نوبل انعام کیلئے پہلی عراقی خاتون نادیہ مراد اور کانگو کے ڈینس کے ناموں کا اعلان 
06 اکتوبر 2018 (17:24) 2018-10-06

اوسلو:ناروے کی نوبل امن انعام دینے والے کمیٹی کے مطابق رواں برس کے انعام کا حقدار عراق کی سرگرم کارکن نادیہ مراد باسی اور افریقی ملک کانگو میں استحصال کی شکار خواتین کا علاج کرنے والے معالج ڈاکٹر ڈینس مروکویجے کو مشترکہ طور پر دیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق دونوں شخصیات اس اعزاز کیلئے پہلے سے فیورٹ قرار دی جا رہی تھیں۔ نوبل کمیٹی کے مطابق رواں برس کے امن پرائز کیلئے کل 331 نامزدگیاں حاصل ہوئیں، جن میں شخصیات اور ادارے بھی شامل تھے۔یاد رہے کہ نادیہ مراد کا تعلق عراق کے اقلیتی یزیدی فرقے سے تعلق ہے۔ جب اس کی عمر 19 سال تھی، اس کے گاں پر داعش نے حملہ کیا اور 600 افراد ک وہلاک کر دیا جن میں نادیہ کی ماں اور چھ بھائی بھی شامل تھے، جب کہ گاؤں کی بہت سی غیر شادی شدہ لڑکیوں کو کنیزیں بنا کر جنگجوؤں میں تقسیم کر دیا گیا۔

اس سال داعش نے 6,700 یزیدی خواتین کو اغوا کیا، جن میں نادیہ بھی شامل تھی۔ اسے موصل شہر میں لونڈی کے طور پر رکھا گیا مارا پیٹا گیا، سگریٹ کے ساتھ جلایا گیا اور بھاگنے کی کوشش پر اجتماعی جنسی تشدد کیا گیا۔ نادیہ کو قیدی بنانے والے شخص نے جب اسے گھر میں آزاد چھوڑا تو یہ وہاں سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گئی۔اگست 2018ء میں نادیہ نے یزیدی کارکن عابد شمدين سے منگنی کی۔ نادیہ مراد نے اپنی داستان ’’آخری لڑکی: میری اسیری اور دولت اسلامیہ سے جنگ کی کہانی‘‘ نامی کتاب میں بیان کی جو 2017ء میں شائع ہوئی تھی۔


ای پیپر