’’دیسی میم ...... اور ہمارا انگلش سے ٹکرائو ...... ؟؟‘‘
06 اکتوبر 2019 2019-10-06

’’ میں نے ABC والا قاعدہ چھٹی جماعت میں شروع کیا تھا ‘‘؟؟

پہلے تو احمد کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا... اور پھر اُس نے قہقہے لگاتے ہوئے دیوار کے ساتھ ٹکر دے ماری ..!! اور ہنستے ہوئے بولا....

’’ سچی...پاپا آپ نے ABC والا قاعدہ چھٹی کلاس سے شروع کیا تھا؟؟ ’’ Yes‘‘ میں نے تنی ہوئی گردن کو مزید سیدھا کرتے ہوئے ... بولا....

کیسا لگتا ہو گا .... منظر... جب 5 فٹ 5 انچ قد والے لڑکے لڑکیاں A سے apple پڑہتے ہوں گے۔ اور چھٹی کلا س کے پہلے تیس دن محضA سے Z تک رٹے لگانے میں گزر جاتے ہوں گے؟!!

میں بھی جب تصّور کرتا ہوں ... تو حیران ہو جاتا ہوں ۔ میری بھی ہنسی نکل جاتی ہے یہ سوچ کر کہ باقاعدہ لمبا اور اونچا جوان بچہCapital words اور پھر Small ABC اد کرتا اور جب ہم نے چھٹی کلاس میںWhat's your name?'' '' کہنا شروع کیا تو یوں لگے جیسے شہزادہ چارلی ہمارے رشتے میں کچھ لگتے ہوں … ہمیں شلوار کے اوپر T shirt پہنے جب احساس ہوتا کہ ہم تو اب انگریزی سیکھ رہے ہیں تو ہمیں یورپ جانے کی خواہش بھی ہونے لگی لیکن بیڑا غرق ہو... ان بے غیرت دہشت گردوں کا جنہوں نے ہمیں دنیا جہان سے کاٹ کر رکھ دیا۔ پاکستان کو اربوں ڈالر کی incomeسے محروم کر ڈالا ...جب ہم نے B.o.o.k. پڑھنا شروع کیا تو اُس وقت سیاست عروج پر اور پاکستان پوری دنیا سے آنے والے لاکھوں سیاحوں کا مسکنّ تھا۔حسین و جمیل جوان لڑکیاں اور نہایت نوجوان گوروے گوریوںکی صورت میں لاہور کے ریلوے سٹیشن پر براجمان ہوتے۔ وہ دلکش ماحول ہم بہانے بہانے سے ریلوے سٹیشن جاتے۔جہاں ہمیں name What's your کہنا مزیدار لگتا جواب میں وہ کہتے.. Miss aina یا مس کرسٹینا ہمیں کچھ سمجھ آتا کچھ نہ آتا ...پھر سے پنجابی.. میں پوچھتے... سمجھ نئی آیا۔’’وہ کہتی سوری اور یوں ہماری Vocallibery میں نئے لفظ کا اضافہ ہو گیا ۔لفظ سوری کے آجانے سے What's your name? جیسے فقرے سے ہماری جان چھوٹ گئی... میں نے ’’ اپیل‘‘ کے بعد جو انگریزی کا لفظ رٹا لگایاوہ تھا ’’ Grapes‘‘

