سنہری خدمات، نیب کی
06 اکتوبر 2018 2018-10-06

12 اکتوبر 1999ء کی شب چند لمحے پہلے برطرف کیے جانے والے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کی منتخب اور پاکستان کو ایٹمی طاقت سے سرفراز کرنے والی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔۔۔ اس اقدام اور 3 نومبر 2007ء کی ایمرجنسی کی پاداش میں جنرل مشرف پر آئین کی دفعہ 6 کے تحت سنگین غداری کا مقدمہ زیر سماعت ہے یا صحیح تر الفاظ میں اسے ملک سے فرار کرا دینے کے بعد التوا کا شکار ہے۔۔۔ مگر جب اسی جنرل مشرف نے ملک کے اقتدار پر غیر آئینی قبضہ کیا تھا تو ایک ماہ بعد اپنی حکومت کو مستحکم کرنے کی خاطر 16 اکتوبر 1999ء کو نیب کا ادارہ قائم کیا۔۔۔ اعلان کیا گیا اس کے ذریعے تمام کرپٹ عناصر کا سیاسی ہوں یا غیر سیاسی قلع قمع کر دیا جائے گا۔۔۔ لوٹی ہوئی دولت کا ایک ایک پیسہ قومی خزانے میں جمع کرا دیا جائے گا۔۔۔ کرپٹ عناصر ملیا میٹ ہو کر رہ گئے یا نہیں چند ارب روپوں کے علاوہ لوٹی ہوئی دولت کو بازیاب کرا لیا گیا یا نہیں ان تمام باتوں سے قطع نظر نیب کے احتسابی ادارے نے ڈکٹیٹر کی یہ خدمت ضرور سر انجام دی کہ وہ تمام سیاستدان خواہ ان کا تعلق سابقہ حکومت سے تھا یا اس کی اپوزیشن ، ان کے خلاف سنگین درجے کی کرپشن کے مقدمات شروع کر دیئے گئے۔۔۔ چنانچہ ان میں سے جس جس نے آمریت کی چوکھٹ پر حاضری دے کر غیر مشروط وفاداری کا یقین دلا دیا اس کی فائلیں سرد خانے میں ڈال دی گئیں بقیہ کے سروں پر خطرے کی تلوار لٹکتی رہی۔۔۔ نیب کے چارٹر میں دنیائے قانون و انصاف کی یہ انوکھی شق شامل کر کے کہ جس پر جو بھی الزام عائد کیا جائے گا اس کا بار ثبوت بھی اس کے کندھوں پر ہو گا کسی بھی ملزم کے لیے (جن میں پیشتر سیاسی تھے) اس کا دفاع مشکل بنا دیا گیا لہٰذا ان کی معتدبہ تعداد نے عافیت اسی میں خیال کی کہ اپنا مال اور اثاثے بچا لیں اور لیلائے اقتدار سے بھی ہم آغوش ہو جائیں۔۔۔ آمریت کا دبدبہ دیکھا نہ جاتا تھا۔۔۔ جس نے بھی آگے بڑھ کر ضمیر رہن رکھ دیا۔۔۔ اس پر مشرف کی ہمہ مقتدر حکومت کے دروازے وا گئے۔۔۔ وفاداریاں تبدیل ہوئیں مسلم لیگ (ق) کے نام سے نئی کنگز پارٹی وجود میں لائی گئی ۔۔۔اسے میدان میں لا کر سرکار والاتبار کے اہتمام و انصرام میں 2002ء کے انتخابات کرائے گئے۔۔۔ آمر مطلق نے وزیراعظم کے منصب کے لیے ظفر اللہ جمالی کے سر پر ہاتھ رکھا اور نیب کی جانب سے کیے جانے والے احتسابی عمل کے خوف سے سابقہ حکومتی جماعت کو خیر باد کہنے والے لوٹوں اور اسی مقصد کی خاطر قائم کی گئی پیپلزپارٹی پیٹریاٹک کی مشترکہ حمایت مگر صرف ایک ووٹ کی اکثریت کے ساتھ جمالی صاحب نے وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھایا۔۔۔ اکثریت اگرچہ ایک ووٹ کی تھی مگر پیچھے فوج کی طاقت کھڑی تھی نیب نے البتہ منفرد درجے کی احتسابی کارروائیوں کے ذریعے وہ بنیاد فراہم کر دی تھی جس پر ’’جمہوری‘‘ اور ’’عوام کی نمائندہ‘‘ جمالی حکومت کی سیاسی بنیادیں استوار کی گئی تھیں۔
