نے ناراض ہو کر کہا ’’دنیاوی کاروبار میں اس قدر ہوشیار اور علم دین سے بالکل سے خبری‘‘۔ اس کو قید خانہ میں لے جاؤ۔ جب تیلی کو قید خانے میں لے جانے لگے، تو تیلی کا لڑکا بادشاہ کی خدمت میں عرض کرنے لگا۔ میرے باپ کے جرم سے مجھے مطلع فرمائیں: تو کرم شاہانہ سے بعید نہ ہو گا۔

بادشاہ نے کہا ’’تیرا باپ اپنے کاروبار میں تو اس قدر ہوشیار ہے لیکن علم دین سے بالکل بے بہرہ ہے۔ اس لیے اس کی غفلت کی سزا میں اس کو قید خانے بھیجا جاتا ہے‘‘۔

تیلی کے لڑکے نے دست بستہ عرض کی ’’حضور! یہ قصور اس کے باپ کا ہے جس نے اس کو تعلیم سے بے بہرہ رکھا‘‘ نہ کہ میرے باپ کا؟

میرے باپ کا قصور اس حالت میں قابل مواخذہ ہوتا اگر وہ مجھے تعلیم نہ دلاتا لیکن میرا باپ مجھے تعلیم دلا رہا ہے۔ باقی حضور کا اختیار ہے‘‘۔

بادشاہ لڑکے کے اس جواب سے بہت خوش ہوا اور کہا ’’تمہاری تھوڑی سی تعلیم نے نہ صرف تمہارے باپ کو مصیبت قید سے چھڑا لیا بلکہ تم کو بھی مستحق انعام ٹھہرایا‘‘۔

چنانچہ بادشاہ نے تیلی کو رہا کر دیا اور اس کے لڑکے کو معقول انعام دے کر رخصت کیا۔

بادشاہ سلامت ! آپ جرم ضعیفی کی سزا ہمیں نہ دیں۔ ہماری نسل نو کو نہ دیں ۔اگر ہمارے بزرگ، ہمارے آباء و اجداد ایک الگ ملک کی خاطر قربانیاں دے گئے ہیں اور اپنی عزتوں، عصمتوں کو قربان کر گئے ہیں تو وہ کوئی قصور اور غلطی نہیں کر گئے۔ وہ آپ اور آپ کے خاندانوں کو عزت اور شرف بخش کر گئے ہیں۔ وہ آپ (وزیروں ، مشیروں، افسران بالا) کو چار چاند لگا گئے ہیں اور آپ کو آزادی کی دولت سے مالا مال کر گئے ہیں۔ آپ بے گھروں کو گھر والا کر گئے ہیں۔ آپ کی نسل کو سنوار گئے ہیں۔ مگر بادشاہ سلامت ! ہمارا اور ہماری نسلوں کا ذمہ دار کون ہے؟ ان کی تعلیمی ، اخلاقی، مذہبی اور معاشی ذمہ داری کس کے سر جاتی ہے؟ بادشاہ سلامت ! ہمارے غریب بچے مہنگے سکولوں میں نہیں جا سکتے؟ ہمارے بچے مہنگے ڈاکٹروں کے پاس نہیں جا سکتے۔ ہمارے بچوں کو ہمیں دودھ، چینی، چاول، اشیائے خورو نوش ملاوٹ زدہ ملتے ہیں۔ ہمیں مردہ جانوروں کی ہڈیوں اور چربی سے نکالا ہوا خوردنی آئل ملتا ہے۔ ہمارے نہانے والے صابن میں بھی چربی کی ملاوٹ ہوتی ہے۔ ہمیں ادویات بھی جعلی ملتی ہیں۔ بادشاہ سلامت ! ہم مسلمان نہیں۔ ہمارا دین اسلام ہے۔ ہم توحید اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم نبیؐ کو آخری نبی مانتے ہیں۔ ہم فرشتوں پر بھی کامل ایمان رکھتے ہیں۔ مگر بادشاہ سلامت بقول بابا فرید الدین شکرؒ چھٹا رکن ’’ٹک‘‘ (روٹی) ہے۔ ہمیں مردہ جانوروں کا گوشت کھلایا جاتا ہے۔ فاسٹ فوڈ میں مردہ برائلر مرغیاں استعمال کی جاتی ہیں۔ ہمیں بیمار جانور اور گدھے تک کھلائے جاتے ہیں۔ بادشاہ سلامت ! ہمارے معصوم بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی ہوتی ہے۔ معصوم بچوں کو قتل کر کے سپرد آب اور سپرد زمین کر دیا جاتا ہے۔ بادشاہ سلامت ہمیں کھانے کو روٹی نہیں ملتی۔ ہمارے بچے بھوک اور پیاس سے بلکنے لگتے ہیں تو پھر ہم چوری، ڈاکہ، راہ زنی، رشوت خوری یہاں تک کہ عصمت فروشی پر اتر آتے ہیں۔ ہم اخلاقی ، سماجی اور مذہبی بے روا روی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بادشاہ سلامت امیر المومین سیدنا علی المرتضیٰؓ نے فرمایا تھا کہ اگر کوئی شخص اپنی بھوک مٹانے کے لیے روٹی چوری کرے تو چور کے ہاتھ کاٹنے کی بجائے بادشاہ کے ہاتھ کاٹے جائیں۔

