دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملا ل بھی
06 اکتوبر 2018 2018-10-06

اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان اس وقت ملک کے ہر دلعزیز لیڈر ہیں۔ عوام ان سے پیا ر کرتی ہے اور ان سے بے شمار امیدیں لگائے بیٹھی ہے۔ لیکن پیار و محبت میں ایک inbuilt نقص یہ ہوتا ہے کہ محب اپنے محبوب سے وہ وہ توقعات باندھ لیتے ہیں جن پر پورا اترنا اس کے بس میں ہی نہیں ہوتا ۔خان صاحب نے عوام کے دل میں اترنے کے لیے دہائیوں محنت کی ہے۔ بدقسمتی سے اپنے ملک میں وہ سیاستدان حکمرانی کرتے رہے ہیں جنہیں اپنے اور اپنے خاندان کے مفادات ہی عزیزتھے۔وہ اس غریب قوم کے پیسے لوٹ لوٹ کر ملک سے باہر جائیدادیں بناتے رہے اور اپنے خاندانوں کو وہاں settleکرتے رہے۔ ان کا طرز حکمرانی کچھ اس طرح آمرانہ تھا کہ ان کی اس لوٹ مار کی طرف انگشت نمائی کی کسی میں جرات نہیں تھی۔ خان صاحب اس ملک کے پہلے سیاستدان تھے جنہوں نے ان لوگوں کی لوٹ مار کا ذکر سر بازار کرنا شروع کر دیا ۔ ظاہر ہے اس سے عوام کی توجہ ان کی طرف ہوئی اور وہ ان کی باتیں سننے لگے۔ اس سے لوگوں کو اپنے لٹنے کا احساس ہونا شروع ہوگیا اور حکمرانوں کی لوٹ مار کے مختلف انداز سے آگاہی بھی ۔خان صاحب نے لوگوں کو ان کے حالات تبدیل کرنے کے خواب دکھائے جو انھیں اچھے لگے اور ان کے دلوں میں تبد یلی کی خواہش نے کروٹ لی ۔ لوگ ان کے پیچھے چل پڑے۔ اب ان کے پاس حکومت ہے اور قوم ان سے حالات تبدیل کرنے کی امیدیں لگائے بیٹھی ہے۔ یہ حالات کب تبدیل ہوں گے ، ابھی تک تو خواب ہی ہیں۔ظاہر ہے ابھی تو انہیں حکومت سنبھالے بمشکل ڈیڑھ ماہ ہی ہوا ہے، اس مختصر عرصہ میں بھلا کیا تبدیلی آ سکتی ہے لیکن لوگوں کے امید بھرے دلوں میں کسی وقت پریشانی کی لہر سی گزر جاتی ہے۔ اس کی وجہ ان کی نو آموز حکومت کے کچھ ایسے اقدام ہوتے ہیں جو لوگوں کی خان صاحب سے باندھی توقعات سے میل نہیں کھاتے۔ اگرچہ خان صاحب کی پارٹی کے لیڈران اور ان سے پیار کرنے والے متواتر یہی کہتے رہتے ہیں کہ سب ٹھیک ہو جائے گا ہمیں کچھ ٹائم تو دیں۔ہمیں کم از کم دو سال تو دیں پھر دیکھیں کہ ہم نے حالات تبدیل کیے ہیں یا نہیں۔بظاہر تو یہ بات صحیح لگتی ہے لیکن اس کائنات میں ہر عمل کا ایک نتیجہ ہوتا ہے۔ کسی بھی عمل کو دیکھ کر اس کے نتیجہ کے کچھ نہ کچھ قرائن تو نظر آ جا تے ہیں۔ یہ کیسے مناسب رویہ ہوگا کہ انسان کسی عمل کو دیکھ کر دم سادھے رکھے اور اس وقت کا انتظار کرتا رہے جب اس کے منفی نتائج سامنے آ جائیں۔ پھر تو وہی محاورہ یاد آئیگا ، اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ اب خان صاحب کی حکومت کے کچھ پہلووں پر نظر ڈالتے ہیں۔آپ جانتے ہیں ٹیم چاہے کسی کھیل کی ہو یاحکومت کی اس کی اہمیت سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتاکیونکہ نتیجہ تو ٹیم کی قابلیت اور کارکردگی کا مرہون منت ہوتا ہے۔خان صاحب نے ملک کے سب سے بڑے صوبہ یعنی پنجاب جہاں ان کی حکومت پہلی دفعہ معرض وجود میں آئی ہے اور جہاں انھیں ایک مضبوط اپوزیشن کا سامنا ہے کو محترم عثمان بزدار کے حوالے کر دیا ہے۔ عثمان صاحب بہت شریف النفس اور اعلیٰ شخصیت ہونگے لیکن ہر عہدہ کی ایک ob description j ا ور اس کے مظابق ایک مجوزہ اہلیت ہوتی ہے۔کیا ان کے پاس اس عہدہ کے لیے مناسب اہلیت ہے۔ وہی آمرانہ روش کہ پارٹی لیڈر جسے چاہے کسی سیٹ پر بٹھا دے سب خاموشی سے سر تسلی خم کریں گے۔اب تک کوئی نہیں جان سکا کہ انھیں کس criteria کے تحت چنا گیا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وہ ’’ استخارہ ’’ کا نتیجہ ہیں اور سچ پوچھیں یہ بات خان صاحب کے بہت نزدیکی حلقے کہہ رہے ہیں۔کیا دنیا کے کسی خطے میں یوں بھی حکومتیں کی جاتی ہیں۔ خان صاحب نے اپنے دوست ذلفی بخاری کو مشیر وزیر اعظم کا عہدہ تفویض کر دیا ہے جس کے متعلق خان صاحب نے خود ٹی وی پر کہا تھا کہ وہ تو پاکستان کا شہری ہی نہیں ہے ۔ تو خان صاحب نے ایک برطانوی شہری کو کیونکر پاکستانی حکومت کا عہدہ دے دیا ہے۔ چیف جسٹس پاکستان جو افسران کی بیویوں کی شہریت کی بھی چھان بین کر رہے ہیں نہ جانے کب اس کا نوٹس لیں گے۔اسی طرح عون چوھدری جو بنی گالا میں خان صاحب کے ذاتی سٹاف کا حصہ تھا اسے بھی پنجاب گورنمنٹ میں مشیر کا عہدہ دے دیا گیا ہے۔یہ تو وہی راہیں جن پر ہمارے ماضی کے سارے حکمران چلتے آئے ہیں۔کسی بھی حکومت میں وزیر اطلاعات کی اہمیت کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ خان صاحب نے اس عہدہ کے لیے اپنے ترجمان فواد چوہدری کو چنا ہے ۔

فواد چوھدری کا لا ابالی پن بھلے عمران خان کو اچھا لگتا ہولیکن لوگوں کا خیال ہے کہ وہ کسی صورت اس عہدہ کے لیے موزوں نہیں ہیں اور پارٹی کے لیے باعث نقصان ہوں گے ۔ سب سے بڑی پریشانی خان صاحب سے پیار کرنے والوں کو ان کی ٹیم کے معاشی اور مالی امور سے متعلق فیصلے ہیں۔سوئی گیس کی قیمتیں غیر معمولی طور پر بڑھا دی گئی ہیں۔

