WHO,open schools,lockdown,Europe,epidemic
06 نومبر 2020 (18:26) 2020-11-06

برسلز:عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ یورپ میں گزشتہ چند دنوں میں دس لاکھ لوگ عالمی وبا کا شکار ہوئے ہیں اور یورپ کے مکمل لاک ڈائون سے اس وبا پر قابو پانے کی کوشش کی جا سکتی ہے لیکن اس ساری صورتحال میں سکولوں کو کھلا رکھا جائے کیونکہ اس وبا کی وجہ سے ہم ایک پوری نسل تباہ ہونے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)نے بتایاکہ برطانیہ میں ایک بار لاک ڈان عائد کر دیا گیا۔ یونان میں اس کا اطلاق ہفتے کے روز سے ہو گا جب کہ اٹلی اور قبرص کرفیو لگانے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ریجنل ڈائریکٹر ہینس کلوگ نے ایک بیان میں کہا کہ یورپ میں گذشتہ چند روز کے دوران دس لاکھ نئے کیسوں کا اندراج ہوا۔ اسی طرح فوت ہونے والے افراد کی تعداد میں بھی بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔اس بات کا کوئی جواز نہیں کہ اسکولز اس متعدی وائرس کے منتقل ہونے کا ایک اہم عامل ہے۔ ہمیں آخر تک اسکولوں کو کھلا رکھناچاہیے اس لیے کہ ہم کوویڈ 19 کے سبب ایک نسل برباد ہونے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

یاد رہے کہ یورپ میں کرونا وائرس کے متاثرین کی تعداد میں یک دم اضافے کے سبب وہاں کے ممالک کی حکومتوں کی جانب سے حفاظتی تدابیر سخت کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔یورپ کی معیشت 2022 تک کرونا سے پہلے کی سطح پر واپس آئے گی۔ تاہم اس حوالے سے چھائے ابہام کے بادلوں نے معیشت کی صورت حال کی بہتری کو خطرے میں ڈالا ہوا ہے۔


ای پیپر