شرارِ بولہبی
06 اکتوبر 2018 2018-10-06

ہفتہ رفتہ میں امریکہ کی سائنسی ترقی کا اعلیٰ ترین ، جدید ترین ، قیمتی ترین ٹیکنالوجی کا شاہکار لڑاکا جنگی طیارہ، F-35 B افغانستان میں پہلی مرتبہ استعمال ہوا۔ طالبان کی نظر اسے کھا گئی۔ واپس امریکہ جا کر تباہ ہوگیا۔ 100 ملین ڈالر خاک میں مل گئے! جنگوں میں بھسم ہوتے ڈالروں میں مزید معاشی خسارے کا سامان ہوگیا۔ امریکہ کیلئے یہ جنگ نہ اگلے بن پڑ رہی ہے نہ نگلے۔ کھسیانے ہو ہو کر پاکستانی کھمبا نوچ رہے ہیں۔ اس ضمن میں خود امریکہ کا باضمیر، باشعور طبقہ جھلا کر حقائق منہ پر دے مارتا۔ سچ بولتا ہے۔ (ہمارے ہاں ایسا سچ بولنے کی توفیق ؟ بایدو شاید!) کاؤنٹر پنچ 2 اکتوبر میں ڈیوڈ سوانسن نے اس امریکی جنگ کے خوب لتے لئے ہیں۔ اس کے مطابق ’ ایک شیر خوار تو 17 سالوں میں بہت کچھ جان سیکھ لیتا ہے۔ تاہم امریکہ نیٹو کی اس جنگ کو ہمارے ہاں بالغ عوام الناس سمجھنے ، سیکھنے جاننے سے پھر بھی قاصر ہی رہے ہیں، اگرچہ تصور یہ ہے کہ امریکیوں کو جغرافیہ جنگوں کے ذریعے پڑھایاجاتا ہے۔ ( اندازہ کیجئے!) پھر بھی بہت کم امریکی آج نقشے پر (انگلی رکھ کر ) افغانستان کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ حتیٰ کہ بہت کم امریکی یہ جانتے ہیں کہ یہ جنگ ابھی تک جاری ہے، ! جن امریکی عوام کو دہشت گردوں سے بچانے کیلئے یہ جنگ ( اور اس کے نتیجے میں پوری مسلم دنیا کے ممالک جنگ کی آگ میں جھونکے گئے) چھیڑی گئی ، وہ لاعلمی اور عدم دلچسپی کے کس عالم میں ہیں۔ یہ جو ہمارے ہاں تعلیم، معلومات ، شعور بارے احساس کمتری کی فصلیں کاشت کر کے سینہ کوبی کی جاتی ہے۔ خود کو اپنی قوم کو اجڈ، ان پڑھ باور کروایا جاتا ہے۔ حقیقت حال خود امریکی کی زبانی جان لیجئے۔ نقشے سے نابلد ہونے کا عالم تو یہ تھا کہ گوروں کے اس دیس میں ہم نے جب خود کو پاکستانی کہہ کر متعارف کروایا، عوام الناس کو مکمل لا علم پایا۔ اگرچہ امید ہے افغانوں نے اب کچھ نہ کچھ جغرافیہ ( روس کی طرح ) امریکیوں کو پڑھاہی دیا ہوگا۔ فوجی زخمیوں ، معذوروں، ذہنی مریضوں ، لاشوں کے ذریعے ورنہ پاکستان کو ہمیشہ وہ یہ کہتے : اچھا آپ کا مطلب ہے ہندوستان ! یہ تو جملہ معترضہ تھا۔ ڈیوڈ سوانسن کا مرثیہ جنگ یہ ہے کہ اس سے افغانستان کو پہنچنے والے نقصانات کا احاطہ کرنا بھی ناممکن ہے۔ امریکہ کی اخلاقی ذمہ داری صرف ایک ہے کہ وہ وہاں سے نکل جائے۔ بہ نسبت اس کے کہ وہ وہاں وارلارڈز سے یہ طے کرتا پھرے کہ افغان عوام کا مستقبل کیا ہوگا۔ یہ ایسے ہی ہے کہ میں آپ کا گھر توڑ کر اندر گھس آؤں۔ آپ کے اہل خانہ کو مار ڈالوں، فرنیچر توڑ دوں۔ اب میرا اخلاقی فرض یہ نہیں ہے کہ میں رات یہیں گزار کر مقامی گماشتوں سے آپ کی قسمت کا فیصلہ کرواؤں۔ میری اخلاقی اور قانونی ذمہ داری یہ ہے کہ میں نکل کر خود کو قریب ترین تھانے کے حوالے کر دوں! لیکن قریب ترین تھانہ ؟ عالمی عدالت انصاف سے یہ توقع کرنا کہ وہ امریکہ کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرے، عبث ہے! اس جنگ نے مصیبتوں کے مارے، افلاس زدہ ملک کو پہلے سے سوگنا بدتر حالت میں پہنچا دیا ہے۔ لاکھوں لوگ مارے گئے۔ آدھی دنیا کو ہلا مارا، مہاجرین کے شدید بحران سے دو چار کیا۔ ! جھوٹ ، دجل، فریب کی ماری دنیا میں یہ واشگاف حق کی گواہی! اللہ ڈیوڈ کو مکمل حق تک رسائی دے کر داؤد بنا دے۔ (آمین)! ورنہ مسلمان تو آج بھی اس پرائی جنگ اور اس جیسی مسلم دنیا پر برستی جنگوں کے کوڑے دم سادھے دیکھ رہا ہے۔ مشقِ ستم بننے والوں کو دہشت گرد قرار دے رہا ہے۔ مسلم دنیا کے بدلے طوفانوں کے ذریعے چکائے جا رہے ہیں۔ امریکہ کا سب سے بڑا بحران اڈا ( نارتھ کیرولینا میرین بیس)

طوفان فلورنس کی زد میں رہا۔ گھر برباد، بجلی فون معطل، رائٹر کی رپورٹ کے مطابق پانی کے سیلابی ریلوں، خوفناک طوفانی ہواؤں نے پیچھے ٹوٹے گھر، گری چھتیں، بدبو دار پانی چھوڑ دیا۔ جنکی بحالی کیلئے طویل وقت درکار ہے۔ ادھر ٹرمپ چین سے تجارتی جنگ بازی، افغان جنگ کے لاینحل مسئلے کے گدھے سے گر کر بے چارے کمہاروں پر غصہ نکال رہا ہے۔ کہاں شاہ سلمان کے ساتھ ریاض میں رقص کناں ٹرمپ، اربوں ڈالر کے تحفے وصول کرتا، اربوں ڈالر کے معاہدے کرتا، امریکیوں کی معاشی بحالی کے سنہرے سودے کرتا سعودی عرب میں کھکھلاتا (ہمارے سینوں پر مونگ دلتا) پھر رہا تھا۔ محمد بن سلمان اور ٹرمپ کے داماد کی گہری دوستی، اسرائیل کی راہیں ہموار کر رہی تھی۔ اور اب ؟ ٹرمپ گرجتا برستا سعودی شاہ کو دھمکا رہا ہے کہ تم امریکی پشت پناہی کے بغیر دو ہفتے بھی نہیں رہ سکتے۔ مشرق وسطیٰ میں اپنے قریب ترین اتحادی کی، تیل کی قیمتوں پر (82 سالہ) شاہ کی بانہہ مڑ ورتے ہوئے غرایا ہے کہ یہ تیل کی بھاری قیمت وصول کر کے ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ انہیں ہماری طرف سے حاصل عسکری، دفاعی تحفظ کیلئے اپنا حصہ ادا کرنا ہوگا۔ ٹرمپ کی نگاہ اب بھی مسلم وسائل پر جمی ہے۔ عالمی غنڈہ گردی میں امریکہ نیٹو روس کا کردار اب اظہر من الشمس ہے۔ بشارالاسد جیسے خونخوار جنگی مجرم کی شام میں پشت پناہی انسانیت کے خلاف گھناؤنا جرم ہے۔ شامی جیلوں کی رپورٹ ، ملک شام کی تباہی سے کچھ کم سنگین درندگی نہیں۔ صرف ستمبر میں 22 افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ انسانی حقوق کے اداروں کی رپورٹوں کے مطابق تشدد کے غیر انسانی ہتھکنڈے ، بیمار اور زخمی قیدیوں کو بلا علاج سسک تڑپ کر مرنے کیلئے چھوڑ دینا۔ 3 سالوں کے دوران 7 ہزار افراد کو جیلوں میں قتل کیا گیا۔ 80 ہزار افراد اسد کے حامی جتھوں نے جبری اغوا کر کے ہلاک کیا یا عقوبت خانوں میں ٹھونسا۔ چور مچائے شور۔ دہشت گردی کے اس دجل فریب تلے بڑی قوتوں نے انسانیت پر وہ ظلم ڈھائے ہیں۔ جن کیلئے قیامت پر ایمان خود بخود پیدا ہوتا ہے۔ وہ دن کیوں نہ آئے جب گن گن کر لمحے لمحے کی اذیت ، آہوں، کراہوں، دکھوں کا بدلہ چکایا جائے۔ بے گناہوں ، مظلوموں کی داد رسی تو بالآخر ہونی ہی ہے۔ یہ مناظر صرف شام کے تو نہیں۔ پوری مسلم دنیا کے اہل دین کو اس آزمائش کا سامنا ہے۔ جس میں عورتوں ، بوڑھوں کا بھی لحاظ نہیں۔ دو قومی نظریہ پوری دنیا میں دیکھا جاسکتا ہے۔ ظلم درندگی کو چھوتا نظام کفر، بالمقابل اہل حق (درمیان میں اپنی کھال بچانے والے ریوڑ در ریوڑ) سارے معرکے دو نظریات کے درمیان ہی ازل تا ابد رہے ہیں۔ اور رہیں گے۔ چراغ مصطفوی سے شرارِ بولہبی کی ستیزہ کاری سے کوئی دور خالی نہ تھا۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد مسلم دنیا کے مناظر، طریقِ واردات ، دنیائے مغرب کی نفسیات۔ کچھ بھی تو مختلف نہ تھا۔ پھر مسلم دنیا کے حصے میں آنی والی قیادتیں بھی آج جیسی ہی تھیں! صرف نام بدلتے رہے۔ نمونے کیلئے تیونس میں حبیب بورقیبہ کا ورود دیکھئے! 1930 ء میں فرانسیسی استعماری نشے میں چور شمالی افریقہ کی فتوحات کا 100 سالہ جشن منانے کو تیونس میں ( مسلمانوں کی حساسیت بھلا کر ) لاکھوں یورپی ، صلیبی سپاہوں( صلیبی جنگوں کی یاد گار) کی ہیت بنائے دار الحکومت میں آدھمکے۔ وہاں وہ مذہبی رسم (Eucharist) ادا کی جس میں ان کے عقیدے کے مطابق مسیح ؑ خود تشریف لاتے ہیں۔ مسلم عوام یوں دیدہ دلیرانہ اپنی زمین پر قومی جذبات مجروح ہونے پر بھنا کراٹھ کھڑے ہوئے۔ مظاہروں اور قوم پر ستانہ جذبات کا فائدہ اٹھا کر حبیب بورقیبہ نے مقبولیت حاصل کر لی۔ صالح بن یوسف کے مقابل سیکولر بورقیبہ کو استعمار نے پنپنے دیا کہ وہ کم تر برائی تھا فرانسیسیوں کی نظر میں ۔ جو فرانس ہی کا تعلیم یافتہ وہاں سے 1927 ء میں اپنی فرانسیسی گرل فرینڈ ( بیوی نہیں) اور اس سے اپنے بیٹے کے ساتھ تیونس آیا تھا۔ اپریل میں بچہ پیدا ہوا۔ اگست میں اس کی ماں سے شادی کی۔ قوت پکڑتے ہی تعلیمی نظام پر ہاتھ ڈالا۔ قرآن نکال کر مغربی سیکولر تعلیم نصابوں میں پرو دی۔ مارچ 1964 ء میں ٹیلی وژن پر ماہ رمضان کی دوپہر مالٹے کا جوس پیا اور اعلان کیا کہ روزہ ملک کی اقتصادی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ایک ایسی تقریر کی جو لبنانی اخبار میں چھپی۔ اس پر شیخ بن باز، سعودی مفتی اعظم نے اس پر ارتداد کا فتویٰ جاری کیا۔ سو کچھ بھی تو نیا نہیں۔ نہ ستیزہ گاہ جہاں نئی نہ حریف پنجہ فگن نئے، وہی مرجی وہی عنتری وہی خوئے اسد اللہی سو یوم التفا بن تک یہ امتحان تو جاری رہنا ہے۔ امتحان انفرادی ہے۔ ( گو نتائج بعض اوقات اجتماعی طور پر بھگتنے پڑ جاتے ہیں) اللہ کے حضور ادارے، جماعتیں کھڑی نہیں ہونگی۔ فرداً فرداً رب تعالیٰ کے حضور کھڑا ہونا ہے۔ منظر دیکھ لیجئے۔ صرف ایک سانس ، ایک ہچکی کا فاصلہ ہے۔ ’ اس وقت وہ کہیں گے، کاش ہم نے اللہ اور رسول ؐ کی اطاعت کی ہوتی۔ اور کہیں گے۔ ’ اے ہمارے رب ! ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی اطاعت کی اور انہوں نے ہمیں راہِ راست سے بے راہ کر دیا۔ اے رب انہیں دوہرا عذاب دے اور ان پر سخت لعنت کر۔ ( الاحزاب 66-68) ایسا نہ ہو خدانخواستہ: جنہیں منزلوں پہ خبر ہوئی کہ یہ راستہ کوئی اور ہے۔


ای پیپر