سی پیک معاہدے کا ازسر نوجائزہ لے رہے ہیں:وزیر اعظم عمران خان
06 اکتوبر 2018 (20:10) 2018-10-06

 کوئٹہ: وزیراعظم عمران خان نے سی پیک معاہدے کا از سر نو جائزہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ اس میں بلوچستان کو جائز حصہ دیا جائے گا.

وفاق بلوچستان کے ساتھ بطور پارٹنر کام کرےگا ، سابقہ تجربہ کار حکمرانوں نے ملک کو نقصان پہنچایا، بلوچستان کی عوام سے وہی وعدہ کریں گے جو پورا کر سکیں گے ،ہم کوئی ایسا وعدہ نہیں کریں گے جس پر بعد میں معذرت کرنا پڑے ، ملک اس وقت مالی مشکلات کا شکار ہے، ہمیں امید ہے کہ ہم اس مشکل سے جلد چھٹکارا پالیں گے ، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کو فعال کیے بغیر ہم ترقی نہیں کر سکتے ،بلوچستان کی مالی سمیت مجموعی صورتحال پر تفصیلی رپورٹ دی جائے، وفاقی حکومت بلوچستان کی ترقی کے لئے پرعزم ،اس کے مسائل کے حل کے لئے بھرپور تعاون اور کردار ادا کرینگے ، عوام کی فلاح و بہود، ترقی و خوشحالی کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے ، تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کا عمل جاری رہےگا ، صوبے کے امن و امان، سماجی و معاشی ترقی میں سیکیورٹی فورسز کا کردارتعریف کی جبکہ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے کہا کہ عوام کی صوبائی اور وفاقی حکومت سے توقعات ہیں، بلوچستان میں موجود قدرتی وسائل کے ثمرات عوام کو ملنے چاہئیں ۔

وہ ہفتہ کو یہاں بلوچستان کی صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب ، صوبائی وزراء، گور نر ووزیراعلیٰ بلوچستان سے علیحدہ ملاقاتوں او ر سدرن کمانڈ ہیڈ کوارٹرزکوئٹہ کے دورے کے موقع پرگفتگو کررہے تھے ۔ وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت بلوچستان کی صوبائی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں صوبائی وزراءکے علاوہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین، وفاقی وزیر منصوبہ بندی مخدوم خسرو بختیار، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری، وزیر مملکت داخلہ شہریار آفریدی، معاون خصوصی برائے سیاسی امور نعیم الحق، معاون خصوصی برائے میڈیا افتخار درانی نے بھی اجلاس میں شرکت کی ۔

اجلاس میں وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال اور چیف سیکرٹری بھی شریک تھے ۔اجلاس کے دوران وزیراعلی بلوچستان جام محمد کمال نے وزیراعظم کو اپنی اور صوبائی کابینہ کے اراکین کی جانب سے خوش آمدید کہا اور بلوچستان کی صورتحال میںذاتی دلچسپی لینے پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا ۔اجلاس میں وزیراعظم کو بلوچستان میں جاری سماجی و معاشی ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔ کابینہ نے وزیراعظم کو صوبے کے مالی بحران سے آگاہ کیا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے کہا کہ عوام کی صوبائی اور وفاقی حکومت سے توقعات ہیں، کچھ نہ کر کے دکھایا تو عوام پر منفی اثرات مرتب ہوں گے، بلوچستان میں موجود قدرتی وسائل کے ثمرات عوام کو ملنے چاہئیں، ماضی کی ناقص منصوبہ بندیوں سے عوام میں احساس محرومی کا اضافہ ہوا۔

اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بلوچستان کے عوام سے وہی وعدہ کریں گے جو پورا کرسکیں، کچھی کینال فیز ٹو اور فیز تھری کو جلد مکمل کریں گے۔وزیراعظم عمران خان سے بلوچستان کی کابینہ کے ارکان کی ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ نے ان کا تعارف کرایا اور صوبے کو درپیش مالی مشکلات کے بارے میں وزیراعظم کو آگاہ کیا ۔اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ وفاق بلوچستان کے ساتھ بطور پارٹنر کام کرےگا۔ان کا کہنا تھا کہ سابقہ تجربہ کار حکمرانوں نے ملک کو نقصان پہنچایا، ہم کوئی ایسا وعدہ نہیں کریں گے جس پر بعد میں معذرت کرنا پڑے۔انہوں نے کہا کہ ملک اس وقت مالی مشکلات کا شکار ہے، ہمیں امید ہے کہ ہم اس مشکل سے جلد چھٹکارا پالیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ سی پیک معاہدے کا از سر نو جائزہ لے رہے ہیں، سی پیک میں بلوچستان کو جائز حصہ دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی اور گوادر بندرگاہوں کو فعال کیے بغیر ہم ترقی نہیں کر سکتے۔بلوچستان کی مالی سمیت مجموعی صورتحال پر تفصیلی رپورٹ دی جائے، بلوچستان کے مسائل کے حل کے لئے وفاق بھرپور کردار ادا کرےگا۔وزیراعظم نے صوبائی سیکرٹریٹ میں گورنر اور وزیراعلی بلوچستان سے علیحدہ ملاقات بھی کی جس میں صوبے کی مجموعی صورتحال اور ترقیاتی منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ عوام کی فلاح و بہود، ترقی و خوشحالی کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت بلوچستان کی ترقی کے لئے پرعزم ہے اور بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لئے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کا عمل جاری رہےگا۔بعد ازاں وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلیٰ بلوچستان اور وفاقی وزرا کے ہمراہ سدرن کمانڈ کوئٹہ کے ہیڈ کوارٹرز دورہ کیا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق کوئٹہ ایئربیس پہنچنے پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے وزیراعظم عمران خان کا استقبال کیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق وزیراعظم عمران خان کو بلوچستان کی سیکیورٹی صورت حال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق وزیراعظم کو خوشحال بلوچستان کے تحت صوبے کی سماجی و معاشی ترقی پر بھی بریفنگ دی گئی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق وزیراعظم کو سی پیک منصوبوں کی سیکیورٹی اور پاک افغان سرحد پر باڑ میں پیش رفت پر بھی بریفنگ دی گئی۔آرمی چیف کا اس موقع پر کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں استحکام کے بعد بلوچستان پر توجہ مرکوز کی ہے اور بلوچستان پاکستان کا معاشی مستقبل ہے۔وزیراعظم عمران خان نے صوبے کے امن و امان، سماجی و معاشی ترقی میں سیکیورٹی فورسز کے کردار کو سراہا۔


ای پیپر