اندھی گولی
06 اکتوبر 2018 2018-10-06

ہم اک ایسی ریاست کے باسی ہیں جس کا تحریری آئین بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے ہمیں یہ بھی سہولت میسر ہے کہ حقوق کی عدم ادائیگی کو جواز بنا کر ہم در عدالت پے دستک بھی دے سکتے ہیں۔عام آدمی کے لیے ہم عرض کیے دیتے ہیں کہ مذکورہ حقوق میں جان مال، عزت و آبرو کے تحفظ کے حقوق شامل ہیں۔ علاوہ از یں تعلیم، صحت کی بلاامتیاز ہر شہری کو فرہمی بھی اس کا حصہ ہے، لہٰذا آپ جب ان کی پامالی ہوتے دیکھیں تو عدالت سے فوراً رجوع کرلیں اس کے بعد آپ کو کب اور کتنا ریلیف ملتا ہے، اس کا فیصلہ عدالت پے چھوڑ دیں۔ ہمارا قومی رویہ تو یہی ہے کہ ہم زیادہ فیصلے اوپر والی عدالت پے چھوڑ دینے کے عادی ہیں جس سے زمین پے موجو دعدالتوں کے منصفین کے حوصلے بلند ہو جاتے ہیں ۔

کراچی کے رہائشی اک جوڑے نے اپنی نو عمر لڑکی کی حادثاتی ہلاکت کو اللہ کی رضا سمجھا لیکن انہوں نے اپنا مقدمہ صرف بڑی عدالت میں درج کرانے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ہر فورم پر صدائے احتجاج بلند کی ہے تاکہ آئندہ کوئی آزادشہری ریاستی اداروں کی بے رحم گولی کا نشانہ بنے۔ امرواقعہ یہ ہے کہ ماہ اگست میں عمر عادل اپنی زوجہ بینش اور دو بچیوں کے ساتھ کسی تقریب میں شرکت کیلئے جارہے تھے کہ گن پوائنٹ پر ان کی گاڑی روک لی گئی مال و متاع لے کر ڈکیٹ تو رخصت ہوا مگر اس واردات کے تناظر میں اک گولی سکیورٹی فورسز کی بندوق سے نکلی اور گاڑی میں موجود بچی کو جالگی زخمی حالت میں والدین اپنی صاجزادی کو لیے شاہراہوں پے گھومتے رہے کہیں قانون تو کہیں ایمبولینس کی عدم دستیابی آڑے آتی گئی اور نو عمر اپنا مقدمہ لے کر اللہ کے حضور حاضر ہوگئی ۔ تعلیم یافتہ والدین نے اپنی آواز میڈیا کے ذریعہ بلند کی بہت سے حلقوں میں ان کی صدا پر کان دھرے گئے۔ اس پس منظر میں جو اعداد و شمار عیاں ہوئے وہ ہماری قومی پسماندگی اور بیچارگی کی کھلی تصویر ہے۔

کراچی جیسے بڑے ،تعلیم یافتہ مگر بے ہنگم شہر میں زندگی اتنی ارزاں ہے کہ کئی ہلاکتیں دن کی روشنی اور بھرے بازار میں اس لیے وقوع پذیر ہوتی ہیں کہ انہیں بر وقت طبی امداد نہیں مل پاتی حتیٰ کہ شدید زخمی افراد کو بروقت ہسپتال پہنچانے کی سہولت بھی دستیاب نہیں ہوتی۔ عمومی طور پر سمجھا تو یہی جاتا ہے کہ ایدھی سروس تمام فرائض انجام دے رہی ہے مگر یہ سروس محض مریضوں کو ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ اس سانحہ کے بعد امن فاؤنڈیشن کے ترجمان نے جو نقشہ کھینچا ہے وہ کم از کم مہذب ریاست کا تو بالکل نہیں ہوسکتا۔بقول ان کے دوکروڑکی آبادی والے شہر میں صرف 60ایمبولینس مریضوں کو ابتدائی طبی امداد دینے اور ہسپتال پہنچانے میں ہمہ وقت مصروف رہتی ہیں۔ ہر دو منٹ کے بعد کراچی کی کسی نے کسی شاہراہ پر کوئی شہری حادثہ کاشکار ہوکر شدید زخمی ہوجاتا ہے ان کا ادارہ سرتوڑ کوشش کے باوجو د صرف 300جانیں بچا سکتا ہے اور 800سے زائد زخمی افراد کو ایمبولینس کی کم تعداد کی بنا پر ا ن کے رحم و کرم پے چھوڑنے پے مجبور ہے اتنے بڑے شہر کے لئے صرف 4سرکاری ہسپتال موجود ہیں۔

نہیں معلوم اس ناگہانی صورت پر ہمارا آئین کیا کہتا ہے اور شہری حقوق کن ریاستی ا داروں نے ادا کرنے ہیں جو اس میں رقم ہیں اگر ایسا نہیں ہورہا تو ذمہ داری کس پر عائد کرنا ہے ؟ مجموعی طور پر اگر دیکھا جائے تو صحت کی سہولیات کا معیار اتنا بھی قابل رشک نہیں ہے۔ دستیاب ذرائع کے مطابق آج بھی چھ ہزار افراد کیلئے ایک ڈاکٹر کی سہولت موجود ہے جب ڈاکٹر ہی اتنی کم تعداد میں ہیں تو پھر ادویات اور بیڈ کی دستیابی کا سوال کیا اٹھانا ؟ ارض پاک کی بیس کروڑ آبادی کے لیے ایک لاکھ ستر ہزار سے تعدادڈاکٹرز کی ہے جن میں سپیشلسٹ کی تعداد آبادی کے تناسب کے لحاظ سے آٹے میں نمک کے برابر ہے ۔ ڈینٹست ڈاکٹر کی تعداد تو چھ ہزار ہندسہ بھی عبور نہ کرسکی۔ ارباب اقتدار کی اس غفلت ، فائدہ وہ اتائی مافیا اٹھا رہا ہے جو ہماری دیہی آبادی میں ڈاکٹر بن کر بیٹھ گیا ہے جس کے علاج معالجہ سے نئی بیماریاں دریافت ہورہی ہیں ا ن میں سے ایک ہیپا ٹائٹس کی بھی ہے اس کو فروغ دینے میں دندان سازوں کا بڑا ہاتھ ہے جو بغیر تربیت اور ڈگری کے ’’ بڑے ڈاکٹر‘‘ بن بیٹھے ہیں۔

