ریاستِ مدینہ میں نابینا افراد کے ساتھ سلوک
06 اکتوبر 2019 2019-10-06

حضرت عبداللہ ابن ِمکتوم ؓ کے والد کانام قیس ابن زید اوروالدہ کا نام عتیقہ بنت عبداللہ تھا ۔آپؓ پیدائشی نابینا تھے اور پہلے پہل مسلمان ہونے والوں میں ان کا نام آتا ہے۔نبی کریمﷺ حضرت عبداللہ ؓابن ِمکتوم سے بہت محبت کرتے تھے۔اس محبت کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جا سکتا ہے کہ نبی کریمؐ نے ہجرت سے قبل عبدااللہ ابن ِ مکتوم کو معروف صحابی مصعب بن عمیرؓ کے ہمراہ مدینہ شریف میں قرآن شریف پڑھانے کے لیے بھی بھیجا۔تاریخ میں آتا ہے کہ نبی کریمؐجب کبھی جہادکی غرض سے مدینہ سے باہر جاتے تو کئی دفعہ حضرت عبداللہ ؓابن ِ مکتوم کو اپنی جگہ امامت کا کہہ کر جاتے اور بعض کتب میں اس کی تعداد تیرہ دفعہ درج ہے یعنی نبی کریمؐ نے تیرہ (13)مرتبہ اپنی جگہ پر عبداللہ ابن مکتوم کو امامت کافریضہ سونپا۔ایک دفعہ نبی کریمؐ سردارانِ قریش کو تبلیغ کر رہے تھے کہ یہ نابینا صحابی محفل میں پہنچے اور نبی کریمؐ سے بات کرنا چاہی جس کی وجہ سے نبی کریمؐ کے چہرے پہ معمولی سی ناگواری کے آثار نمودار ہوئے۔اسی وقت سورۃ عبس کی ابتدائی دس آیات نازل ہوئیں جن کا مفہوم تھاکہ اے نبیؐ آپ ان جاہلوں یعنی سردارانِ قریش کی بجائے (جو منہ بنا رہے ہیں)اس صحابیؓ کی جانب متوجہ ہوتے جو دل میں اللہ کا خوف لے کر آئے تھے کیونکہ یہ نابینا صحابیؓ ان جاہلوںسے ہزار درجے بہتر ہیں۔یہ صحابی ؓ قادسیہ کے میدان میں اسلام کا پرچم تھامے جہاد کے دوران جامِ شہادت نوش فرما گئے۔

مجھے آج یہ واقعات اور سورۃ عبس کی ان آیات کا ترجمہ رہ رہ کر یاد آ رہا ہے کیونکہ مجھے دوروز قبل نابینا افراد کا ایک وفد ملنے آیا جن سے معلوم ہواوہ ’’ڈیلی ویجرز یونین‘‘ کے پلیٹ فارم سے چودہ اکتوبر کو ملک گیر احتجاج کرنے جا رہے ہیں ۔اس احتجاج کی وجہ نوکریوں اور حقوق کاوہ ’’لالی پاپ‘‘ہے جو پچھلے ایک طویل عرصے حکمرانوں کی طرف سے ان نابینا افراد کو دیا جا رہا ہے جو ایک لمبی کہانی ہے ۔قارئین نابینا افراد نے پہلی دفعہ 3دسمبر 2014ء کو اس تحریک کا آغاز کیا تھا جس کا مقصد حکومت کی توجہ گریجویٹ نابینا افرادکی نوکریوں اور بنیادی حقوق کی جانب مبذول کروانا تھا۔ نابینا افراد کئی دن تک مال روڈ پر دھرنا دیے بیٹھے رہے جس میں ان کے ساتھ حد سے زیادہ افسوس ناک سلوک کیا گیا ۔اس سارے معاملے کو قومی و عالمی میڈیا نے بھرپور کوریج دی اور عوامی رد عمل بھی سامنے آیا جس کی وجہ سے میاں شہباز شریف قطر کا دورہ ادھورا چھوڑ کر واپس پاکستان آنے پر مجبور ہو گئے اورواپس آتے ہی نابینا افراد کے وفد سے ملاقات کی ‘ انہیں دو ماہ میں نوکریاں دینے کا وعدہ کر کے یہ دھرنا ختم کروا یا۔