بادشاہ سلامت ! صرف اتنا تو بتا دیں کہ بھوک، افلاس، ننگ ہمارا مقدر کیوں ہے؟

بادشاہ سلامت ! آپ نے تو ہماری امیدوں کے چراغ جلانے تھے؟ ہمارے اندھیروں کو روشنی میں تبدیل کرنا تھا۔ ہماری اندھیر نگری کو روشن آباد بناتا تھا؟ بادشاہ سلامت آپ کی تقریر سے روح تو نہال ہو گئی مگر پیٹ نہیں بھرا… بقول ناصر بشیر

کہاں ہیں خواب ہمارے؟ کہاں ہیں تعبیریں

سنائیں آپ کو ہم آپ ہی کی تقریریں

بادشاہ سلامت ! زندگی مجبوریوں، بے بسیوں اور لاقانونیت کے ہاتھوں اکتا گئی ہے۔ سال ہا سال سے مہنگائی، لاچاری، بے بسی، محرومیوں کی ’’پنجابی‘‘ ہماری گردنوں سے اتر نہیں رہی ہے۔ زندگی کا رنگ ڈھنگ اور فریم ورک ابھی معرض وجود میں نہیں آ سکا۔ انسان رویوں میں دراڑیں آ چکی ہیں۔ بے چینی کا دور دورہ ہے۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس محاورے سے نکل کر عملی زندگی میں اتر چکی ہے۔ بلکہ اپنی آمریت مستحکم کر چکی ہے۔ مادہ پرستی کی دوڑ میں آگے نکل چکے ہیں۔ ہمارے نسل نو کے لیے کوئی رول ماڈل نہیں ہے۔ کوئی مذہب کا عملی مجسمہ نہیں ہے۔ سیاست اور جمہوریت کی بیل منڈھے نہیں چڑھ رہی ہے۔

بادشاہ سلامت ! ہماری نسل کو تیلی کے بیٹے جیسا عقل مند اور دانا ہونا چاہیے۔

بادشاہ سلامت ! اگر ہمارے آباء و اجداد کو کچھ نہیں ملا اور ہم بھی ایسی ہی صورت حال کا شکار ہیں مگر ہماری نسل کو بہترین انسان اور مسلمان ہونا چاہیے۔ اگر ایسا نہ ہو سکا تو آپ کے بارے میں ایسا کہنا بعید نہ ہو گا بقول

وہی رات ہے، وہی رات ہے، وہی اداسی ہے

خوشی ہے دور کہیں، زندگی خفا کی سی ہے


ای پیپر