2014ء - 2017ء میں ایک مرتبہ پھر نواز شریف کی منتخب حکومت کو گرانا اور اس کے بعد انتخابات کے ذریعے من مرضی کا وزیراعظم لانا مقصود تھا۔۔۔ پہلے عمران خان جمع طاہر القادری کے دھرنے پھر پانامہ سکینڈل کا طوفان بپا
ہوا۔۔۔ جے آئی ٹی بنی۔۔۔ کچھ برآمد نہ ہوا۔۔۔ اقامہ کا مضحکہ خیز بہانہ ڈھونڈا گیا۔۔۔ اور تین مرتبہ منتخب ہونے والے وزیراعظم کو بیک گونی دو گوش نکال باہر پھینکا گیا۔۔۔ یہ ایک طرح کا Judicial Coup تھا۔۔۔ نواز شریف سے تو وزارت عظمیٰ چھین لی گئی۔۔۔ اسے نا اہل بھی قرار دے دیا گیا ۔۔۔ مگر اس کی سیاسی جماعت قائم و دائم تھی۔۔۔ اس کے اندر دراڑیں پیدا کرنا مشکل ثابت ہو رہا تھا۔۔۔ نوا ز شہباز کی مقبولیت میں بھی کمی نہ آئی تھی۔۔۔ 2018ء کے انتخابات سر پر کھڑے تھے نیب کو اقامہ فیصلے کے بعد ذمہ داری تفویض کر دی گئی تھی کہ پانامہ الزامات کی چھان بین کر کے نوا زشریف اور اس کے بچوں کے خلاف منی لانڈرنگ اور کرپشن کے الزامات کا سراغ لگائے۔۔۔ الزامات ثابت ہو جائیں تو سزا بھی دے ۔۔۔ مہینوں کی سماعت کے بعد گزشتہ 6 جولائی کو احتساب عدالت کا فیصلہ آیا۔۔۔ کرپشن کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔۔۔ البتہ اثاثے آمدنی سے زیادہ ہیں۔۔۔ اس دلیل کا جو تیا پائنچا اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ نے کیا، وہ اپنی جگہ مگر نیب کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے اپنے نادر روزگار فیصلے کے ذریعے نوا زشریف، ان کی بیٹی مریم اور داماد کو بھاری جرمانوں سمیت بالترتیب دس سال، آٹھ سال اور ایک سال کی سزائیں سنا دیں نواز اور مریم ملکی قانون کے آگے سر جھاتے ہوئے ان سزاؤں کا سامنا کرنے کے لیے بیوی اور والدہ کلثوم مرحومہ کو بستر مرگ پر ایڑھیاں رگڑتے ہوئے چھوڑ کر 13 جولائی کو وطن واپس پہنچے۔۔۔ فوراً گرفتاری دے دی۔۔۔ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں بند کر دیئے گئے۔۔۔ اس طرح تخلیق کردہ ماحول میں 25جولائی کو عام انتخابات کرائے گئے۔۔۔ معلق پارلیمنٹ نے جنم لیا ۔۔۔ مسلم لیگ (ن) سے اس مرتبہ پھر منہ پھیر لینے والے روایتی اور آبائی لوٹوں کو جو ہر نئی حکومت کے ساتھ جا ملتے ہیں۔۔۔ ’الیکٹ ایبلز‘ کی خلعت فاخرہ پہنا کر تحریک انصاف کے ٹکٹ دلوائے گئے۔۔۔ ان سب اور بلوچستان کی چھوٹی بڑی پارٹیوں کی مدد سے عمران خان صرف چار ووٹوں کی اکثریت سے وزیراعظم بننے کے قابل ہوئے۔۔۔ اس ساری کہانی کی 2002ء کے ظفر اللہ جمالی کے قصے کے ساتھ جو مماثلت پائی جاتی ہے۔۔۔ وہ لمبے چوڑے بیانیے کی محتاج نہیں ۔۔۔ عمران خان کی حکومت وجود میں آ گئی ہے۔۔۔ مسلم لیگ (ن) اپنے مضبوط گڑھ پنجاب میں بھی کل ایک کروڑ تیس لاکھ ووٹوں کے باوجود اقتدار کو بچا نہ پائی۔۔۔ اس کے باوجود عمرانی حکومت کی بنیادوں میں ارتعاش پایا جاتا ہے۔۔۔ ڈیڑھ ماہ نہیں گزرا اس ارتعاش کی لہریں محسوس کی جا رہی ہیں۔۔۔ گورنر محمد سرور کے عہدہ سنبھالنے کے بعد سینیٹ کی ایک نشست خالی ہوئی۔۔۔ پچھلے ہفتے اس پر انتخاب ہوا۔۔۔ پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کے امیدوار آمنے سامنے تھے۔۔۔ حکمران جماعت کا امیدوار جیت گیا مگر ووٹوں کی گنتی سے چونکا دینے والا انکشاف ہوا کہ خفیہ رائے شماری کے دوران عمران خان پارٹی کے کچھ اراکین پنجاب اسمبلی نے (ن) لیگ کے امیدوار کو ووٹ دیے۔۔۔ جیتنے والے کی اکثریت توقع سے کم تھی۔۔۔ اس فضا کے اندر آئندہ 14 اکتوبر کو ضمنی انتخابات ہونے والے ہیں۔۔۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی نے ایک دوسری کے امیدواروں کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔۔۔ غیر جانبدار کیا عمران حکومت کے حامی مبصرین بھی یہ کہتے ہوئے سنے گئے کہ اپوزیشن کے امیدواروں کی مجموعی کامیابی کے امکانات مضبوط ہیں جبکہ ہماری مقتدر قوتوں اور انٹیلی جنس اداروں کو امکانی نتائج کا پہلے سے اندازہ ہو جاتا ہے۔۔۔ اگر متحدہ اپوزیشن ضمنی انتخابات کا معرکہ جیت لیتی ہے تو پنجاب بھی ہاتھوں سے جاتا نظر آئے گا اور وفاق میں چار ووٹوں کے سہارے سے قائم وفاقی حکومت لڑکھڑانا شروع ہو جائے گی۔۔۔ عین اس موقع پر نیب جانی پہنچانی خدمات سر انجام دینے کے لیے ایک مرتبہ پھر حرکت میں آئی ہے۔۔۔ پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف کو صاف پانی کے قضیے میں پوجھ کچھ کے بہانے اپنے یہاں بلا کر آشیانہ ہاؤسنگ سکیم کے مقدمے میں گرفتار کر لیا ہے۔۔۔ سجی دکھا کر کھبی مارنے کی چوں چالاکی کا جو مظاہرہ ہوا وہ اپنی جگہ ۔۔۔ مگر اتنی بڑی گرفتاری کے ساتھ یا اسے جائز ثابت کرنے کے لیے ایک پیسے کی کرپشن کا الزام نہیں عائد کیا جا سکا۔۔۔ نہ قومی خزانے کے ایک دھیلے کی نشاندہی کی گئی ہے جو سکیم پر خرچ ہوا ہے۔۔۔ محض اس قصور کی بنا پر کہ ایک کمپنی سے ٹھیکہ واپس لے کر دوسری جسے وزیرعلیٰ اس کام کے لیے زیادہ مناسب خیال کرتے تھے کیوں دیا گیا۔۔۔ جس ملک میں انصاف کا اس حد تک بول بالا ہو گا اور جہاں نیب جیسا مقتدر قوتوں کا بغلی ادارہ سنہری خدمات پیش کر کے ناپسندیدہ سیاستدانوں کی گردنیں مروڑتا رہے گا اسے سیاسی و معاشی استحکام کا ہے کو ملے گا۔۔۔ قوم کی ناؤ اسی طرح منجد ھار میں پھنسی رہے گی۔۔۔ ایک کے بعد دوسرے طوفان کی زد میں آتی رہے گی۔


ای پیپر