احتساب عدالت نے شہباز شریف کا 10دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا 
06 اکتوبر 2018 (12:19) 2018-10-06


لاہور: آشیانہ ہاؤسنگ کیس میں گرفتار سابق وزیراعلیٰ پنجاب، مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائدِ حزب اختلاف شہباز شریف کو احتساب عدالت میں پیش کر دیا گیا جہاں نیب پراسیکیوٹرکی طرف سے 10 سے 14 دن کے جسمانی ریمانڈ کے مطالبہ پر احتساب عدالت نے ان کا 10دن کا ریمانڈ منظور کر لیا۔ اب انہیں 16اکتوبر کو عدالت میں پیش کیا جائیگا ۔


سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو احتساب عدالت کے جج نجم الحسن کی عدالت میں پیش کیا گیا جبکہ امجد پرویز اور اعظم نذیر تارڑ کو اُن کا وکیل مقرر کیا گیا ہے۔نیب ذرائع کے مطابق احتساب عدالت لے جانے سے پہلے شہباز شریف کاطبی معائنہ کیا گیا اور ڈاکٹرز نے انہیں مکمل فٹ قرار دیا۔ شہباز شریف کی پیشی کے موقع پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں. احتساب عدالت کے گرد پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے اور عدالت آنے والے راستے بند کر دئیے گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق نیب عدالت میں آج کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو داخلے کی اجازت نہیں اور نہ ہی میڈیا کو کوریج کی اجازت ہے۔ یاد رہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) لاہور نے گزشتہ روز سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو صاف پانی کیس میں طلب کیا تھا تاہم اُن کی پیشی پر انہیں آشیانہ اقبال ہاؤسنگ کیس میں کرپشن کے الزام میں گرفتار کر لیا تھا۔

شہباز شریف کی گرفتاری کے بعد نیب لاہور کی جانب سے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو خط لکھا گیا جس میں ڈی جی نیب لاہور کی اسپیکر سے ٹیلی فون پر گفتگو کا حوالہ دیا گیا. اس خط میں پنجاب لینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی (پی ایل ڈی سی) کے خلاف تحقیقات کا ذکر ہے۔گزشتہ روز شہباز شریف کی گرفتاری کی خبر ملتے ہی مسلم لیگ (ن) کے کارکن لاہور نیب دفتر کے باہر پہنچے اور شہباز شریف کے حق میں اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی جس پر نیب لاہور کے باہر سیکیورٹی بڑھاتے ہوئے رینجرز کے دستے تعینات کر دیئے گئے۔

نیب ذرائع کا کہنا تھا کہ آشیانہ ہاؤسنگ سکینڈل کیس میں فواد حسن فواد مبینہ طور پر وعدہ معاف گواہ بن چکے ہیں، آخری پیشی کے موقع پر شہباز شریف اور فواد حسن فواد کو آمنے سامنے بٹھایا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق فواد حسن فواد نے شہباز شریف سے مکالمے کے دوران کہا کہ میاں صاحب جس طرح آپ کہتے رہے میں کرتا رہا۔انہوں نے اپنے تحریری بیان میں اعتراف کیا کہ جو کچھ کیا شہباز شریف کے کہنے پر کیا۔ پوچھ گچھ کے دوران شہباز شریف کے سامنے 3 فائلیں رکھی گئیں لیکن وہ تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔


ای پیپر