Nawaz Sharif,PMLN,PTI,PDM,PPP,Imran Khan,Bilawal Bhutto
06 نومبر 2020 (18:44) 2020-11-06

کراچی :بلاول بھٹو زرداری نے نیا پنڈورا باکس کھول دیا ،، متحدہ اپوزیشن اتحاد  میں نئے اختلافات سامنے آگئے ،برطانوی نشریاتی ادارے کو دیئے انٹرویو میں بلاول بھٹو نے بتایا پی ڈی ایم کی تشکیل کے وقت اتفاق رائے سے طے پایا تھا کسی ایک ادارے کا نہیں بلکہ لفظ اسٹیبلشمنٹ کہا جائے گا،اس لیے گوجرانوالہ جلسے میں جب نوازشریف نے براہ راست نام لیے تو انہیں "دھچکا "لگا کیونکہ عام طور پر ہم جلسوں میں اس طرح کی بات نہیں کرتے۔  

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے پی ڈی ایم جلسوں میں  فوجی قیادت کا نام لینے کو  نوازشریف کا ذاتی فیصلہ  قرار دے دیا ، بلاول بھٹو کا کہنا تھا انہیں بھی انتظار ہے جو الزامات نواز شریف نے لگائے ہیں وہ ان کے ثبوت کب لائینگے ،پی ڈی ایم کا ہرگز یہ مطالبہ نہیں کہ فوجی قیادت عہدے سے دستبردار ہو جائے ۔

بلاول بھٹو نے واضح کیا کہ پی ڈی ایم کا ہرگز یہ مطالبہ نہیں کہ فوجی قیادت عہدے سے دستبردار ہو جائے ،ان کے نزدیک عمران خان کی حکومت لانے کی ذمہ داری کسی شخص پر نہیں ڈالی جا سکتییہ الگ بات کہ موجودہ حکومت عوام کا اعتما کھوچکی ہے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا ہے نواز شریف کی اپنی جماعت ہے وہ  انہیں کنٹرول نہیں کرسکتے نہ ہی نوازشریف انہیں کہہ سکتے ہیں کہ وہ کیسے بات کریں ؟ کراچی میں کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی گرفتاری سے متعلق سوال پر بلاول  بھٹو نے کہا اس معاملے پر ان کا آرمی چیف سے دوبارہ رابطہ نہیں ہوالیکن یہ علم ہے کہ اس معاملے پر انکوائری چل رہی ہے، انہیں  یقین ہے کہ اس پر تحقیقات مکمل کی جائیں گی اور قصوروار افراد کا تعین کر کے انھیں سزا بھی دی جائے گی، اب  تک وہ صبر سے انتظار کر رہے ہیں کہ انہیں اس انکوائری سے متعلق آگاہ کیا جائے۔


ای پیپر