بہت سال بعد ایک دفعہ میں جہاز میں سفر کر رہا تھا کہ دوسری طرف ایک نو عمر خاتون اپنے ایک بیٹے اور ایک بیٹی کے ساتھ بیٹھی تھیں وہ چھوٹے بچوں کے ساتھ English میں بات کر تی تو مجھے اپنی چھٹی کلاس یاد آگئی... جہاں ہمیں ’’انگریزی‘‘زبان ایک عذاب دکھائی دیتی تھی۔’’ جی کیا فرمایا’’ میتھ‘‘..؟!!‘‘وہ تو خیر سے ہمارے لیئے اب بھی عذاب ہے۔ تو میں بتا رہاتھا اُن خوبصورت بچوں کا وہ فر فر انگریزی بولتے جا رہے تھے اور ماںبھی خوش تھی کہ ہم بھی کمال روانی سے انگلش بول رہے ہیں اور جہاز میں بیٹھے لو گ متاثرہو رہے ہیں ۔ہم بحثیت قوم ابھی تک English ،English بولنے والوں اور English حکمرانوں سے متاثر ہیں ہم English کو Superior زبان کا درجہ دینے پر خود ہی بضد ہیں ۔ دنیا کے کروڑوں لوگ آج بھی کورئین ... جاپانی..فرانسیسی زبان فخر سے بولتے ہیں اور دوسروں کو یاد کرواتے ہیں کہ ہم English نہیں بولیں گے ایسے ہی اربوں لوگ چین میں English سے نابلد ہیں اور وہ سمجھتے ہیں اور دنیا کو بتاتے بھی ہیں کہ ہماری زبان Chines دنیا کی سب سے اہم زبان ہے۔نئی نسل کو رئین گانے سنتی ہے اور کورئین گلوکاروں کے اربوں میں Likes ہیں جیسا کہ ہمیں پشتو پنجابی سندھی سے بہرحال تعلق رکھنا چاہیئے۔شکر ہے اب Chines بھی پاکستان میں گلی محلے میں بولی جاتی ہے اور پشتو میوزک اور کسی حد تک زبان بھی پورے پاکستان میں سمجھی جاتی ہے۔دوسری طرف Russian بلاک میں بستے کروڑوں انسان بھی English زبان سے نابلد ہیں اور انہوں نے اِس زبان کی Superiority ماننے کی کبھی بھی کوشش نہیں کی۔ روسی ا دب دنیا کا عالی شان ادب تسلیم کیا جاتا ہے۔ لیو ٹالسٹائی بہت بڑا ادیب گزرا ہے جو روسی تھا اور اپنے روسی شہری ہونے پر فخر محسوس کرتا تھا لیو ٹالسٹائی کے ناول’’ جنگ اور امن‘‘ پر سیرہٹ فلم بھی بنی۔ خوشی اور آپ کے علم میں اضافے کہ لیئے بتاتا چلوں کہ ٹالسٹائی بھی ساری زندگی بیوی کے ظلم سہتا رہا۔ لیو ٹالسٹائی امیر ماں باپ کا بیٹا تھا اُس کا محل سو سے زیادہ کمروں پر مشتمل تھا لیکن اُس کی بیوی نے اسے ہر دم دبا کہ رکھا اور صبح شام لعن طعن کرتی رہتی۔ممکن ہے وہ ناول نگاری کہ ساتھ ساتھ باورچی خانے میں برتن دھونے،گھر میں پوچالگانے میں بھی ماہر ہو۔کیونکہ جس طرح اُس نے اپنی ناکام شادی شدہ زندگی کا ذکر کیاجس سے میں نے اندازہ لگایا ہے کہ دنیا بھر میں اکڑ اکڑ کہ چلنے والے مردوں کی ہم پاکستانیوں کی طرح ... گھروں میں بیویوں کے ہاتھوں ’’ ایک سی ہی خاطر مدارت ہوتی ہے‘‘....؟؟!! یا پھر ’’ نوکر وہ ہٹی دا بن کہ رھیں؟‘‘

ہاں تو میں بتا رہا تھا جہاز کے سفر کے دوران ساتھ والی سیٹ پر بیٹھی عورت کی بات جس کے چھوٹے بچے ’’ فر فر ‘‘ بلکہ ’’ تڑ تڑ ‘‘ انگلش بول رہے تھے۔ ماحول بڑا اچھا تھا ... مجھے بس، ٹرین جہاز یہاں تک کہ ٹانگے اور چنگچی میں سواری کے دوران بھی نیند آجاتی ہے۔نیند تو آ رہی تھی لیکن اِس آس میں میں سو نہیں رہا تھا کہ شاید خوبصورت ایئر ہو سٹیس آدھے گلاس جوس کے ساتھ کچھ کھانے کو بھی دے دے ...؟؟!!

اِس دوران اونگھ آئی تو میرے ہمسائے میں شور سا بلند ہوا... ’’ فر فر ‘‘ انگلش بولنے والے بچوں کی اماں نے .. ان پھول سے بچوں کی پنجابی زبان میں بے ’’عزتی‘‘ کرنا شروع کر دی .. اُس نے بچے سے پوچھا...

Do you likes to eat Grapes?

بچہ....شرماتے ہوئے... No Mom

پھر اُس نے چھوٹی بچی سے پوچھا...''What about you?''

بچی....محبت سے شرماتے ہوئے No Mom.. I do not like.

نہایت سلیقہ شعار ،Sober ... English کی ماہر اعلیٰ شخصیت کی مالک کے اندر چھپی پنجابی ماں جاگ اُٹھی.. اُس کا چہرہ سرخ ہو گیا ... میک اپ جو اس نے ضرورت سے زیادہ چہرے پر چڑھا رکھا تھا غصے کی وجہ سے وہ پگھل گیا اور وہ کوہ قاف کی چڑیل لگنے لگی پہلی قسط میں نیند کے باعث دیکھ نہ پایا... دوسری قسط میں جو نہی چھوٹی بچی نے Grapes کھانے سے انکار کیا تو وہ گرجی ’’ تینوں Grapes کھانے پین گے‘‘..... چل جلدی چبا Grapes (میرا دل چاہا میں کہوں باجی Grapes چبائے نہیں جاتے؟) Shoes ماروں چک کے... Idiot کتے دا پُتر.... وغیرہ وغیرہ...؟؟!!!!

میں نے دیکھا .. ایئر ہوسٹس بھی سہم گئی... تمام مسافروں کو جیسے سانپ سونگھ گیا ہو... میں نے چوری چوری ... ادھ کھلی آنکھوں سے دیکھا..(کس قدر خوفناک منظرتھا مت پوچھیں ؟) ’’ بے چارے دونوں بچے Grapes چبا رہے تھے ‘‘ اور ظالم ماں نے ایک ہا تھ میں Shoes پکڑا ہوا تھا جہاز چونکہ Land کرنے والا تھا اِس لیئے پائیلٹ نے ہلکاہلکامیوزک آن کر دیا وہ مسعود رانا کا پرانا گانالگ رہا تھا...

’’ چپ کر کے گڈی دے وچ بہہ جا ... بولیں گی چپیڑ کھائیں گی۔‘‘


ای پیپر