پنجاب میں ایمر جنسی سروس اور موبا ئل ہیلتھ یونٹ کی بدولت صورت حال قدرے بہتر ہے لیکن آبادی کے تناسب سے ڈاکٹرز کی تعداد قابل رشک قطعی نہیں ۔ اس کی بڑی وجہ بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ ساتھ طب کی تعلیم کو فروغ نہ دینا شامل ہے اگر آبادی کے تناسب کے حساب سے میڈیکل کالجز کی تعداد میں اضافہ کیا جاتا تو آج ہر بستی اور دیہات میں ڈاکٹرز فراہم کیے جاسکتے تھے۔ ا ن کالجز میں داخلہ پالیسی بھی بعض مسائل کو جنم دے رہی ۔ انٹری ٹیسٹ سے قبل میرٹ کی بنیاد پر داخلہ سے مقامی افرادی قوت شعبہ طب کو میسر آجاتی تھی۔ انٹری ٹیسٹ پر بہت سے شعبہ ہائے زندگی تحفظات کا اظہار کرچکے ہیں اور یہ رائے رکھتے ہیں کہ اکیڈمی مافیاز کو نوازنے کی راہ نکالی گئی ہے، دوسرا میرٹ پالیسی کے ما بعد اثرات پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ میرٹ کی بنیاد پر پنجاب کے کسی بھی دور دراز علاقہ میں میڈیکل کا لج میں داخل ہونے والا طالب علم حصول علم کے بعد اپنے آبائی علاقہ یا بڑے شہر کا رخ کرے گا یوں ڈاکٹرز کی بڑی تعداد بڑے شہروں میں براجماں ہوتی رہے گئی اس کی بجائے اگر ڈویژن کی سطح پر مقامی طلباء وطالبات کیلئے میرٹ ہی کی بنیاد پر کوٹہ مختص کردیا جائے تو یہ فارغ التحصیل ہونے کے بعد اپنے ہی خطہ میں انسانی خدمت پر مامور ہوں گے جس سے مقامی آبادی کو طب کی معیاری سہولت مل سکے گی۔

چند ماہ قبل بچوں کی شاہراہ پر پیدائش اور ایک بیڈ پر مریضوں کی تعداد کے اعتبار سے خبریں گردش کرتی رہی ہیں۔ جو اس بات کی غماز ہیں کہ آئین کے فراہم کردہ حقوق کی کس انداز میں پامالی کا سلسلہ ارباب اختیار کی ناک کے نیچے رواں رہا۔

امسال بھی قریباً چھیاسٹھ ہزار طلباء وطالبات میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں میں داخلہ کیلئے انٹری ٹیسٹ میں شریک ہوئے جبکہ داخلہ صرف تین ہزار سے زائد امیدواران کا مقدر ٹھہرے گا۔ عوامی حلقے یہ رائے بھی رکھتے ہیں کہ ان کالجز میں ڈبل شفٹ چلا کر نشستوں کی تعداد کو دوگنا کردیا جائے کیونکہ ہسپتالوں میں مریض تو 24گھنٹے موجود ہوتے ہیں آبادی کے تناسب سے ڈاکٹرز اور کالجز کی تعداد میں اضافہ حالات کا تقاضا ہے بالخصوص ڈینٹل ڈاکٹرز کی تعداد میں اضافہ ہی سے اتائی مافیا سے نجات ممکن ہے۔تجارتی بنے نظام تعلیم میں پرائیویٹ میڈیکل کالجز میں داخلہ پالیسی سماج میں ایک نئی کلاس کو فروغ دینے کا سبب ہے،گرانی کے اس عہد میں60 لاکھ رزق حلال سے متوسط طبقہ کیسے ادا کر سکتا ہے؟ اس کے باوجود ارض پاک کے تمام صوبہ جات میں صحت کی سہولیات قابل ذکر نہیں ہیں اس بنیادی حقوق کی فراہمی تو حکمرانوں کی ترجیحی ہونی چاہیے تھی ۔ان کی اس غفلت نے کراچی کے والدین کو اس مقام پے لاکھڑا کیا ہے ان کی بیٹی بر وقت طبی امداد نہ ملنے کی بدولت ان کے ہاتھوں میں دم توڑ گئی اور ایک اندھی گولی نے ریاستی نظام کا پول کھول دیا۔ یہ جوڑا اس حادثہ کو نظام کی ناکامی سے تعبیر کررہا ہے۔

مغربی نظام کی مثالیں پیش کرنیوالے اور تبدیلی کا علم اٹھائے نو منتخب وزیراعظم آئین میں فراہم کردہ بنیادی حقوق کے تحفظ کو اس حد تک تو یقینی بنائیں کہ آئندہ انہیں کسی شہری سے نظام کی ناکامی کا طعنہ دوبارہ نہ سننا پڑے۔


ای پیپر