پولیس و سول افسران اور سیاسی مداخلت !
06 اکتوبر 2018 2018-10-06

آج کل پنجاب پولیس میں اصلاحات کے بڑے چرچے ہیں۔ اصلاحات تو دور کی بات ہے پنجاب میں پولیس کے معاملات پہلے سے زیادہ تباہ کن ہوتے جا رہے ہیں۔ ان ” اصلاحات “ کی ابتداءڈی پی او پاکپتن کو بغیر کیس انکوائری کے فوری طور پر تبدیل کرنے کے ناجائز احکامات سے ہوئی تھی۔ یہ احکامات بظاہر شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار، اور اپنے مفا دات اور مقاصد کے لئے غلاظت کی ہر حد پار کر جانے والے رسوائے زمانہ پولیس افسر (اُس وقت کے آئی جی پنجاب) کلیم امام نے دیئے تھے۔ لیکن اس معاملے کے از خود نوٹس کی سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران سامنے آنے والے حقائق اور ایک انتہائی نیک نام اور باکردار پولیس افسر خالق داد لک کی اِس واقع پر سپریم کورٹ میں جمع کروائی جانے والی انکوائری رپورٹ کے مطابق اِن احکامات کے پیچھے پنجاب کے اُس وزیر اعلیٰ کا پریشر تھا جس کی اہلیت پر سوالیہ نشانات دِن بدن بڑھتے جا رہے ہیں۔ پچھلی تاریخ پر اُس نے سپریم کورٹ سے معافی مانگ لی تھی۔ محترم چیف جسٹس آف پاکستان اُسے معاف کرتے ہیں یا نہیں؟ یہ تو وہی بہتر جانتے ہیں۔ ہم تو صرف اتنا جانتے ہیں اِس وزیر اعلیٰ کو اللہ نے اُس کی اوقات سے بہت بڑھ کر نوازا ہے تو اللہ کی شکر گزاری کا صرف ایک ہی راستہ اس کے پاس ہے وہ ہر معاملے میں انصاف کرے۔ ورنہ سپریم کورٹ کے محترم چیف جسٹس تو شاید اُسے معاف کر دیں، اللہ شاید نہ کرے۔ ہم تو دعا گو ہیں آگے آگے وہ کچھ نہ ہو جو پیچھے پیچھے ہوتا آیا ہے۔ جس کے نتیجے میں قومی ادارے تباہی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں۔ جہاں تک پنجاب میں پولیس اصلاحات کا تعلق ہے میری اطلاع کے مطابق اُس میں سب سے زیادہ اہمیت کی حامل شق یہ رکھی گئی ہے۔ پولیس میں سیاسی مداخلت ختم کی جائے گی۔ کبھی کبھی مجھے اپنے حکمران سیاستدانوں پر بڑی حیرت ہوتی ہے۔ ہمارے کچھ اقتدار پسند جرنیل یا ججز سیاست کو غلاظت کا ڈھیر قرار دیں تو بات سمجھ میں آتی ہے، وہ یہ چاہتے ہیں اِس ملک پر صرف اُن کا ” قبضہ“ جاری و ساری رہے۔ اس مقصد کے لیے سیاست اور سیاستدانوں کو مختلف طریقوں اور حربوں سے بدنام کرنا وہ اپنے فرائض بلکہ ایمان کا باقاعدہ حصہ سمجھتے ہیں۔ لیکن جب سیاستدان خود سیاست کو غلاظت سمجھیں اُن کی عقل کا کوئی کیا علاج کرے؟ اِس ملک میں صرف سیاستدان ہی غلط ہیں؟ یہ جو افسران ہیں یہ ” فرشتے “ ہیں؟ ہمارے محترم وزیر اعظم مختلف اداروں خصوصاً پولیس میں سیاسی مداخلت کے بظاہر بڑے خلاف ہیں۔ اِس حوالے سے اُن کا کوئی نہ کوئی بیان روزانہ ہمیں پڑھنے اور سننے کو ملتا ہے۔ ان کی تقلید میں اُن کے وزیر مشیر بھی یہی راگ مسلسل الاپتے ہیں ” سیاسی مداخلت نہیں ہونی چاہئے“ اپنے اِس عمل سے وہ اصل میں یہ ثابت کر رہے ہوتے ہیں کہ سیاستدان ہمیشہ غلط سفارش کرتے ہیں۔ دوسری اہم بات یہ ہے اداروں میں صِرف ” سیاسی مداخلت “ ختم کرنے پر ہی کیوں زور دیا جاتا ہے؟ یعنی اگر تقرریوں تبادلوں یا اِس نوعیت کے دیگر اہم معاملات میں فوجی یا عدالتی مداخلت ہو وہ جائز ہے؟ سفارش کسی کی بھی ہو ہمارے کلچر بلکہ ہماری فطرت کا باقاعدہ ایک حصہ ہے۔ کسی بھی قسم کی سفارش کو برا سمجھنے والے وزیر اعظم ، وزراءاور افسران وغیرہ کے معاملات کی باقاعدہ چھان بین کی جائے اُن کی یہ منافقت کھل کر سامنے آجائے گی وہ خود کِسی نہ کسی سفارش پر ہی اتنے اہم عہدوں پر تعینات ہوئے ہیں۔ ہمارے محترم وزیر اعظم کا بس چلے وہ شاید یہ قانون ہی بنا دیں کہ قومی اداروں میں صِرف سیاسی مداخلت ناجائز ہے۔ اُس کے مقابلے میں فوجی یا عدالتی مداخلت ” عین عبادت “ ہے۔ اگر اداروں کو سیاسی مداخلت سے پاک کرنا ہے پھر مختلف محکموں میں وزیر شذیر کیوں بنائے جاتے ہیں؟ خود سیاسی وزیر اعظم کی قومی اداروں میں مداخلت کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟ اِس ملک کا اصل بیڑا غرق تو کچھ انتہائی بدنیت ، بدمست، بدبخت اور بدکردار افسروں نے کیا ہے۔ وہ نا اہلی اور کرپشن کے ” کوہ ہمالیہ “ ہیں اِس ملک کی اصل تباہی اتنی سیاسی مداخلت سے نہیں ہوئی جتنی اِن افسروں کی سوچ ، عمل اور کردار سے ہوئی ہے۔ ہمارے ہاں یہ بھی المیہ ہے انتہائی جائز کاموں کے لئے سفارش کو بھی ” مداخلت “ سمجھا جاتا ہے۔ ہماری 80 فیصد بیورو کریسی عرف ” بُرا کریسی“ انتہائی مردم بیزار اور ظالم افسران پر مشتمل ہے۔ اگر کوئی عام آدمی ایسے مردم بیزار افسر کے پاس اپنے کسی جائز کام کے لئے چلا جائے اور وہ افسر اُس سے ملنا تک گوارا نہ کرے، پھر وہی عام آدمی اپنے علاقے کے کسی کونسلر، کسی ایم پی اے، ایم این اے کو ساتھ لے کر جائے اور وہ افسر اُسے کرسی پر بٹھا کر اُس کی
بات سُن لے تو یہ ” سیاسی مداخلت “ کِس حد تک بُری ہے؟ ہمارے اکثر افسران سیاسیوں اِس جائز عمل کو بھی اپنے کام میں” مداخلت “ ہی سمجھتے ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے موجودہ سیاسی حکمران ایسی جائز مداخلت کو ختم یا کم کر کے پورے سسٹم پر یو این او مِشن اور کمیشن پسند سی سی پی او لاہور بشیرے ناصر ایسے مردم بیزار اور ظالم پولیس افسران کی اجارہ داری قائم کرنا چاہتے ہیں۔ جبکہ کرنے کا اصل کام یہ ہے ایسے فضول افسران پر فیلڈ پوسٹنگ کی مکمل طور پر پابندی عائد کر کے انہیں مستقل طور پر یو این او مشن کے لئے وقف کر دینا چاہئے۔ پنجاب پولیس کے اس وقت جو حالات ہیں مجھے یوں محسوس ہوتا ہے۔ اَس میں صرف جے سوریے ہی جے سوریے رہ جائیں گے۔ انسانی شکل کوئی دکھائی ہی نہیں دے گی۔ سی سی پی او لاہور اپنی طرف سے خود بخود ہی بڑا ایماندار ہے۔ ایسی ایمانداری سے اپنا ایمان تو مکمل طور پر اُٹھتا جا رہا ہے جو کسی مظلوم کے کام ہی نہ آئے۔ اُس سے وہ بے ایمان افسران ہزار درجے بہتر ہیں جو اپنے دروازے مظلوموں اور عام لوگوں پر کُھلے رکھتے ہیں۔ کاش کوئی طاقتور وزیر اعلیٰ پنجاب میں ہوتا وہ اِس سی سی پی او لاہور سے پوچھتا ” جب سے تم اِس عہدے پر تعینات ہوئے ہو اب تک کتنے مظلوموں کی فریادیں سُنی ہیں؟ عام لوگوں کی کتنی درخواستیں نمٹائی ہیں؟ اپنے ماتحتوں کی کتنی اپیلیں سُن کر اُس پر کوئی فیصلہ دیا ہے یا اُن کے ساتھ انصاف کیا ہے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ لاہور پولیس کے انتہائی بگڑے ہوئے معاملات درست کرنے کے لئے کیا اقدامات کئے ہیں؟ اور اُن اقدامات کے نتائج کیا نکلے ہیں؟ صِرف پولیس میں نہیں اکثر سِول افسران بھی عام لوگوں کے لئے ” بشیرے ناصر “ ہی ہوتے ہیں اور ایسے ہی پھن پھیلائے ہوئے ہیں۔ حال ہی میں تعینات ہونے والے چیف سیکرٹری پنجاب یوسف نسیم کھوکھر کی لوگ بہت تعریف کرتے ہیں۔ اُن کی دیانتداری کے بارے میں تو میں زیادہ نہیں جانتا اُن کی انسان دوستی کے قصے مگر زبان زد عام ہیں۔ کاش ایسی ہی تقرری پنجاب پولیس میں بھی ہوئی ہوتی۔ یہاں تو سنیارٹی کا خیال بھی نہیں رکھا گیا۔ خالی ایمانداری کو کسی نے چاٹنا ہے؟گزارش بس اتنی سی ہے قومی اداروں کو ہر قسم کی جائز ناجائز سیاسی مداخلتوں سے پاک کرنا ضروری ہے تو پہلے اِس عمل کو یقینی بنایا جائے کہ قومی اداروں خصوصاً فیلڈ میں صِرف اور صرف ایسے افسروں کو تعینات کیا جائے جو محض اپنی دیانتداری کا ڈھول ہی نہ پیٹتے رہیں۔ وہ رحم دِل بھی ہوں۔ انسان دوست بھی ہوں۔ پاکستان سے حقیقی محبت کرنے والے ہوں۔ تکبر غرور ایسی بدعتوں سے مکمل طور پر پاک ہوں۔ اگر یہ نہیں ہوگا باقی سب کہانیاں ہیں بابا!!!


ای پیپر