اس کی جتنی بھی توجیحات پیش کی جائیں لیکن یہ ایک امر واقع ہے کہ اس سے مہنگائی میں خاصا اضافہ ہوگا ۔ اسی طرح بجلی کی قیمتوں میں اضافہ بھی لوگوں کے لیے باعث پریشانی ہے۔ خان صاحب کی ٹیم کی کارکردگی دیکھ کر لوگ پر یقین ہیں کہ اگلے دنوں میں پٹرول کی قیمتیں بھی بڑھا دی جائیں گی۔حکومت کے آغاز ہی میں بے یقینی جیسی کیفیت پائی جاتی ہے۔ سٹاک مارکیٹ برے حالات میں ہے۔سرمایہ کاری ترقی معکوس کی طرف رواں دواں ہے۔ پاکستانی روپیہ کی قیمت روز بروز گر رہی ہے۔ حالات کچھ اس ڈگر پرچلتے نظر آ رہے ہیں کہ غریب عوام کا بھرکس ہی نکل جائے گا ۔ لوگ تو خان صاحب کی حکومت آنے پر بہت خوش تھے اور یہ امیدیں لگائے بیٹھے تھے کہ ملک ترقی کی راہوں پر چل نکلے گا لیکن لگتا ہے لوگ جو کہتے تھے کچھ صحیح کہتے تھے کہ تحریک انصاف نا تجربہ کاروں کا گروہ ہے حکومت چلانا ان کے بس میں نہیں۔در اصل خان صاحب چونکہ اچھے حالات میں پیدا ہوئے اور انھوں نے غریبوں کی زندگی کے جھمیلے نہیں دیکھے اس لیے انہیں ادراک ہی نہیں کہ غریبوں کے لیے سب سے اہم بات روزمرہ کی ضروریات کی ارزانی اور بااسانی دستیابی ہوتی ہے۔ انہیں گورنر ہاوس کی بیشک سیر نہ کرائیں ان کے لیے مہنگائی کم کر دیں، لیکن مہنگائی تو خان صاحب کی حکومت انتہائی سرعت سے بڑھا رہی ہے ۔ بے شمار روزمرہ کی اشیا پر ٹیکسز لاگو کر دئیے گئے ہیں ۔ یقین کریں ہر طرف مہنگائی ہی مہنگائی دامن پھیلائے نظر آ رہی ہے۔ اینٹوں کے ریٹ دنوں میں بڑھے ہیں۔ کنسٹرکشن سے متعلق دوست بتا رہے تھے کہ انہی دنوں کنسٹرکشن کے ریٹ تقریباً بیس فیصد بڑھ گئے ۔ سچ پوچھیں یوں لگتا ہے کہ خان صاحب کو اس با ت کی فہم ہی نہیں ہے کہ ملک کے معاشی حالات بگاڑ کی طرف چل رہے ہیں اور بگاڑ ہے کہ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ انہیں چاہیے کہ فوراً حالات کا خود نوٹس لیں کیونکہ ابھی تو آغاز ہی ہے اور حالات کو سنبھالا جا سکتا ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ بات وہاں پہنچ جائے جہاں سے واپسی ناممکن ہو جائے۔ خدانخواستہ اگر ایسا ہوا تو اس ملک کے عوام پھر کسی پر اعتماد نہیں کریں گے۔سچ پوچھیں عام آدمی تو پہلے بھی اس ملک کے سیاستدانوں سے مایوس ہو چکا تھا ۔ عام لوگ تو ووٹ کاسٹ کرنے کو بھی ایک فضول مشق اور کام سمجھتے تھے لیکن خان صاحب نے لوگوں کو انتہائی کامیابی سے سہانے خواب دکھائے اور لو گو ں نے ان پر اعتماد کیا ۔ میں کئی لوگوں کو جانتا ہوں جو ووٹ کاسٹ نہیں کرتے تھے لیکن خان صاحب کی محبت میں وہ خود پولنگ سٹیشنز پر جا پہنچے۔ خان صاحب کو معلوم نہیں کہ ان کی ناکامی اس ملک کے بہت سے لوگوں کے خوابوں کا قتل ہوگا اور پھر عوام انہیں معاف نہیں کرے گی۔ خان صاحب کو عوام کے رد عمل سے خوف کھانا چاہیے۔


ای پیپر