مارچ 2015ء تک نابینا افراد شہباز شریف کا وعدہ پورا ہونے کا انتظار کرتے رہے اور آخر کار یہ بے چارے آنکھوں کی بینائی سے محروم لوگ دوبارہ 3مارچ 2015ء کو چیئرنگ کراس جا بیٹھے اور حکومت کو پریشرائز کیا کہ ان سے کیا ہوا وعدہ پورا کیا جائے۔یہ دھرنا کامیاب ثابت ہوا اور 9مارچ کو نابینا افراد کو ’’ڈیلی ویجرز‘‘کی بنیاد پہ عارضی طور پر بھرتی کیا گیا اور ساتھ یہ بھی وعدہ کیا گیا کہ جلد از جلد آپ کو مستقل کر دیا جائے گا لیکن جب یہ وعدہ بھی پورا نہ ہوا تو یہ نابینا افراد8جون 2015ء کو دوبارہ سڑکوں پر نکلے۔اب کی بار رانا ثنااللہ کی قیادت میں حکومتی وفد ان سے ملاقات کو پہنچا جس میں اپوزیشن کی طرف سے میاں اسلم اقبال(حالیہ صوبائی وزیر اطلاعات) بھی شریک تھے۔اس وفد نے بھی نابینا افراد سے ڈیڑھ ماہ کا وقت مانگا اور دھرنا ختم کروادیا مگر یہ وعدہ بھی محض دیگر وعدوں کی طرح لفظوں کی جگالی ثابت ہوا۔گزشتہ دورِحکومت میں جب جب نابینا افراد سڑکوں پر نکلے‘ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ڈاکٹر یاسمین راشد‘عندلیب عباس‘محمود الرشید‘اعجاز چودھری اور راجہ بشارت ان کے دھرنوں میں شریک ہوئے۔ان سے ایک ہی وعدہ کیا کہ بس ہماری حکومت آ لینے دیں‘ہم آپ کو حقوق دلوائیں گے‘ہم نون لیگ کی حکومت کو بتائیں گے کہ ریاستِ مدینہ میں نابینا افراد کی کتنی اہمیت ہے مگر مجھے انتہائی افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف وفاق میں حکومت بناتے ہی نابینا افراد کے ساتھ بھی بددیانتی پہ اتر آئی۔قوم کو تو’’لالی پاپ‘‘دیا ہی جا رہا تھا‘مگر نابینا افراد (جو سارے ماسٹر ڈگری ہولڈرز ہیں)کو بھی وعدوں پہ ٹرخایا گیا۔آج مندرجہ بالا حکمران جو کل تک ووٹ کے لالچ میں ان کے دھرنوں میں شریک ہوتے رہے‘آج انھوں نے بھی آنکھیں پھیر لیں۔درجنوں بار نابینا افراد کا وفد وزیر اعلیٰ عثمان بزدار اور گورنر پنجاب چودھری سرور سے ملنے ان کے دفتروں تک پہنچا مگر ہر دفعہ انھیں لاوارثوں کی طرح دھکے دے کر وہاں سے بھگا دیا گیا۔کئی بار تو لاٹھی چارج بھی ہوا اور انہیں سنگین دھمکیاں دے کر واپس بھجوا دیا گیاحالانکہ ان افراد کا ’’ون پوائنت ایجنڈا‘‘ہے کہ وہ افراد جو ’’ڈیلی ویجرز‘‘ہیں انہیں مستقل کیا جائے۔

ایک طرف ریاستِ مدینہ میں نبی کریمؐ کا نابینا صحابی عبداللہ ؓابن ِ مکتوم سے سلوک ملاحظہ ہو جس میں آپؐ ان کو استاد بنا کر مدینہ کی طرف بھیجتے ہیں اور دوسری جانب عمران خان کی ریاستِ مدینہ میں ایک ہزار سے زائد پڑھے لکھے نابینا افراد جو ڈگریاں لے کر دھکے کھا رہے ہیں۔’’ڈیلی ویجرز‘‘پر بھرتی کر دیا گیا مگر ان سے پڑھانے کی بجائے چوکیداروں اور مالیوں والے کام لیے جاتے ہیں جبکہ حیرت کی بات ہے کہ نابینا بچوں کو پڑھانے کے لیے بینائی والے اساتذہ بھرتی کے گئے جن کا قطعا ’’بریل پڑھائی‘‘ سے کوئی تعلق نہیں‘انہیں سپیشل ایجوکیشن کی طرف سے جعلی سرٹیفکیٹ دے کر نابینا افراد کی سیٹوں پر بھرتی کیا گیا جو سراسر زیادتی ہے۔عمران خان دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک اور ریاستِ مدینہ کی مثالیں دیتے تھکتے نہیں مگر ان کے اپنے ملک کے پڑھے لکھے نابینا افراد سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور ہیں۔کیا عمران خان یہ نہیں جانتے کہ ترقی یافتہ ممالک میں نابیناافراد کے ساتھ کیا رویہ رکھا جاتا ہے؟کیا وہ ممالک بھی نابینا افراد کو لاورث سمجھ کر دھکے کھانے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں‘کیا ریاستِ مدینہ میں نابینا افراد دھرنا اور احتجاج کر کے اپنے حقوق لیتے تھے؟۔خان صاحب اگر آپ ڈاکٹر طٰہٰ کو جانتے ہیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ وہ نابینا تھے مگر مصر کی حکومت نے انہیں وزیر تعلیم بنایا تھا کیونکہ وہاں انسان کے ساتھ انسانوں والا سلوک ہوتا ہے۔مگر افسوس کہ میں درجنوں ایسے دھرنے گنوا سکتا ہوں جن میںنابینا افراد پر لاٹھی چارج کیا گیا‘انہیں راتو ں رات جیلوں میں رکھ کر تشدد کیا گیا‘انھیں دکھے دے کر گاڑیوں میں جانوروں کی طرح بٹھا یا گیا اور ان پر شیلنگ کی گئی۔جب بھی ایسی تشویش ناک صورتحال پیدا ہوئی‘سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ مذاکرات کے لیے آگے بڑھا‘میڈیا کے سامنے اپنے چند قریبی نابینا افراد کوپیش کر کے (جو پہلے سے ہی اس ڈیپارٹمنٹ کے ملازم ہیں)یہ ثابت کر دیتا ہے کہ ہم نے حقوق دے دیے حالانکہ فساد کی سب سے بڑی جڑ یہ ڈیاپرٹمنٹ بنتا ہے۔جب جب مسئلہ حکومتی ایوانوں میں گیا‘سوشل ڈیپارٹمنٹ نابینا افراد کو دو دھڑوں میں تقسیم کر کے یہ نعرہ لگا دیتا ہے کہ یہ تو آپس میں ہی مخالف ہیں حالانکہ ان افراد کا مسئلہ نوکریا ں ہیں۔سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ جس کا کام نابینا افراد کو تحفظ دینا‘نوکریاں دینا اور ان کے حقوق کا خیال کرنا ہے مگر یہاں تو معاملہ ہی الٹ ہے۔یہ ڈیپارٹمنٹ حکومت کو ’’سب اوکے‘‘کی رپورٹ کرتا ہے مگر سب سے زیادہ بد سلوکی اس ڈیپارٹمنٹ میں نابینا افراد کے ساتھ کی جاتی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ کیا آج عمران خان بھی ایسا ہی کریں گے یا ان افراد کی حکومتی ایوانوں میں کوئی شنوائی ہوگی؟۔15اکتوبر پوری دنیا میں نابینا افراد کا’’سفید چھڑی‘‘عالمی دن منایا جاتا ہے اور اس دفعہ پاکستان میں یہ لوگ پندرہ اکتوبر کو ھرنے کے دوران پروگرام کرنے جا رہے ہیں اور یہ میں پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ یہ دھرنا اشتعال انگیزی نہیں بلکہ اپنے حقوق کے لیے ہوگا لہٰذا عمران خان کو اس بارے میں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔


ای پیپر